تسلیم فاضلی نے محبت اور عبادت میں کیسے فرق کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر میں آپ سے پوچھوں ”کیا آپ اظہار انور کو جانتے ہیں؟ “ تو میرا خیال ہے سو فی صد پڑھنے والوں کا جواب نفی میں ہوگا اور جو یہ دریافت کروں کہ ”تسلیم فاضلی کے نام سے کوئی جان پہچان ہے؟ “ تب بھی ننانوے اعشاریہ نو فی صد کا جواب شاید دائیں بائیں سر ہلانے کی صورت دیکھنا پڑے۔ چند ایک مجھ ایسے بڈھے ٹھڈے ممکن ہے بتا پائیں ”ہاں میاں، جانَت ہیں، پاکستانی فلموں کو کیا کیا خوب گیت عطا کیے انہوں نے۔ آئینہ، شبانہ، بندش، میرا نام ہے محبت اور پتہ نہیں کون کون فلموں کے لازوال گیت لکھے۔ “ بنیاد کی اینٹ کے ساتھ یہی تو مسئلہ ہے کہ اسے اپنے اوپر کھڑی عمارت کو مضبوطی بخشنے کے لئے خود زمین تلے دب کر نظروں سے اوجھل ہوجانا پڑتا ہے۔ حالانکہ عمارت اسی کے وجود کی مرہون منت ہوتی ہے۔

گیت کی بنیاد شاعر ہوتا ہے اور اس کی شاعری۔ اس کو خیال سوجھتا ہے، پھر وہ خیال کے چرخے پر لفظوں کی پونیاں کات کر مصرعوں کا سوت تیار کرتا ہے۔ اس سوت کے تانے بانے سے استہائی اور انترے بناتا ہے۔ گیت تیار ہو چکتا ہے تو موسیقار اس کی دھن باندھتا ہے اور پھر دنوں تک گلوکار کے ساتھ سر کھپا کر اس سے گواتا ہے۔ جب یہ گیت گلی گلی، کوچہ کوچہ بجنے لگتا تو نام گلوکار کا ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ سکرین پر، سٹیج پہ نظر آرہا ہوتا ہے۔ گلوکار ماتھے کی اینٹ ہے، موسیقار گھٹنے کی اور شاعر بنیاد کی۔ کہیں پڑھا تھا کہ فیض صاحب ایسے نام وَر شاعر کو مشاعروں میں کبھی یہ فرمائش ہوجاتی کہ حضور! وہ مہدی حسن والی غزل عطا کیجئے۔ (گلوں میں رنگ بھریں بادِ نوبہار چلے، چلے بھی آو کہ گلشن کا کاروبار چلے )

ابھی پچھلے دنوں ہمارے دوست افضل عاجز نے کیا بجا پوسٹ کی فیس بک پر۔ انہوں نے لکھا ”اے میرے صاحب! حکومت پاکستان نے جہاں دیگر لوگوں کو ایوارڈ ز سے نوازا ہے وہاں عطاء اللہ عیسی خیلوی کو بھی ایوارڈ سے نوازا ہے۔ انہیں یہ ایوارڈ تحریک انصاف کے لیے گائے گئے ترانے، جب آئے گا عمران بنے گا نیا پاکستان، پر عطا کیا گیا ہے۔ یقیناً عطا صاحب نے اس ترانے کے ذریعے تحریک انصاف کی شہرت کو چار چاند لگا دیے لیکن سوال یہ ہے کہ جس شاعر نے یہ ترانہ لکھا کیا اسے بھی ایوارڈ نہیں دیا جانا چاہیے تھا؟“ بات بالکل ٹھیک ہے۔ شاعر، اپنی تخلیق کی شہرت سے اڑنے والی گرد میں گم ہو کر آنکھیں ملتا رہ جاتا ہے اور ترانہ عطاءاللہ کا ہوجاتا ہے۔ شاعر بے چارے کی نہ آنکھیں رہتی ہیں نہ تماشا

یہ گرد بیٹھ جائے تو معلوم کر سکوں

آنکھیں نہیں رہیں کہ تماشا نہیں رہا

ابھی چند ماہ پہلے افضل عاجز اگر آواز نہ اٹھاتے تو ہم جیسوں کو بھی بھول چکا تھا کہ ”اللہ کریسی چنگیاں“ ان کا لکھا ہوا گیت ہے۔ گلوکار نے تو یہ گیت کوک سٹوڈیو میں ایک مرحوم شاعر کے نام سے ریکارڈ کروا کے ریلیز فرما دیا تھا۔

خیر! یہ ہمارا آج کا موضوع نہیں۔ بات تسلیم فاضلی سے شروع ہوئی اور کہاں نکل گئی۔ تسلیم فاضلی جو زندگی کے فقط پینتیس برس لے کر اس دنیا میں آئے مگر اپنا نام لوحِ جہاں پر ثبت کر گئے۔ آج اتفاق سے ان کا ایک بھولا بِسرا گیت مدت بعد سنا تو خیالات کی جو ٹرین دماغ کے سٹیشن سے چھوٹی، اس کی سیر آپ کو دکھانے کے لئے قلم اٹھایا تھا۔ گیت تھا فلم سازش کا، موسیقی کمال احمد اور بول جو تسلیم فاضلی نے لکھے وہ تھے ”یوں تو ہر شخص نے دنیا میں محبت کی ہے، ہم نے اے جانِ وفا تیری عبادت کی ہے“۔

صاحب! ایک زمانہ تھا یہ گیت مجھے شرکیہ لگا کرتا تھا۔ مجھے تب پتہ نہیں تھا کہ عبد اور عبادت کا مادہ ایک ہی ہے اور عبد کے مطالب و مفاہیم میں ملازم، نوکر وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ایک ملازم اپنے باس کے احکام کی بجا آوری میں جو جو عمل کرتا ہے وہ سبھی ’عبادت‘ کے مفہوم میں داخل ہیں۔ گویا یہ محبت سے آگے کا کوئی درجہ ہے (تسلیم فاضلی کی نظر میں)

تاہم تھوڑا سا غور کیا تو خود کو اس تھیسز سے اختلاف کی کیفیت میں پایا۔ جس سے محبت کی جائے، وہ محبوب ہوتا ہے۔ محبوب کی خواہش یا اس کی طرف سے ذمہ لگائے گئے امور کی بجا آوری، محب پوری دل جمعی اور خوش دلی سے کرتا ہے اور ایسا کرنا محب کے جسم و جاں کی تمام تر حسوں کے لئے باعث راحت ہوتا ہے۔ جبکہ عبادت مارے باندھے ہوتی ہے۔ مجبوری کے عالم کا ایک لگا بندھا معمول۔ طبیعت مائل ہے کہ نہیں مگر کرنی ہے۔ اس دنیا میں بھلا کون ہوگا جو نوکری خوش دلی سے کرتا ہو؟ جبکہ محبت ساری ترجیحات کو پچھاڑ کر اولیں ترجیح بن جایا کرتی ہے۔ صوفی اور مُلا کا بھی تو یہی فرق ہے۔ صوفی، خالق سے محبت کرتا ہے جبکہ مُلا خود بھی ڈرتا ہے اور دوسروں کو بھی ڈرا کر عبادت کرواتا ہے۔

پڑھی نماز تے نیاز نہ سِکھیا

تیریاں کِس کَم پڑھیاں نمازاں

ہاں! وہ عبادت جس تک پہنچنے کو محبت کی سیڑھی استعمال کی جائے وہ واقعی برتر و افضل ہے۔ گویا زینہ بہ زینہ محبت کے مدارج طے کر کے جب عبادت کو سر جھکایا جائے تب وہ کوئی اور ہی درجہ ہے جس کے آگے تمام تر جذبے ہیچ ہیں۔ شاید یہی عشق ہے۔ عشق، جو کتابوں اور ان میں چھپے علم کے ذریعے نہیں سیکھا جا سکتا۔ مشرق کے شاعر نے کہا تھا۔

تیری نظر میں ہیں تمام میرے گذشتہ روز و شب

مجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علمِ نخیل بے رطب

(اقبال، رسول کریم سے مخاطب ہیں کہ میرے گزرے ہوئے دن رات آپ کی نگاہوں کے سامنے ہیں۔ میں علم حاصل کرنے میں لگا رہا مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ ایسا درخت ہے جو پھل نہیں دیتا۔ مطلب عشق کے مراحل علم کے بل بوتے پر طے نہیں ہوتے )

خیر! چھوڑئیے ان باتوں کو آپ ذرا یوٹیوب پر یہ گیت سنئے۔ کمال احمد نے کیا کمپوزیشن بنائی ہے اور نورجہاں اور غلام عباس نے کیا خوب نبھایا ہے اس دھن کو۔ گیت سنتے ہوئے نشو بیگم کے شوہر، تسلیم فاضلی کو بے شک یاد نہ کیجئے گا کہ وہ تو کہیں بنیاد میں دب دبا گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •