اسٹیل ملز ملازمین کی شرح اموات میں اضافہ


تحریک انصاف کی انتخابی مہم کے دوران رہنماؤں کی جانب سے خسارے میں چلنے والے بڑے اداروں کی بحالی کا اعلان بار بار کیا گیا۔ ان اداروں میں پاکستان اسٹیل ملز اور پی آئی اے سر فہرست ہیں۔ انتخابات میں تحریک انصاف کو کامیابی ملی تو اسی وقت سے یہ دعویٰ کیا جانے لگا کہ پاکستان اسٹیل ملز اور پی آئی اے کی بحالی کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ لیکن تاحال اس کا کوئی نتیجہ نظر نہیں آیا۔ گزشتہ حکومت میں نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ایرانی اور چینی کمپنی خسارے میں چلنے والی پاکستان اسٹیل ملز کو خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں لیکن اس دور میں بھی اسٹیل ملز نہ توبحال ہو سکی اور نہ ہی اس کی نجکاری کی جاسکی۔ حال ہی میں چینی کمپنی کی جانب سے حکومت کو اسٹیل ملز کی بحالی کا پلان دیا گیا ہے۔ چینی کمپنی ایم سی سی نے حکومت وقت کو اسٹیل ملز کا انتظام سنبھالنے کی پیشکش کردی۔

چینی میٹلرجی کل کارپوریشن کی جانب سے دیے گئے پلان میں کہا گیا ہے کہ اسٹیل ملز کی پیدوار تیس لاکھ میٹرک ٹن سالانہ کی جائے گی۔ چینی کمپنی کی جانب سے یہ پیشکش بھی کی گئی ہے کہ ادارے میں پندرہ ہزار نئے ملازمین بھرتی کیے جائیں گے۔ کمپنی اسٹیل ملز کے کسی بھی موجودہ ملازم کو نوکری سے فارغ نہیں کرے گی۔ جبکہ کمپنی 2049 تک اسٹیل ملز کا انتظام سنبھالے گی اور 2050 میں ادارے کی انتظامیہ دوبارہ حکومت پاکستان کے سپرد کردی جائے گی۔

3ارب سے زیادہ منافع کمانے والے ادارے کو 2008 کے بعد سے خسارے کا سامنا ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے مزدوروں کو ایک ایسی معاشی صورت حال سے دوچار کردیا ہے جس نے نہ صرف اُن کی عزت نفس بلکہ اُن کے مضبوط ارادوں کو بھی پاش پاش کردیا ہے۔ کسی ورکر کو کرایہ نہ دینے پر روز مالک مکان کی جھڑکیاں سننی پڑتی ہیں تو کسی مزدور کے بچے فیس نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر ذریعہ معاش کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

پاکستان اسٹیل ملز میں ہر ورکر کے دن کا آغاز روز نئی آس کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر ورکر کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا آج تنخواہ مل جائے گی؟ دوسری جانب اسٹیل ملز کے تقریبا 5 ہزار ریٹائرڈ ملازمین ایسے ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے واجبات نہ ملنے کی وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان ملازمین کو پندرہ ارب روپے ادا کرنے ہیں۔ اپنی پوری زندگی اسٹیل ملز کو دینے والے ان ملازمین کا ایک ہی سہارا ہوتا ہو اور وہ ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والی رقم ہے اس رقم سے ملازمین اپنے لئے گھر اور چھوٹے پیمانے کے کاروبار کا انتظام کیا کرتے تھے تاکہ باقی زندگی بھی گزاری جاسکے لیکن یہ رقم نہ ملنے پر یہ ملازمین اب ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مزدوریاں کرنے پر مجبور ہیں۔

اسٹیل ملز کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین میں اموات کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ کچھ ہی عرصے میں کچھ افراد نے خود سوزی کی یا خود سوزی کی کوشش کی۔ گزشتہ ایک سال میں کئی حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین طبعی موت کا شکار بھی ہوئے۔ ایک تحقیق کے مطابق مرنے والے افراد میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جن کی موت کی وجہ دل کا دورہ بنا۔ ظاہر ہے جب روز بچے کو اسکول سے گھر صرف اس لئے بھیج دیا جائے کہ اس کی فیس ادا نہیں، دوکاندار گھر کا سامان دینے سے اس لئے منع کردے کیوں کے پچھلے بقایاجات ادا نہیں کیے گئے، روز مالک مکان سے اس لئے چھپنا پڑے کیوں کہ گھر کا کرایہ ادا نہیں کیا گیا تو اس ٹینشن کی وجہ سے کسی بھی عزت دار شہری کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔

اسٹیل ملز کی خستہ حالی کا اندازہ اسٹیل ملز کی بسوں کو دیکھ کر ہی ہوجاتا ہے۔ کسی کا شیشہ غائب تو کسی کی باڈی جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار۔ 21 مارچ کو اسٹیل ملز کی ایک بس کی بریکیں فیل ہوگئیں جسے ڈرائیور نے بمشکل فٹ پاتھ سے لگا کر روکا اور ملازمین کی جان بچائی۔ سابقہ حکومت پر لفظی گولا باری کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت کو اسٹیل ملز کی بحالی کے لئے اب فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر گزشتہ حکومتوں کو اسٹیل ملز ملازمین کی زندگیوں پر رحم نہیں آیا تو موجودہ حکومت کو اب سمجھنا ہوگا کہ اب بیانات سے کام نہیں چلے گا حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ تاریخ ان اموات کا ذمہ دار موجود ہ حکومت کو بھی ٹھرائے گی۔

چینی کمنپی کی جانب سے کی جانے والی پیشکش ظاہری طور پر ایک بہترین پیشکش نظر آرہی ہے۔ اگر چینی کمپنی اسٹیل ملز کی بحالی میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ملازمین کی مشکلات حل ہوجائیں گی۔ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی سے ملازمین معاشی بحران سے نکل جائیں گے۔ ساتھ ہی پندرہ ہزار نئے ملازمین کی بھرتیوں سے کراچی کے بیروزگار نوجوانوں کو ملازمتوں کے موقعے بھی میسر ہوں گے اور بیروزگاری میں کمی آئے گی۔ حکومت پاکستان کو اسٹیل ملز کے ماتحت ادارے جن میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ٹرانسپورٹ ڈیمارٹمنٹ اور اسپتال شامل ہیں کو حکومت سندھ کے ساتھ مل کر اپنی تحویل میں لینا چاہیے، صوبائی و وفاقی حکومت کے اشتراق اور توجہ سے یہ ادارے بہتر چل سکتے ہیں جس سے ملازمین کو سہولیات بھی میسر ہوں گی اور ان اداروں کو کمرشل بنیادوں پر چلا کر ملنے والے فنڈز سے علاقے میں ترقیاتی کام کرائے جاسکتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب چینی کمپنی کے اشتراک سے مل کی بحالی ملکی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کو اب سوچنا ہوگا۔

Facebook Comments HS