کمانڈو کی ڈائری سے انتخاب


باباجی ہمارا ناشتہ آگیا ہے چائے بریڈ انڈا ہلکا پھلکا ناشتہ ہے۔ میں جب گھر ہوتی ہوں تو ہمیشہ ناشتے میں انڈا پراٹھا ہی لیتی ہوں مجھے انڈا پراٹھا بہت پسند ہے۔ آپ نے ناشتہ کر لیا؟ کیا تھا آپ کے ناشتے میں؟ صاحب جی ناشتہ کر رہی تھیں اور ساتھ ساتھ میرے ساتھ میسجز پہ بات بھی کر رہی تھیں۔ میں نے بتایا صاحب جی چنے کی دال اور تنور کی گرم گرم روٹی۔ بابا جی آپ ناشتے میں دہی نہیں لیتے اور چائے بھی نہیں؟ میں نے بتایا صاحب جی ہمارا ناشتہ ذرا مختلف ہوتا ہے ہم چائے اور دہی کینٹین سے لیتے ہیں ہماری میس پہ بس سالن روٹی ہوتی ہے۔

آپ کی میس بھی عجیب ہے۔ کون نمونہ ہے آپ کا میس انچارج؟ میں ان کی بات کو ٹال گیا کیونکہ نئی نئی افسر بنی تھیں میں نے سوچا کہیں میس انچارج کو فون کرکے اس کی کلاس ہی نہ لے لیں۔ میں نے بات بدل دی۔ میں نے پوچھا آپ نے آج دن کے لیے کیا کیا سامان پیک کیا ہے؟ وہ بتانے لگیں چپس نمکو ایک دو پیکٹ بسکٹ پانی کی بوتل تھوڑے سے ٹشو اس کے علاوہ اور کسی چیز کی مجھے ضرورت ہو سکتی ہے تو پلیز آپ بتا دیں۔ ان کے پلیز لفظ میں کتنی اپنائیت تھی۔ پہلی بار صاحب جی نے مجھے اس طرح مخاطب کیا تھا۔ میں نے کہا نہیں کچھ خاص نہیں بس اگر آپ لوگ قلعہ دیراوڑ جاتے ہیں تو وہاں آپ کو ذرا پانی کی زیادہ ضرورت ہو گی کیونکہ وہاں گرمی زیادہ ہوتی ہے۔ ہاں ٹھیک اس کے علاوہ اور بھی کچھ بتائیں قلعہ دیراوڑ کے متعلق۔

صدیوں پہلے یہ علاقہ ایک سرسبزو شاداب وادی پہ مشتمل تھا اسے تاریخی دریائے ہاکڑہ سیراب کرتا تھا اسی نسبت سے اسے وادی ہاکڑہ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ سرسبزوشاداب وا دی صحر ا میں تبدیل ہو گئی دریائے ہاکڑہ کہیں ریت کے نیچے غفلت کی نیند سو گیا جسے پھر دوبارہ کبھی نہ جگایا جا سکا۔ سرسبزوشاداب وادی کی جگہ وسیع و عریض صحراؤں نے لے لی۔ آج اس صحرا میں ماضی کی کئی شکستہ یادگاریں ہیں جو اس علاقے کی عظمت رفتہ کی یاد گار ہیں۔

ان میں قلعہ دیراوڑ اپنی پختگی وسعت شان وشوکت اور تاریخی اہمیت کے اعتبار سے لازوال اہمیت کا حامل ہے۔ قدیم وادی ہاکڑہ اور موجودہ صحرائے چولستان کی عظیم ماضی کی شاندار اور بے مثال یادگار یہ قلعہ اپنے اندر بے شمار داستانیں لیے مہر بلب ہے۔ اس کی بلند و بالا فصیلوں نے وقت کے کئی نشیب وفراز دیکھے ہیں۔ جنگ وجدل کے کئی منظر فتح و شکست کے کئی واقعات اس کے سینے میں دفن ہیں۔ آج سے چھ ہزار سال پہلے ملتان اور ہڑپہ سے چلنے والے تہذیبی قافلے جو تلمور یعنی سندھ اور مکران سے ہوتے ہوئے مصر عراق کے عظیم تہذیبی مراکز تک جاتے تھے وہ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے وسط میں واقع قلعہ ڈیراور کی بلندو بالا فصیلوں کے سائے میں ضرور پڑاؤ ڈالتے رہے ہوں گے۔

