قومی ترقی: امروز و فردا کی تصویر


 ایسی کیا کمی ہے جو ہم معاشی اور سماجی ا ہدا ف حا صل کر نے میں ناکام ہیں جو معا صرا قوام بہت پہلے حاصل کر چکی ہیں؟ ان سارے سو ا لا ت کا جو اب ہما رے ذ اتی کر دا ر سے بھی جڑ ا ہے۔ بقول اقبال:۔ ”ا ٹھا میں مد ر سہ و خا نقا ہ سے نمنا کنہ ز ند گی نہ محبت نہ معر فت نہ نگا ہ“ قومی تعمیر نو کا تقا ضہ ہے کہ افر اد ا پنے شخص کر دا ر کو نہ معرف پہچا ئیں بلکہ بہتر بنا ئیں۔ ملت کو مفا د پر اور حق کو مصلحت پر مقدم کر یں۔

 ذاتی مفا د کی دوڑ میں ا ند ہا د ہند دو ڑنے کی رو ش تر ک کر کے ا یثا رو قر با نی کا شو ہ ا ختیا ر کر یں۔ ہما ری قو م کی سب سے بڑ ی طا قت ہما رے نو جو ان ہیں جو فیصد کے ا عتبا ر سے د نیا کے کتنے بھی خطے سے ز یا دہ ہیں۔ یہ نسل ہما را ا صل سر ما یہ ہے ہمیں اس کی حفا ظت کر نا ہو گی او ر اسے با و سیلہ، خو د آ گا ہ با و قا ر بنا نا ہو گا۔ حا صلِ مطا لعہ یہ ہے کہ ا ینٹ پتھر جو ڑ نے سے ملکی تر قی ممکن ہے نہ قومی عر وج کی منز ل کا حصو ل یہ مقا صد ا پنی تکمیل کے لئے مختلف ذ ہنی ا پر و چ کا تقا ضہ کر تے ہیں۔

 علمی تر قی ہر حا ل میں مثبت نتا ئج پیدا کر تی ہے۔ اس لئے ہو نا تو یہ چا ہیئے کہ ہم ا پنے و سا ئل کا بڑا حصہ فر وٖغ تعلیم پر صر ف کر یں نو جو انو ں میں نہ صر ف روایتی تعلیم بلکہ ٹیکنیکل تعلیم عام کر یں۔ ہنر مند ی سے جڑا تعصب غلط معاشی اور معا شر تی نتا ئج پید ا کر ر ہا اور ہمیں ہنر مند فو ر س در کا ر ہے۔ پا کستا ن کی سب سے بڑی ا یکسپو رٹ ہنر مند لیبر فو ر س بن سکتی ہے اگر تعلیم عا م ہو جا ئے اور چند مخصوص شعبو ں تک محدود نہ ر ہے۔

 ا قلیتی اشرافیہ نے عو ام کا ہمیشہ سے ا ستحصا ل کیا ہے۔ ا شر ا فیہ کی پہلی تر جیح عوام کی فکری غلامی ہو تی ہے آزاد سو چ کا فروغ ملکی قومی ترقی کا پیش خیمہ ہے ہمیں مثبت مکالمے کو فروغ د ینا ہو گا۔ مذہبی ا نتہا پسندی کا علاج ڈیزی کٹر کبھی نہیں ر ہے۔ اس کا اسنا د عقلیت پر مبنی سو چ کے فرو غ سے ممکن ہے۔ ہمیں مذ ہبی حلقو ں کو سا تھ لے کر آ گے بڑ ہنا ہو گا ا نہیں قومی د ہا رے میں شا مل کر نا بہت ضر ور ی ہے د ینی تعلیمی ا دا رے عرصہ درا ز سے غفلت اور عد م تو جہ کا شکا ر ہیں ا نہیں ما لی پسما ند گی اور وسا ئل کی قلت کا سا منا ہے۔

 صو رت حا ل منفی سو چ کو جنم د یتی ہے۔ کیا اچھا ہو کہ ہم د ینی تعلیم کے ادا روں میں سا ئنسی مضا مین کو شا مل نصاب کر یں اور طلبا کو یکسا ں مو ا قع فر اہم کیے جا ئیں۔ اس تعلیمی طر ح وہ قومی د ہا رے میں شامل رہیں گے تعمیروطن میں مثبت کرداراداکریں گے۔ قومی شعو ر کی بید اری و قت کی اہم ضر ورت ہے۔ اس پہلو کو ہر دور مین نظر انداز کیا جا تا ہے۔ ہمیں ایک متحد قوم بننے کے لئے ہند و ستان د شمنی جیسے خا ر جی جذ بے کی نسبت ا ند رو نی محر کا ت کی ضر ورت ہے۔

 ا سے قومی ز ند گی کے ہر پہلو مین مد نظر ر کھا جا نا چا ہئے۔ میر ے خیا ل میں مشترکہ ثقا فتی و ر ثے کا فر وغ قومی ز با ن کی تر و یج و ا شا عت اور صو با ئی ثقا فتوں کا اختلاط ایک بہتر بیانیے کو جنم دے سکتا ہے۔ ا گر اندرون ملک سیا حتی سر گرمیوں کو فروغ دیا جا ئے توبھی نتائج مفید ہوں گے۔ سیاسی ا عتد ال پسند ی ہما رے سماجی کا خو بصو رت پہلو سیاسی و مذ ہبی ا نہتا پسند ی معا شرتی ڈ ہا نچے کو گھن کی طر ح کھا ر ہی ہے۔

 اس پر طر ح کہ یہ صو با ئی تعصب کی لہر بھی عرو ج پر ہے۔ اگر ہم مضبو ط عز ت قومی شخص حا صل کر نا چا ہتے ہیں تو ہمیں اس رو ش کو تر ک کر نا ہو گا۔ اور با ہمی ا تفا ق و ا خو ت کی فضا پید ا کر نا ہو گی۔ یہ خواب بقول ا قبال یو ں شر مند ہ تعمیر ہوگا۔ ”بتا ن رنگ و خو ں کو تو ڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تو را نی ر ہے با قی نہ ا یر انی نہ ا فغا نی“

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2