نیوزی لینڈ کی پولیس اطلاع ملنے کے کتنی دیر بعد مسجد پہنچی؟


ہمارا تصور تو یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں پولیس ایمرجنسی کال کے دو تین منٹ بعد جائے واردات پر پہنچ جاتی ہے۔ اس بنیاد پر ہم نیوزی لینڈ کی پولیس پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ بہت زیادہ دیر میں النور مسجد پہنچی۔ کئی لوگ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ پولیس کال موصول ہونے کے سترہ منٹ بعد النور مسجد پہنچی۔ حقیقت کیا ہے افسانہ کیا؟ اس سلسلے میں نیوزی لینڈ کے اخبارات اور ویب سائٹس، نیویارک ٹائمز اور دیگر ذرائع سے جو معلومات ملی ہیں وہ بیان کرتے ہیں۔

پندرہ مارچ بروز جمعہ دوپہر 1:41 پر پولیس نے پہلی ایمرجنسی کال وصول کی کہ النور مسجد میں فائرنگ ہو رہی ہے۔ پولیس نے دہشت گرد کو پکڑنے میں چھتیس منٹ لگائے۔ اس دوران ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں 49 افراد جان سے گئے۔ حکام نے تفصیل نہیں بتائی کہ کس وقت کیا ہوا، لیکن زندہ بچنے والوں کے بیانات، پولیس کے ریسپانس ٹائم اور دہشت گرد کی اپنی بنائی ہوئی ویڈیو اور اسے پکڑے جانے کی ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ اس دوران کیا ہوتا رہا۔

دوپہر 1:32 پر وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اور تیس دیگر افراد کو ایک ایمیل موصول ہوئی جس کے ساتھ ایک چوہتر صفحات پر مشتمل مینی فیسٹو منسلک تھا جس میں نسل پرست اور نفرت انگیزی پر مبنی مواد موجود تھا۔

النور مسجد میں جمعے کی نماز کی تیاری جاری تھی۔ امام جمال فودا نے عربی خطبہ دے دیا تھا اور انگریزی خطبہ شروع کر رہے تھے۔ اس وقت دہشت گرد مسجد پہنچا۔ ایک شخص نے اسے دیکھ کر کہا ”ہیلو برادر“۔ دہشت گرد نے فائرنگ شروع کر دی۔ دوپہر 1:41 پر پولیس کو فون کر دیا گیا۔

چھے منٹ بعد 1:47 پر پولیس افسران مسجد پہنچ گئے۔ ان افسران کے پاس ہلکے ہتھیار تھے۔ لائیو ویڈیو کے مطابق تقریباً اسی وقت دہشت گرد وہاں سے ساڑھے چھے کلومیٹر دور واقع اپنے اگلے ٹارگیٹ کی طرف روانہ ہوا تھا۔ اس کے تین منٹ بعد لائیو ویڈیو میں سائرن سنائی دیے جو اس سے دور ہوتے گئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس اور ایمرجنسی سروسز النور مسجد کی طرف جا رہی تھیں اور وہ دور ہٹ رہا تھا۔

نزدیک ترین پولیس سٹیشن مسجد سے صرف دو کلومیٹر دور تھا۔ مگر ریسپانس کے لئے طلب کیے جانے والے گشت پر موجود افسران اس سے دور ہو سکتے تھے۔ پولیس ایسوسی ایشن کے صدر ڈیٹیکٹو انسپکٹر کرس کاہل کے مطابق جمعے کو کرائسٹ چرچ کے شہر میں اوسطاً تیس پولیس اہلکار سڑکوں پر ڈیوٹی کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ جیسے ہی پہلی ایمرجنسی کال آئی ہو گی تو ڈسپیچر نے ان تمام کو مسجد النور کی سمت روانہ کر دیا ہو گا۔

گشت پر مامور پولیس اہلکار مسلح نہیں ہوتے۔ وہ صرف خنجر کے وار سے بچنے کے لئے جیکٹ پہنے ہوتے ہیں۔ اس لئے انہیں فائرنگ کی اطلاع سن کر کہیں رک کر نہ صرف اپنی گاڑی کی ڈگی سے بلٹ پروف جیکٹس نکال کر پہننی پڑی ہوں گی بلکہ گلوک پسٹل اور نیم خودکار ایم فور رائفلوں سے خود کو مسلح کرنا پڑا ہو گا۔

کال کے دس منٹ بعد 1:51 پر ایسی صورت حال سے نمٹنے والا خودکار ہتھیاروں سے مسلح سپیشل ریسپانس یونٹ مسجد النور پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ ہی بیس ایمبولینسیں اور دیگر امدادی گاڑیاں پہنچ گئیں۔

