کیا عمران خان کی حکومت کو خطرہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عیدالفطر کے بعد دما دم مست ہونے کا قوی امکان ہے۔ کیوں کہ اپوزیشن سیاسی دھمال ڈالنے کے لئے سخت بے چین ہے۔ وقت کے تیور بدل رہے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ عمران خان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ اور ان کی سیاسی بساط لپیٹنے کے لئے حالات موزوں بنائے جا رہے ہیں۔ تو کیا عمران خان کی حکومت خطرے میں ہے؟

یہ کہنا یقینا قبل ازوقت ہے۔ لیکن ایک بات بہرحال یقینی ہے۔ کہ انتہا‏ئی زبردست قسم کا سیاسی دھمال ہوگا۔ کیونکہ کپتان اتنی آسانی سے میدان چھوڑنے والے نہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن کے تیور بھی خطرناک لگ رہے ہیں۔ اوپر سے نواز شریف کی دھواں دھار انٹری اپوزیشن کو بہت زیادہ مستحکم کر سکتی ہے۔ کیونکہ مستقبل قریب میں ان کی رہائی کا قوی امکان موجود ہے۔

عمران خان بڑی مشکل حالات میں اب تک حکومت بچاتے آئے ہیں۔ سخت حالات کے باوجود وہ جس عزم کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں۔ اس سے لگتا یہی ہے۔ کہ ان کی توجہ پوری طرح سے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے ساتھ ساتھ حکومتوں کے اکھاڑ پچھاڑ کے مختلف عوامل پر بھی ہے۔ عمران خان کی حکومت کو ایک لا‎ئف لائن انڈیا پاکستان کی حالیہ کشیدگی کے دوران مل گئی۔ اگر یہ جنگ جاری رہتی تو پاکستان میں سیاست کے مروجہ ا صولوں کے مطابق مارشل لا لگنے کے لئے ایک زبردست جواز مل جاتا۔ یہ اور بات ہے کہ عمران خان نے عین موقع پر نیک نیتی کی بنیاد پر کشیدگی کم کرنے کے لئے پا‏ئلٹ کی رہائی کا اعلان کر دیا۔ جس سے ایک طرف کشیدگی بڑی حد تک کم ہوئی۔ اور دوسرا ثمر یہ ملا کہ عمران خان کی حکومت کچھ وقت کے لئے ممکنہ خطرے سے بچ گئی۔

دوسری طرف اپوزیشن کے عمران خان کی حکومت گرانے کی تحریک ان کے گلے بھی پڑ سکتی ہے۔ او ر بعض پارٹیوں کے سیاسی ساکھ کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ حکومت کو مدت پوری نہ کرنے کی کوشش کئی حوالوں سے اپوزیشن کے عزائم کے برعکس نتائج دے سکتی ہے۔ اور حکومت کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کا کام بھی کر سکتی ہے۔ کیونکہ اگر اپوزیشن عمران خان کو قبل از وقت انتخابات پر مجبور بھی کر لیتی ہے، جس کا امکان کم ہے۔ تب بھی تحریک انصاف مدت پوری کرنے کی بات کو انتخابات میں اپنے حق میں بھرپور طریقے سے استعمال کر سکتی ہے۔

ویسے بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے تحریک چلانے کا ممکنہ اتحاد غیر فطری ہے۔ کیونکہ مسلم لیگ (ن) آئندہ حکومت میں آنے کے لئے اس تحریک میں پیپلز پارٹی کو زینے کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے اگلی حکومت میں بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانے کے لئے پوری طرح سے توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے۔ کہ اپوزیشن اور عمران خان کے بدخواہ عمران خان کو بہت آسان لے رہے ہیں۔ ان کی سیاسی بصیرت کو نہ تو بہت سے پہلے مانتے تھے اور نہ اب مانتے ہیں۔ بلکہ اس حوالے سے انھیں کئی بار کافی تضحیک کا نشانہ بھی بنا یا گیا۔ اور اب اس زعم میں مبتلا سیاسی شخصیات اب بھی غالبا حکومت گرانے کو ایک آسان ہدف سمجھ رہی ہیں۔ جو لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ عمران خان سیاسی شطرنج کھیلنے کی شد بد نہیں رکھتے، وہ غالبا احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ کیونکہ خان صاحب کے مقابلہ کرنے کی سپرٹ اپوزیشن کے حکومت گرانے کی امیدوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>