بہاول پور سانحہ اور تعلیم کا بیانیہ
پاکستان کا ایک بنیادی مسئلہ انتہا پسند رجحانات کا پھیلاؤ ہے۔ یہ مسئلہ محض مذہبی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور علمی و فکری سطح پر بھی موجود ہے۔ اس کی بڑی وجہ معاشرے میں عدم برداشت کا کلچرکا بڑھنا اور مکالمہ یا رواداری کے کلچر کا کمزور ہونا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ جب مجموعی طور پر اپنے مرض کو قبول کرنے سے انکار کردے تو اس مسئلہ کا علاج بھی ممکن نہیں ہوتا۔ ایک فکری مغالطہ یہ پھیلایا جاتا ہے کہ معاشرے میں انتہا پسندی کوئی بڑا مسئلہ نہیں، لیکن بلاوجہ کچھ افراد یا ادارے یا قوتیں اس مسئلہ کو ابھار کر ہمیں بدنام کرنا چاہتی ہیں۔ یہ نکتہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم نے مجموعی طو رپر انتہا پسندی کا علاج تلاش نہ کیا تو اس کا نتیجہ پرتشدد سیاست یا دہشت گردی پر مبنی رویوں یا عمل کی صورت میں سامنے آتا ہے جو ملک کے مجموعی تصورات کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔
پچھلے دنوں بہاولپور کے مقامی کالج کے گریجویشن کے طالب علم خطیب حسین نے اپنے ہی کالج میں اپنے استاد پروفیسر خالد حمید کو قتل کر دیا ہے۔ اس طالب علم کے بقول اس کا استاد مذہب کے خلاف گستاخانہ کلمات ادا کیا کرتا تھا اور وہ اپنے استاد کو قتل کرنے پر کوئی ندامت، غلطی یا شرمندگی محسوس نہیں کرتا۔ یعنی وہ اپنے طرز عمل پر فخر کرتا ہے اور اس کا تعلق ایک مذہبی گروہ سے ہے۔ یہ ہی وہ مذہبی گروہ ہے جو مذہب کو بنیاد بنا کر معاشرے میں پرتشدد رجحانات کو فروغ دیتا ہے۔ اس لیے مسئلہ محض اس طالب علم کا نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے وہ گروہ یا افراد ہیں جو اپنے فلسفے، سیاست، عقیدہ یا مذہب کو امن، رواداری کے مقابلے میں تشددکے طور پر بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں جو نئی نسل کو گمراہ کرنے کا کھیل بھی ہے۔
یہ جو نئی نسل کو مذہبی، لسانی، ثقافتی، سیاسی بنیاد پر مختلف فریقین اپنے مخصوص بیانیہ کی بنیاد پر انتہا پسندی کی طرف مائل کررہے ہیں اور خود اپنی سطح پر ان رجحانات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو پرتشدد عمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ پاکستان نے سانحہ پشاؤ رکے بعد جو قومی نیشنل ایکشن پلان بیس نکات پر قومی اتفاق رائے سے ترتیب دیا تھا اس میں بیشتر نکات کا تعلق امن، رواداری، برداشت اور سیاسی وسماجی اہم اہنگی کو بنیاد بنا کر کام کرنا تھا۔
ان میں ہمارے تعلیمی ادارے، مدارس کی تعلیم، نصاب، استاد اور شاگرد سب ہی کو بنیاد بنا کر ایسے نکات بھی شامل تھے جو قومی بیانیہ کی ازسر نو تشکیل کے ضروری تھے۔ کیونکہ اس انتہا پسندی کا علاج محض طاقت کے استعمال یا انتظامی اقدامات سے ممکن نہیں تھا اس کے لیے علمی اور فکری محاذ پر افراد اور بالخصوص نئی نسل میں یہ شعور پیدا کرنا تھا کہ ہمیں ایک دوسرے کے مختلف خیالات، نظریات، سوچ اور فکر کے باوجود اکٹھے رہنا ہے اور کسی کے خلاف تعصب اور نفرت کی سیاست کو فروغ نہیں دینا ہے۔
پروفیسر خالد حمید جو بنیادی طور پر ایک بہت ہی شفیق استاد تھے اور ان کے ساتھیوں کے بقول ان پر لگائے گئے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ لیکن ان جیسا استاد بھی معاشرے میں موجود انتہا پسندی کا شکار ہوگیا۔ اس نوجوان خطیب حسین کا ایک ویڈیو بیان بھی سننے کا موقع ملا جو ظاہر کرتا ہے کہ اس کے ذہن، مزاج، سوچ اور فکر میں کیسے زہر بھرا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نوجوان خطیب حسین کی سرگرمیاں یقینی طور پر کالج میں موجود ان کے استادوں، طالب علم دوستوں، گھر والوں، خاندان، محلہ یعنی ہر سطح پر نظر میں ہوں گی۔
کسی نے بھی اس کے اس طرز کے سخت مزاج اور پرتشدد خیالات پر کوئی سرکوبی نہیں کی اور نہ ہی کوئی ایسا انتظامی اقدام کیا گیا جو اسے اس اقدام سے روک سکتا۔ اس لیے مسئلہ محض ایک فریق کا نہیں بلکہ تمام فریقین کا ہے جو اس سے جڑے ہوئے لوگ تھے اور کسی نے بھی نہ صرف اس کی نگرانی یا جوابدہی کو یقینی بنانے کی بجائے ایک غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔
ہمارا تعلیمی نظام بنیاد ی طو رپر کئی طرح کے فکری تضادات سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارا مقصد ڈگریاں بانٹنا رہ گیاہے جب کہ تعلیم میں تربیت کا عمل بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اس تربیت کی کمی میں تعلیمی نظام سمیت گھر اور خاندان یا سماج کا بھی کردار ہے جہاں سیاسی، سماجی، مذہبی اور تربیتی ادارے خود زوا ل پزیری کا شکار ہیں۔ یہ مسئلہ محض خطیب حسین تک محدود نہیں بلکہ اس طرح کے کئی اور خطیب حسین ہوں گے جویقینا ہمارے تعلیمی نظام کا حصہ ہوں گے اور ان میں بھی اسی طرز کا زہر گھولا ہوا ہوگا جو ہمیں خطیب حسین کی سطح پر نظر آیا ہے۔
یہ تو ایک مذہبی مسئلہ تھا لیکن سیاسی اور سماجی سطح پر ایسے لاتعداد واقعات ہمیں تعلیمی اداروں کی سطح پر غالب نظر آتے ہیں جو لسانی، سیاسی، سماجی، علاقائی، زبان کی بنیاد پر پرتشدد رجحانات کو فروغ دیتے ہیں۔ کیونکہ جب اس سوچ کو اجاگر کیا جائے گا کہ مخالف سوچ اور فکر کے لوگ انسان نہیں بلکہ وہ دشمن ہیں اور ان کو ختم کرنا عقیدہ کی جیت ہے تو ہم کیسے ان مسائل سے نمٹ سکیں گے۔ اصل مسئلہ ریاستی و حکومتی سطح پر اداروں کی ناکامی کا ہے جو ملک میں ایسے لوگوں کی سرکوبی میں فعال اور شفاف کردار ادا نہیں کرتا اور اس کا نتیجہ انتہا پسندی کی صورت میں نکلتا ہے۔
سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک کا ہمارا تعلیمی نظام واقعی تربیت کے عمل میں کوئی بڑا کردار ادا کرنے میں ناکامی سے دوچار ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیمی اداروں میں سماجی کلچر سے جڑی چیزوں کو اہمیت ہی نہیں دی ہے۔ غیر نصابی سرگرمیاں بنیادی طو رپر طلبہ و طالبات میں سیاسی، سماجی اہم اہنگی کو پیدا کرتی ہیں۔ بالخصوص مختلف کلچر، برادری، زبان، مذہب، فرقہ کے نوجوان طلبہ وطالبات کا مل بیٹھ کر بیٹھنا اور ایک دوسرے کے لیے قبولیت پیدا کرنا ہی تعلیم کا اصل مقصد ہوتا ہے۔
موسیقی، شاعری، فن تقریر، کھیل، مزاح، ڈرامہ، ثقافتی سرگرمی کی بنیاد پر سرگرمیاں لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کا سبب بنتی ہیں۔ تعلیمی نصاب میں امن، رواداری، برداشت، قبولیت، اہمنگی کو بنیاد بنا کر ہمیں تعلیمی نصاب میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔ استاد اور طالب علم دونوں سطح پر تعلیمی اداروں میں تربیتی عمل کو فروغ دینا ہوگا کہ ہمیں کیسے امن، رواداری اور مکالمہ کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔
اسی طرح تعلیمی اداروں کی سطح پر انتظامیہ کا اپنا نگرانی کا نظام موثر اور شفاف بنانا ہوگا جس میں فوری طو رپر ایسے افراد کا نشاندہی ہوسکے جو انتہا پسند رجحانات رکھتے ہیں یا ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ایسے طالب علموں کی نشاندہی کے بعد ان کے والدین کے ساتھ مکالمہ ہو اور ان کو بتایا جائے کہ ان کابچہ یا بچی کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں جو غصہ، نفرت، بے چینی، مایوسی یا بدلہ لینے کی سوچ اور فکر موجود ہے اس کے لیے نفسیاتی اور سماجی ماہرین کی مدد کے ساتھ باقاعدہ کونسلنگ سنٹروں کی بنیاد رکھی جائے۔ اسی طرح تعلیمی نصاب میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار پر اس کی اہمیت اور موجود قانون کے بارے میں بھی آگاہی دی جائے کہ ہمیں کیسے اس کا مثبت استعمال کرنا ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر بھی جو انتہا پسندی کے رجحانات کا غلبہ ہے اس کی درست تشخیص اور علاج تلاش کرنا ہی اس مسئلہ کا حل ثابت ہوگا۔
ریاستی و حکومتی سطح پر تعلیمی اداروں کی سخت نگرانی سمیت معاشرے کے اہل دانش، سیاسی مفکرین، مذہبی اسکالرز، سماجی ماہرین، میڈیا اور رائے عامہ بنانے والے تمام افراد یا اداروں کو حظیب حسین کے اقدام کی حمایت کرنے کی بجائے اس سے سبق حاصل کرکے کچھ نئی حکمت عملی کو اختیار کرنا ہوگا۔ سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کے درمیان سماجی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک دوسرے کے کردار کی قبولیت اور تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا ہوگا۔
قومی ایکشن پلان، پیغام پاکستان جیسے اہم دستاویز کو بنیاد بنا کر ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں بڑی اصلاحات کے لیے ایک بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ سوچ اور فکر بڑی خطرناک ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام خود انتہا پسندی کو روکنے کے بیانیہ میں ناکام ہورہا ہے اور ان اداروں سے پروفیسر یا کسی طالب علم کا قتل یا پرتشدد واقعات ہمارے تعلیمی نظام پر خود بڑا سوالیہ نشان ہے۔ لیکن اس کے لیے ہمیں ریاستی، حکومتی، ادارہ جاتی، میڈیا، اہل دانش سمیت سب فریقین کی سطح پر ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ اور عملی اقدامات درکار ہیں جو اس انتہا پسندی کے مقابلے میں امن اور رواداری پر مبنی معاشرے کی تشکیل کو ممکن بناسکے۔