انسپیکٹر کرس کاہل کے مطابق عام طور پر سپیشل ریسپانس یونٹ کے ممبرز کو اس سے زیادہ وقت چاہیے ہوتا ہے۔ وہ طلب کیے جانے پر پہلے پولیس سٹیشن جا کر خود کو مقابلے کے لئے مسلح کرتے ہیں اور مناسب حفاظتی ایکوپمنٹ لیتے ہیں۔ لیکن خوش قسمتی سے اس جمعے کو وہ ایک ٹریننگ سیشن کی وجہ سے شہر کے وسط میں موجود تھے اور اپنا حفاظتی لباس پہنے ہوئے تھے۔ ”دنیا کی کسی بھی پولیس کے لئے محض چھے منٹ میں جائے واردات پر پہنچ جانا، اور ایک سپیشلٹ ٹیم کا ادھر دس منٹ میں موجود ہونا، ایک بڑی کامیابی کہلائے گا“۔ لیکن انہوں نے یہ بات تسلیم کی کہ جن پر گولیاں برس رہی تھیں انہیں یہ مدت بہت زیادہ طویل محسوس ہوئی ہو گی۔

سی آئی اے کے ایک سابق انسداد دہشت گردی کے اہلکار پیٹرک سکنر جو اب امریکی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے لئے کام کرتے ہیں، انسپیکٹر کرس کاہل سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کا ریسپانس بہت تیز تھا۔

اس دوران دہشت گرد اپنے دوسرے ٹارگیٹ یعنی لنوڈ مسجد کا رخ کر چکا تھا جو النور مسجد سے ساڑھے چھے کلومیٹر دور ہے۔ اس کی لائیو ویڈیو میں سائرن سنائی دے رہے تھے۔ لنوڈ مسجد میں اس نے سات لوگوں کو شہید کیا۔ ادھر ایک غیر مسلح افغان شخص عبدالعزیز کی بہادری کی وجہ سے دہشت گرد زیادہ نقصان نہ پہنچا سکا۔ اس نے محض ایک کریڈٹ کارڈ مشین ہاتھ میں پکڑ کر دہشت گرد کا تعاقب کیا۔ دہشت گرد نے عبدالعزیز پر پانچ چھے گولیاں چلائیں لیکن اسے نشانہ بنانے میں ناکام رہا۔ ۔ عبدالعزیز نے اس کی پھینکی ہوئی بندوق اٹھا کر فائر کرنے کی کوشش کی تو وہ خالی نکلی۔ اس نے اسے دہشت گرد کی گاڑی پر پھینک کر مارا۔ دہشت گرد گھبرا کر بھاگ نکلا۔

انسپیکٹر کرس کاہل کے مطابق دوسری مسجد سے آنے والی کالوں نے پولیس کو درحقیقت بہت زیادہ کنفیوز کیا ہو گا۔ ”ایک مسجد سے کال آ رہی ہو گی۔ اور پھر دوسری مسجد سے آنے لگی ہوں گی اور اہلکار کہہ رہے ہوں گے ’کیا مطلب؟ تمہارا مطلب ہے کہ یہ مسجد یا دوسری مسجد‘؟ “۔

دوپہر 2:05 پر شہر کے سکولوں اور کاروباروں کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا اور وہ اس حالت میں چار گھنٹے تک رہے۔

دوپہر 2:17 منٹ پر دوسرے شہر سے ادھر گزرنے والے دو پولیس افسران نے، جن میں سے ایک کے پاس پستول تھی اور دوسرے کے پاس رائفل، دہشت گرد کی گاڑی سے اپنی گاڑی ٹکرا کر اسے رکنے پر مجبور کر دیا اور گاڑی سے کھِینچ کر باہر نکال کر گرفتار کر لیا۔

آسٹریلیا کے ایک انسداد دہشت گردی کے ماہر ڈاکٹر ایلن آر کا کہنا ہے کہ ایک الگ فورس بنائی جانی چاہیے جس کے پاس ہیلی کاپٹر بھی ہوں۔ اس سے ریسپانس ٹائم کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس واقعے میں پولیس کا ریسپانس ٹائم مناسب تھا لیکن اگر دہشت گرد پولیس پر حملہ آور ہو جاتا تو حالات مختلف ہوتے۔

”پستول سے مسلح دو پولیس افسران نے اسے قابو کر لیا۔ یہ بہت بہادری کا کام ہے۔ لیکن ہمیں پولیس کو ٹریننگ اور ذرائع فراہم کرنے ہوں گے۔ ایک ہیلی کاپٹر ہوتا تو وہ ایک دو منٹ میں پہنچ سکتا تھا“۔

سوال یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے عوام کا پولیس کے ریسپانس پر کیا تبصرہ رہا ہے؟ کیا وہ اسے ایک سست ریسپانس قرار دے رہے ہیں یا پولیس کی تعریف کر رہے ہیں؟ پولیس کمشنر مائک بش نے نیوزی لینڈ کے عوام کے پولیس اور ایمرجنسی سروسز کے لئے بھرپور مثبت ردعمل پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اہلکاروں کے بارے میں یہ گرم جوشی ہمیں ان کے بارے میں فخر کا احساس دلا رہی ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar