دیٹ گرل از آ رئیل کراؤڈ پلیزر(That girl is a real crowd pleaser)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سے کوئی بات نہ کرے تو ہمیں تکلیف ہو جاتی ہے۔ کر لے تو اور زیادہ ہو جاتی ہے۔

نہ کرنے کا معاملہ تو سیدھا سادا ہے کہ ہر انسان کی طرح ہماری بھی آرزو رہتی ہے کہ جہاں پہنچیں، سر آنکھوں پر بٹھائے جائیں، لیکن یہاں ہمارا وزن آڑے آ جاتا ہے۔ دنیا اور ہمارے تعلقات یوں بھی دو طرفہ ناپسندیدگی پر مشتمل ہیں، ہم اس سے تنگ رہتے ہیں اور یہ ہم سے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری تخلیق کا واحد مقصد نظر انداز کیے جانا یعنی قطاروں کے آخر میں لگنا، ہر ایک ترازو کے ہلکے پلڑے میں پائے جانا اور ناقدری کا شکار رہنا ہے۔ ناپسندیدگی کے علاوہ ہمارے تمام تعلقات یک طرفہ ہیں، یعنی ناقدری صرف ہماری ہوا کرتی ہے اس رشتہ داری میں۔ دنیا ہمیں کبھی موقع ہی نہیں دیتی کہ ہم اس کی ناقدری کریں، گر ہمارے ہاتھ آ جائے تو ٹھکرائیں بہت۔

قطاروں سے ہمیں بہت کوفت ہوتی ہے لیکن ان کا معاملہ یہ ہے کہ ہمیشہ دکھائی نہیں دیتیں۔ کبھی کہیں پتہ چلے کہ ہماری باری یوں نہیں آرہی کہ سر فہرست کوئی اور ہے تو چپکے سے اپنے گھر کی راہ لیں، لیکن ہر جگہ مقابلہ اتنا شفاف تھوڑا ہی ہوا کرتا ہے۔ شفافیت پر ہم بے حد اصرار رکھتے ہیں کہ شاید پہلے کبھی مرصع ساز رہے ہوں گے لیکن لوگوں کی اتنی عجیب و غریب پسند نہیں ہوا کرتی۔

یہاں اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے اور انتہائی معقول کہ ناقدری کے واقع ہونے کے لیے لازمی ہے، کسی قدر و قیمت والی شے کا موجود ہونا۔ اب اس پر ہم یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ قدر و قیمت نہ سہی، جذبات تو رکھتے ہیں ہم۔ لیکن پھر جذبات کے دھارے میں بات دور بہہ جاتی ہے حسب روایت اور ہم اپنے گلے شکوے بھول جاتے ہیں۔

ہم زندگی میں ایک آدھ شوق رکھتے ہیں لیکن شاید وہ ہمارے خمیر میں یونہی ملائے گئے ہیں کہ ہم ایک سے زیادہ حلقوں میں غیر مقبول ہو سکیں۔ ایک مرتبہ شوق سے کہیں مشاعرہ پڑھنے گئے۔ سچ ہے کہ بن بلائے گئے تھے لیکن اگر ہم بلاوے کا انتظار کیا کریں تو پھر تو پہنچ گئے پہنچنے والے مقامات پر۔ اس قدر غیر دلچسپی سمیٹ کر لائے کہ حد نہیں۔ لوگوں نے اس کوفت کے مارے کہ بی بی منہ دھوئے بغیر تشریف لائی ہیں، ہوٹنگ تک کرنے سے گریز کیا۔

اگر ہمیں برا کہا جائے تو ہم کب برا مانیں، معاشرے کی عمومی سچائی اور اخلاقی جرات پر خوش ہو لیں کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ دنیا کے لبوں کی شیرینی میں کسے کلام ہے، لیکن ہم جہاں جاتے ہیں تغافل کھینچتے ہیں اپنی طرف۔ ٹھیک ہے کہ بہت ہی نپی تلی باتیں کرتے ہیں لہذا وہ کسی کو پسند نہیں آتیں حالانکہ غزل کا ظرف بہت وسیع ہوا کرتا ہے لیکن کچھ تو ضرورت سے زیادہ میلان ہے ہمارا مشرق اور مشرقیت کی طرف، محبت نامے بھی لکھیں تو وہ دادی اماں کے خطوط کے نام سے چھپوائے جا سکتے ہیں۔

