مفتی تقی عثمانی پر حملہ، علم اور تہذیب پر حملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم علم، تقوی امن، شائستگی اور تہذیب کی علامت ہیں۔ کسی کو کبھی کوئی اذیت کیا پہنچائی ہوگی شاید کبھی سخت سست بھی نہ کہا ہو۔ مفتی صاحب کا اوڑھنا بچھوناعلم ہے درس وتدریس ہے تحقیق و جستجو ہے وعظ و نصیحت ہے تفسیر قرآن ہے حدیث ہے فقہ ہے اور دارالعلوم کراچی ہے۔ علمی دنیا میں عالم اسلام کے بلند پایہ متبحرعالم، فاضل اور رہنما ہیں۔ گذشتہ جمعہ جامعہ فریدیہ تشریف لائے۔

آپ سے علماء اور طلباء حد درجہ عقیدت رکھتے ہیں اور اس کا اظہار کم تر درجے میں مصافحے سے کرتے ہیں لیکن جامعہ فریدیہ کے منتظمین مفتی صاحب کے ضعف اور ایذاء سے بچاؤ کے لئے مسلسل اعلان کرتے رہے کہ کوئی مصافحہ کی کوشش نہ کرے طلباء اور علماء نے اپنی خواہشات کو قابو میں رکھا اور مصافحہ کے لئے کوئی دھکم پیل نہیں کی اور مصافحہ کرنے کی زحمت سے بھی مفتی صاحب کو محفوظ رکھا تاہم ان کی گاڑی کے نظروں سے اوجھل ہونے تک گاڑی کے ساتھ ساتھ رہے۔

آج ظالموں نے اس مفتی تقی عثمانی صاحب پر حملہ کیا ہے اللہ کریم کے فضل وکرم سے مفتی صاحب اس حملے میں محفوظ رہے۔ دشمن کی سفاکیت اور گھٹیا ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ مفتی صاحب کے ساتھ گاڑی میں آپ کی اہلیہ اور پوتے پوتیاں بھی تھیں۔ خواتین اور بچوں کا خیال بھی نہیں رکھا گیا ظلم اور بربریت کی انتہا ہے کہ جس شخصیت پاکستان کے لاکھوں علماء اور طلباء مصافحے کی زحمت سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں ان پر یوں دن دیہاڑے بھرے شہر میں حملہ آور ہونا سوالیہ نشان ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ملک کے دیگر مکاتب فکر اور علاقوں میں ظلم و بربریت کرکے انہیں بدامنی پر برانگیختہ کرنے کی کوششوں کے باعث آج پاکستان میں ہر طرف بدامنی کے اندھیرے ہیں ایسے میں امن وآشتی کی صدائیں بہت کم مراکز اور شخصیات بلند کرتی ہیں مفتی صاحب اور آپ کا ادارہ انگلی پر گنے جانے والے ان چند مراکز میں سے ہے۔ آج اس مرکز پر حملہ کرکے امن کی آخری دیا بجھانے کی کوشش انتہائی ناپاک، مذموم اور مقتدر حلقوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ ایسی شخصیات اور مراکز کو بدامنی کی طرف دھکیلنا بھیانک مستقبل کے اشارے ہیں۔

دینی قوتیں، مدارس سے وابستہ اکابر تمام سازشوں کا ادراک رکھتے ہیں۔ گذشتہ ایک ملاقات میں مفتی اویس عزیز بتا رہے تھے گذشتہ ماہ طالبان نمائندوں نے بات چیت کے لئے جن چند اکابر سے آمادگی ظاہر کی تھی اس میں مفتی صاحب بھی تھے دوران بات چیت جب اداروں کے لوگ اپنے مطلب اور مفاد کے لئے قرآن کریم یا حدیث مبارک کے کسی ایک حصے کو استعمال کرتے تو مفتی صاحب نے اسی وقت ٹوکا اور آیت یا حدیث کو مکمل پیرائے کے ساتھ بیان کیا اور کسی بھی موقعہ پر کسی نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

جامعہ فریدیہ میں ہونے والے ختم بخاری کے موقع پر بھی جہاں المسلم من سلم المسلون من لسانہ ویدہ کی اہمیت بیان کیا وہیں مدراس پر ہونے والے اعتراضات کا بھر پور جواب دیا، یہ بھی فرمایا کہ چونکہ علماء دین کے لئے ڈھال ہیں اس لیے ڈائریکٹ اسلام پر اعتراض کرنے کی ہمت نہ رکھنے والے ہمیشہ علماء پر اعتراض کرتے ہیں۔

علم کے ساتھ عملی میدان میں اس طرح کے دو ٹوک موقف رکھنے والے اہل علم ہمیشہ سے آنکھوں کا شہتیر رہے ہیں جو امن کے دشمنوں کو کسی صورت نہیں بھاتے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارے اکابر کی حفاظت فرمائے اور خود بھی حفاظت کے حوالے سے ممکنہ تمام وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •