نظامِ تعلیم میں اصلاحات!
پاکستان میں انتہا پسندی کے خاتمے کے حوالے سے لکھے گئے مضامین کے سلسلے کا یہ آخری مضمون ہے۔ گزشتہ مضامین میں ہم نے مذہبی بنیادوں پر قومی بیانیے کی تشکیل کے اسباب اور اس بیانیے کے تعلیمی نظام پہ اثرات کا جائزہ لیا تھا۔ آج ہم اس بیانیے کے زیر اثر نصاب اور طرز تدریس پر مختصر گفتگو کے بعد کچھ سفارشات پیش کریں گے جنکی روشنی میں اصلاحات کے عمل کی ابتدا کی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں نصابی کتب کو بالخصوص جنرل ضیاء الحق کے دور میں مشرف بہ اسلام کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ نہ صرف لسانیات و سماجی علوم بلکہ سائنس کے مضامین بھی ایسی تبدیلیوں کا نشانہ بنے کہ معروضی سائنسی حقائق کو بھی مذہب کا تڑکا لگایا گیا۔ اگر غیر جانبدارانہ نظر سے اردو کا جائزہ لیا جائے تو اس میں اور اسلامیات میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آئے گا۔ حالانکہ اردو انٹرمیڈیٹ تک ایک لازمی مضمون ہے جسے مسلمان بچوں کے ساتھ غیر مسلم اقلیتوں کو بھی پڑھنا پڑھتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال انگریزی اور مطالعہ پاکستان کا بھی ہے۔
سماجی اور فطری سائنسی علوم کی کتابیں اس انداز میں لکھی گئی ہیں جو طلبا میں جذبہ تحقیق پیدا کرنے کے بجائے یاد کرنے اور امتحانات میں دوبارہ لکھ کر اگلے درجے میں ترقی حاصل کرنے تک محدود رہتی ہیں۔ آپ دسویں جماعت تک کی کسی بھی سائنسی کتاب کو اٹھا کر دیکھ لیں ہر کتاب مذہبی حوالوں سے شروع ہوتی ہے۔ حیاتیات کے مضمون میں نظریہ ارتقاء کا رد مذہبی دلائل سے ملے گا۔ سائنس کے اساتذہ کلاس رومز میں ساری سائنسی ترقی و ایجادات کو مذہب کی روشنی میں بیان کرتے اور مذہب کی حقانیت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے نظر آئیں گے۔ اس سب کا نتیجہ طلبا کے ذہنوں میں ایک نہ ختم ہونے والے ابہام کی شکل میں نکلتا ہے۔ کسی کو سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ وہ الہیات کا طالبعلم ہے یا سائنس کا۔
مجھے کالج کے سائنس کے طلباء کے کالج میگزینز میں لکھے گئے مضامین پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اکثریت حیاتیات، فزکس اور کیمیاء میں موجود نظریات کی مذہبی تشریعات اور مذہب و سائنس میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ اسی طرح سماجی علوم کی کتب میں تنوّع کی مخالفت، پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کے تحفظ، مذہبی اقلیتوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا جیسے مقاصد وضاحت سے نظر آتے ہیں۔ جب نصاب تعلیم اس قدر یک رخی سوچ پیدا کر رہا ہو تو تنقیدی و تخلیقی سوچ کے دھارے رک جاتے ہیں اور طلبا کی ہمہ جہت صلاحیتیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں۔ اس ماحول میں صرف انتہا پسند روّیے ہی جنم لے سکتےہیں۔ (جن احباب کو اس مضمون میں دلچسپی ہے وہ جناب ارشد محمود صاحب کی دو کتب ‘قومی تعلیمی الجھنیں’ اور ثقافتی گھٹن کا ضرور مطالعہ کریں)۔
کسی وقت میں یہ انتہا پسندی ریاست کی ضرورت بھی تھی کیوں کہ دنیا بھر میں جہادی بھیجنے کا ٹھیکہ ریاست کو ملا ہوا تھا مگر اب دنیا میں اس کاروبار کا مستقبل نظر نہیں آ رہا اور نہ اب یہ ہمارے مفاد میں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ماضی میں اختیار کی گئی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور ایک پرامن، انسان دوست اور ترقی پسند پاکستان کی بنیاد ڈالنے کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر تعلیمی اصلاحات کا آغاز کریں۔