منہ دھونے کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کام کرنے سے ذرا جان بچاتے ہیں اور ذرا میں شدید مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ دلیل ہمارے پاس بھی مضبوط ہے، وہ یہ کہ اس سے فرق ہی کیا پڑتا ہے۔ خود اگر اماں بھی ہمیں کبھی چاند کہہ ڈالیں تو ہم اماوس کا ٹکڑا جوڑتے ہیں کہ فیکچوئل ایکوریسی بھی کوئی شے ہے۔ بعض صورتیں دنیا کو فقط اسی صورت میں پسند آ سکتی ہیں جب وہ صفحہ ہستی سے دھو ڈالی جائیں۔ ہم یہ سب کچھ سمجھتے ہیں اور ملاقات سے قبل خبردار کر دیا کر تے ہیں کہ ہم سے دھلے ہوئے منہ سمیت آنے کی توقع نہ رکھی جائے، ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔ اس میں آسانی یہ ہوتی ہے کہ لوگ اکثر ملنے سے انکار کر دیتے ہیں اور پہلی دفعہ کے علاوہ تو ضرور ہی۔ ہاں دفتر وں کی بات اور ہوا کرتی ہے، وہاں پیسے سماجی رسوم و رواج نبھانے کے ہوتے ہیں ورنہ لوگوں کے برعکس نمبروں کا مطالعہ دلچسپی سے کرتے ہیں ہم۔

سماجی رسوم و رواج تو آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آ سکے اور نہ کبھی آئیں گے، کسی بھی سطح پر۔ یعنی نہ تو یہ کہ یہ کیا ہوتے ہیں، نہ ہی کہ یہ کیوں ہوتے ہیں۔ چاہیے اور آٹ ٹو قسم کے تصورات ہماری دنیا میں وجود نہیں رکھتے اور ہم ان کی دنیا میں۔ ہم سیدھے سیدھے روسو کے پیرو تو نہیں، کہ انسان کو ایک شریف وحشی قرار دیں اور بنوں میں لازمی بسیرا کرنے کی بات کریں، لیکن لوگوں کے منہ سے یہ کرنا چاہیے اور وہ نہیں کرنا چاہیے کی گردان سن کر ہمیشہ کوفت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

لوگ دنیا میں اصولوں پر چلتے ہیں اور صرف دوسروں کے۔ اصولوں پر تو ہم بھی چلتے ہیں دیگر مشینوں کی مانند مگر ان میں اور ہم میں ایک اور قدر مشترک یہ ہے کہ ہم سب اپنے اپنے اصول رکھتے ہیں۔ انسان وغیرہ تو اوسموسس کے اصول کے تحت اصول جذب کرتے ہیں معاشرے سے اور پھر ان کی ترویج میں زندگی بسر کر ڈالتے ہیں۔ کہیں اس اندھے اصول کے خلاف ذرا ہچر مچر نظر آئے تو پل پڑتے ہیں وہاں، جرات کیسے ہوئی اس شے کی۔ آخر معاشرے میں یہ اونچ نیچ زمانہ قدیم سے وجود رکھتی ہے اور کچھ خبر بھی ہے کہ اسے برقرار رکھنے کے لیے کیسی کیسی قربانیاں دی گئی ہیں۔

انصاف کی، حق کی، خوشی کی اور پورے کے پورے طبقات انسانی کی۔ نشیب و فراز کے بغیر تو پانی نہیں بہہ سکتا، وقت کا لافانی دھارا کیسے بہے گا۔ بھئی آخر معاشرے میں اونچائی نیچائی تو اس لیے ہے کیونکہ معاشرے میں اونچائی نیچائی ہے اور اگر اونچائی نیچائی نہ ہو یعنی تمھارے منہ میں خاک نہ ہو تو خدانخواستہ اونچائی نیچائی تو نہیں رہے گی پھر معاشرے میں۔ پھر تومیری چندا، معاشرہ بھی نہیں رہے گا اور رہنا بھی نہیں رہے گا اور یہی اصول تم گا پر بھی لگا لو، اتنی تو منطق تمھارے میچنگ کی کمی کے شکار لباس کے ساتھ بھی میچ کرتی ہے۔

اب ایسا تو نہیں ہو سکتا نا، آخر ہم انسان ہیں اور تہذیب و تمدن اور زندگی کے دائرے اور وقت کے چورس اور بائلوجی کی تکونیں اور مصلحت کی مسدس۔

اس ترجیع بند تک پہنچتے پہنچتے سچ یہ ہے کہ ہمارا غریب دماغ جو یوں بھی کم چلتا ہے، بالکل ٹھپ ہو چکتا ہے اور ہم کہیں زیادہ دلچسپ موضوعات میں کھو جاتے ہیں، مثلا اپنی انگلیوں کے ناخنوں کے باہمی موازنے میں، یا کسی دور دراز کھڑکی سے آتی کسی بھولی بھٹکی سورج کی کرن میں، جو ہمارے ذہنوں کے نصیب میں نہیں۔

یہ ضرور ہے کہ پھر مشینوں کی ہی طرح ہمیں ہر جگہ ہر موقع پر صاف واضح اصول درکار ہوتے ہیں مگر ہم اپنا کنواں خود کھودنے کی کوشش تو کرتے ہیں کم از کم، کسی قرنوں کے ٹھہرائے ہوئے تالاب سے پانی لینے کو تیار نہیں ہوتے۔ رسم و رواج کا تالاب ساری دنیا پر محیط سہی لیکن رکے ہوئے پانی کو کوئی سمندر کیونکہ کہہ سکتا ہے، چاہے وہ دنیا چھوڑئیے سارے سولر سسٹم پر محیط کیوں نہ ہو جائے۔ کم از کم ہم تو نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں سچ بولنا سکھایا گیا ہے۔

سچ بولنا تو خیر کچھ کچھ سیکھا ہے ہم نے لیکن خاموشی کچھ قدرتی ہے۔ سرا اس کا بھی شاید وہی ازلی کاہلی سے ملتا ہے، بولنا ہمیشہ انسانوں کی موجودگی میں پڑتا ہے اور انسانوں سے سر کھپائے ہی کون۔ جب لوگوں کو ہر تھوڑے دن بعد ایک سے ایک احمقانہ بات پراصرار کرتے دیکھتے ہیں تو تھوڑا تو متاثر ہوتے ہیں، اس بات سے نہیں کہ انسانوں کی باتیں کس قدر انسانیت سے گری ہوئی ہو سکتی ہیں یا یہ کہ کم علمی اپنے ساتھ کس قدر تیقن لے کر آتی ہے یا یہ کہ لوگ اپنے اپنے پریویلیج کے لیے کتنا بڑا سا بلائنڈ سپاٹ رکھتے ہیں بلکہ یہ کہ کچھ لوگ ابھی تک دلیل سے اور بات کرنے سے امید رکھتے ہیں اور یہ کس قدر کیوٹ بات ہے!

لوگوں نے موزوں کے ایڈریس اور کھانے کے ٹمپریچر پر جلوس نکالے اور ہم سر جھکائے اپنا کام کرتے رہے کیونکہ ہمارے ساتھ آئسکریم شیک کے لیے چلنے والا کوئی نہیں تھا۔ ٹمپریچر کے ہم پہلے ہی جلے ہوئے ہیں کہ ایک مرتبہ اپنے بہت ہی اچھے تعلقات بہت ہی محتاط قسم کی سٹیٹ مینٹس دینے کے باوجود خراب کرا چکے ہیں۔ قصہ تعلقات کی خرابی کا مختصر ہے اور وہ یہ کہ ہم سب لینئر الگوردم پڑھتے تھے ایک زمانے میں اور وہ اچھے پیارے لگتے تھے ہمیں۔

بس کہیں اتنا سا کہہ بیٹھے ان سے متاثر ہو کر کہ ہم اپنی زندگی میں سب ہیومن سپیشی بن کر رہنے کو تیار نہیں۔ یہاں بھی ہم نے باقی قریب قریب نصف دنیا کی سب ہیومن ایگزسٹینس کی چوائس پر سوال کب اٹھایا تھا کہ یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں ہمیں۔ بیک لیش کے بعد ہم نے بولنے والی سپیشی بن کر رہنے سے توبہ کر لی۔ کبھی کبھی جل کر اس نوع کے جلے ہوئے شعر کہتے ہیں، ہیں بسکہ ذہن کے صحرا میں اپنے سامع واحد، ہماری گفتگو اپنے نہ بیگانے سے ملتی ہے، مگر اس کے علاوہ راوی خاموشی ہی خاموشی لکھتا ہے۔

لیکن اس کے باوجود لگتا ہے اور بار بار لگتا ہے کہ ہم جو تیار نہیں بولنے پر تو اسی طرح لوگ چپ ہونے پر تیار نہیں۔ خیر نہیں ہیں تو خوش رہیں ایسے بھی، ہم نے کب منع کیا ہے۔ بس یہی خوش رہنے کی اجازت جو ہم نہایت فراخ دلی سے ہر جگہ مراحمت فرماتے ہیں، ہمیں کبھی کہیں کسی سے نہیں ملتی۔ مانگتے تو ہم اور کسی چیز کی طرح یہ بھی نہیں ہیں مگر بعض باتیں کہی ان کہی بہت بری طرح چبھتی ہیں انسان کو۔ شاید یہی دو باتیں کل مشترک ہیں ہم میں اور شہزادیوں میں۔

چاہیے کے خلاف ایسی تقریر کرنے کے بعد ذرا منافقانہ بات ہو جاتی ہے یہ کہ لوگوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہم تو اپنے آپ کو نہیں خوش کر سکتے، ہم سے کسی اور کو خوش رکھنے کی توقع رکھنے کا کیا مطلب ہے۔ پھر کسی بھی دنیا جیسی عجیب اور پیچیدہ شے۔ ہم مجمعوں کو کیا خوش کریں گے، ایک سے دو انسان دکھائی دے جائیں تو اسے بھیڑ سمجھ کر اپنے لون ولف موڈ میں آ جاتے ہیں۔ پھر یہ مجبوری الگ کہ کسی کام کی توقع رکھی جائے ہم سے تو پھر وہ تو اصول کی بنیاد پر نہیں کر سکتے، لیکن اس منطق کو سمجھے کون۔ ہاں یہ ضرور صفائی دیتے چلیں کہ ہمارا چاہیے بہت ہی نرم اور نان بائنڈنگ قسم کا چاہیے ہوتا ہے، بالکل ہماری طرح۔ لوگ عمل کریں تو بھی خوش رہیں، نہ کریں تو بھی اتنے ہی خوش رہیں۔ ہماری تو یوں بھی، بقول احمد جاوید صاحب، اچھی گزر رہی ہے دل خود کفیل سے۔

خوشی پر تو یوں بھی ہمیں شک ہے کہ یہ انسان کا انٹرنل فنکشن ہے یعنی اس کے لیے جو کچھ بھی درکار ہوتا ہے، بہرحال باہر سے نہیں آتا اور نہ آ سکتا ہے۔ خیر لوگوں کی خوشی تو شاید رسم و رواج ماننے منوانے میں رہتی ہے اور حسب معمول ہم انسانوں کے بارے میں اپنی کوتاہ فہمی کے باعث زیادہ کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔ ہاں البتہ اپنا اپنا کنواں کھودنے والے اس بات پر غور کر سکتے ہیں، ممکن ہے ان کو زندگی میں وہ سال بچ رہیں جو ہم نے بیکار سمجھے جانے کی چاہ میں رہ کر اور نتیجتا آزردہ رہ کر گزارے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نمرہ شکیل کی دیگر تحریریں
نمرہ شکیل کی دیگر تحریریں