آج یہ عظیم قلعہ قصہ ماضی بن چکا ہے۔ کب اس کی بنیادیں رکھی گئیں کون اس کے معمار تھے کن حکمرانوں کے پرچم سب سے پہلے اس قلعہ کی پیشانی پہ لہرائے اس کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ ہاں ایک تاریخی روایت اس کے بارے میں معمولی سا اشارہ دیتی ہے۔ صدیوں پہلے اس علاقے کے حکمران راجہ چچا جو ذات کا بھٹی تھا کے بھانجے نے رہائش کے لیے اپنے ماموں سے زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کیا بعد میں راجہ کو معلوم ہوا کہ اس کا بھانجا یہاں قلعہ تعمیر کر رہا ہے اور اس کے ارادے صحیح نہیں ہیں تو راجہ نے طاقت کے بل بوتے پر قلعے کی تعمیر رکوادی بعد میں راجہ کی بہن نے اپنے بھائی کو خط لکھا کہ تم بھٹی خاندان سے ہو اور میرا بیٹا بھاٹیا خاندان سے تعلق رکھتا ہے دونوں قبیلے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تم اپنے بھانجے کو فورٹ یعنی قلعہ تعمیر کرنے دو۔

یہ قلعہ زیادہ تر راجستان کے حکمرانوں کے قبضہ میں رہا بعد میں یہ بہاولپور کے عباسی خاندان کے قبضے میں آ گیا۔ بہاولپور کے عباسی خاندان کا تعلق بغداد کے عباسی خانوادے سے تھا انھیں کے دور میں قلعہ دیراوڑ کو پختہ کیا گیا۔ اور اوچ شریف سے قلعہ دیراوڑ تک پختہ اینٹیں انسانی زنجیر سے قلعے تک پہنچائی گئیں۔ قلعہ دیراوڑ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے عسکری اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی بلندوبالا پختہ فصیل چالیس برجوں پہ مشتمل ہے اور سابق ریاست بہاولپور کے تمام بڑے شہروں سے یہ قلعہ یکساں فاصلے پر واقع ہے۔

قلعے کے چاروں طرف لق ودق صحرا کا ہونا دور دور تک پانی کی عدم دستیابی قلعے کی دیواروں کی تیس میٹر اونچائی اسے جنگی نقطہ نظر سے محفوظ بناتی ہے۔ قلعے کے سامنے مرکزی دروازے کے قریب ایک وسیع پانی کا تالاب تھا جس میں بارش کا پانی دور دور سے رس کر جمع ہوتا رہتا تھا اس تالاب کے بالمقابل قلعے کے اندر ایک اور تالاب تھا کسی بیرونی حملہ کی صورت میں قلعے کی فصیل میں نصب لوہے کا دروازہ اٹھا لیا جاتا تھا ا ور باہر کے تالاب کا پانی اندر کے تالاب میں منتقل ہو جاتا تھا۔

جس سے حملہ آور فوج پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے محاصرہ ختم کر دینے پہ مجبور ہو جاتی تھی۔ باہر سے قلعے کی فصیلوں کی بلندی اور اندر سے سطح کی کم بلندی یہ ثابت کرتی ہے کہ اس قلعے کے اندر زیرزمین کافی تعمیرات پوشیدہ ہیں۔ اس قلعہ کی پوری فصیل محرابی دمدموں سے بنی ہوئی ہے اگر غور سے دیکھا جائے تو ہر دمدمے کا ڈیزاین بظاہر ایک جیسا لگتا ہے مگر پختہ اینٹوں سے تعمیر ہر ایک کا طرز تعمیر اور ڈیزائن دوسرے سے مختلف ہے جو اس کے معماروں کے حسن ذوق کی علامت ہے قلعے کے اندر شاہی بیگمات اور اہل خانہ کے قیام کے لیے خوبصورت طرز تعمیر اور انتہائی خوبصورت فرش والا شاہی حصہ ہے اس عمارت کی چھتیں اور فرش لکڑی کے کام والے خوبصورت دروازے آج بھی یہ احساس دلاتے ہیں کہ کبھی عمارت کا یہ حصہ انتہائی دیدہ زیب ہو ا کرتا تھا۔ قلعے کے اندر فوجی بیرکیں توشہ خانہ خدمت گاروں کی رہائش گاہیں ان کے درمیان ایک وسیع میدان جس میں دو توپیں موجود ہے ں میدان میں ادھر ادھر پتھر اور لوہے کے گولے بکھرے پڑے ہیں۔ اس میدان کے مغربی حصے کی طرف امیر آف بہاولپور کی گرمائی رہائش کے لیے زیرزمین کمرے بنے ہوئے ہیں سطح زمین پر بنے ہوئے ایک چھوٹے سے کمرے میں سے انتہائی نیچے سیڑھیاں اور اس کے ساتھ لوہے کی ریل کی پٹٹری نیچے جا رہی ہے کمرے میں ایک ٹھیلہ موجود ہے جو لوہے کی زنجیروں کے ذریعے اس پٹٹری پر کئی سو فٹ نیچے زیرزمین جاتا تھا اور اس کے ذریعے امیر آف بہاولپور انتہائی نیچے والے کمروں میں گرمیوں کے موسم میں آرام اور قیام فرماتے وہاں سے اوپر تک خصوصی ہوا دان اس طر ح بنائے گئے تھے کہ اوپر کی ہوا انتہائی نیچے تک جا کر دوسر ے راستے سے پھر اوپر آتی تھی کہا جاتا ہے ہوادانوں کے منفرد استعمال سے زیرزمین کمروں کا درجہ حرارت حیرت انگیز حد تک کم ہو جاتا تھا۔

میڈم جی نے کہا بابا جی آپ تو کافی کچھ جانتے ہیں قلعہ ڈیراور کے بارے میں مجھے لگتا ہے اب وہاں جانا یا نہ جانا ایک برابر ہے۔ تو میں ہنسنے لگا میں نے جواب لکھا صاحب جی آپ وہاں جائیں گی تو آپ کو اور بھی بہت کچھ دیکھنے اور جاننے کو ملے گا جیسے وہاں کی سنگ مر مر کی بنی مسجد نوابوں کا قبرستان ایک کافی لمبی قبر ہے جو کسی عام انسان کی قبر سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ صحرا میں چہل قدمی کرتے اونٹ گائے بھیڑ بکریوں کو ہانکتے ہوئے چرواہے قلعے کے آس پاس قدیم درختوں پہ بولتی فاختائیں بہت دلکش منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں صاحب جی آپ وہاں ضرور جائیں۔

صاحب جی کا میسج آیا جی بابا جی ہم وہاں جائیں گے۔ میں ناشتہ کر چکا تو جلدی جلدی اٹھا اور اپنے ایلیٹ فورس کے آفس پہنچا آج ناشتے میں کچھ زیادہ ہی وقت لگا تھا جس کے گزر جانے کا احساس بھی نہ ہوا کیونکہ ناشتے کے دوران میرے اور صاحب جی کے درمیان ایک لمبی میسجنگ ہوئی تھی۔ میں اپنے آفس پہنچا تو میری حالت دیدنی تھی کیونکہ میری ڈیوٹی تبدیل کر دی گئی تھی میں لیٹ ہوگیا تھا اور صاحب جی کے ساتھ جانے کے لیے ٹیمیں روانہ ہو چکی تھیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2