اصلاحات کے اس عمل کے آغاز کے لئے چند سفارشات پیش خدمت ہیں۔
1۔ ریاست کو نہ صرف اپنے قومی بیانیے پہ نظر ثانی کی ضرورت ہے بلکہ مقاصدِ تعلیم پر بھی نظر ثانی کرنی ہو گی۔ تعلیم کو نظریے سے جدا کئے بغیر حصول علم ممکن نہیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اساتذہ کی تربیت ، اور انہیں بین الاقوامی مفکرینِ تعلیم سے ملاقاتوں کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے تاکہ طلباء میں تجسس اور انکی تنقیدی و تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اجتماعی انسانی تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
2۔ نصابِ تعلیم میں اصلاحات وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس کے لیے نصابی کتب کی جدید تقاضوں کے مطابق تیاری اور اس عمل سے وابستہ افراد کی خصوصی تربیت کی ضرورت ہے۔ سماجی و لسانی علوم کی کتب کو کثیر القومی اور کثیر مذہبی شہریوں کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوۓ نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے جبکہ مذہبی علوم کو طلباء کے لیے آپشنل مضمون کا درجہ دینا چاہیے۔ جبکہ اسلامیات کی جگہ اخلاقیات کو لازمی مضمون کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔
3۔ تعلیمی بجٹ میں فوری اضافہ کرنا چاہیے۔ اور شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کی مراعات میں اضافے کے ساتھ ان کی خصوصی تربیت کا بندوبست بھی کیا جائے۔ ہر تعلیمی ادارے میں ماہرینِ نفسیات کو تعیّنات کیا جائے تا کہ بچوں اور اساتذہ کے نفسیاتی مسائل کا بروقت سدِباب ہو سکے۔
4۔ اسکول، کالجز اور جامعات کو کمیونٹی سنٹر بنایا جائے۔ جہاں طلباء کے ساتھ والدین کو بھی مختلف تعلیمی سرگرمیوں جیسے ورکشاپس، سیمینارز اور کانفرنسز میں شرکت کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ سکولز، کالجز اور جامعات کی کونسلز بنائی جائیں جہاں والدین اور طلباء کی نمائندگی ضروری ہو۔ طلباء یونین سے پابندی ہٹا کر انھیں فی الفور فعال بنایا جائے۔
5۔ مقتدر قوّتوں کو مختلف بین الاقوامی مسائل پر اپنی روایتی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔ جب تک ہم اپنے نظریاتی قومی بیانیے میں تبدیلی نہیں لاتے نہ تو تعلیمی نظام میں سنجیدہ اصلاحات کا عمل شروع ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس نظام سے نکلنے والے شدت پسندانہ اور انتہا پسند روّیوں کا کوئی حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ عسکری ریاستیں نہیں بلکہ صرف فلاحی ریاستیں ہی ملکی استحکام کی ضامن ہوتی ہیں۔ ریاستی عسکریت پسندی سماجی شدت پسندی کو جنم دیتی ہے اور سماجی شدت پسندی سماج کو رفتہ رفتہ اندر سے کھا جاتی ہے۔
پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے عفریت سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے تعلیم مگر کس قسم کی تعلیم ضرورت اس سوال پر سوچنے کی ہے۔ کم از کم موجودہ نظامِ تعلیم سے ایسی توقع کرنا خام خیالی ہو گی۔ گزشتہ ستر سال سے اس ملک میں صرف ایک مخصوص گروہ کی رائے کو ہمیشہ مقدم ٹھہرایا گیا اب وقت آ گیا ہے کہ ان آوازوں کو بھی سنا جائے جن پر ہمیشہ پہرے بٹھائے گئے۔


