عمران خان چاہیں بھی تو جیسنڈا آرڈرن نہیں بن سکتے؟
انسان اپنے روزمرہ معمول کو اتنی بار دہرا چکا ہوتا ہے کہ وہ خود ایک معمول بن چکا ہوتا ہے۔ معمول میں ڈھلی ہوئی عادات ہمارے کسی شعوری احساس کے بغیر ہمیں ایک مشین کی طرح خود کار طریقے سے کام کرواتی رہتی ہیں۔ اسی لئے انسانوں کے اصل کردار کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی واقعہ ان کے اس معمول کو توڑ دے اور انہیں ایک مختلف صورت حال کا سامنا کرنا پڑے۔ عام انسان ہوں، راہ نما، سیاستدان یا سربراہانِ حکومت، ایسی صورت حال میں کئے گئے فیصلوں سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔
اگر دنیا ایک بہت بڑا سا گھر ہے تو نیوزی لینڈ اس گھر کا سب سے پچھلے والا آخری کمرہ۔ جس میں 15 مارچ کو ایک دہشت گرد حملے نے سارے گھر کو ہلا دیا۔ اس غیر معمولی صورت حال میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کے رد عمل کے اخلاص اور بے ساختگی نے دنیا بھر میں لوگوں کے دل جیت لئے۔ جتنی محبت ان پر نچھاور کی جا رہی ہے وہ بلاشبہ اس کے لائق ہیں۔
موجودہ دنیا میں جہاں بہت سے اہم ممالک کے سربراہان نفرت انگیزی میں مشغول ہیں، وہاں دہشت گردی پر رد عمل نے جیسنڈا آرڈرن کو ایک مختلف راہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ بحثیت قائد آج کے دور میں قیادت کے متبادل رویے کی مظہر بن کر سامنے آئیں ہیں۔ انہوں نے خود کو ایک دلیر سیاستدان، ذمہ دار وزیر اعظم، اور عظیم انسان ثابت کیا ہے۔ جیسنڈا آرڈرن نے جو فیصلے کئے وہ ایک وزیر اعظم کی حیثیت سے ہی کئے لیکن ان فیصلوں سے ان کے ذاتی کردار کا اندازہ لگانا مسئلہ فیثا غورث حل کرنے کے مترادف ہر گز نہیں۔ ان کے رویے نے دنیا کو یہ باور کروایا ہے کہ ایک اچھے لیڈر کے لئے ایک اچھا انسان ہونا نا گزیر ہے۔
ہمارے ہاں ان کے بے شمار مداحین ہیں۔ اس کے باوجود ہم ان کے کردار کا تجزیہ موجودہ پاکستانی قیادت کے تقابل سے کرنے کو تیار نہیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو پھر ہمیں اس سوال کو کھوجنا پڑے گا جو آج اکثر پاکستانی پوچھ رہے ہیں کہ ’جیسنڈا آرڈرن جیسے لیڈر ہمارے ہاں کیوں نہیں پیدا ہوتے۔‘
بے حسی اس وقت پاکستانی معا شرے کا ایک غالب رویہ بن چکی ہے۔ ریاست نے برسوں اس رویے کی پرورش کی ہے اور مسلسل کر رہی ہے۔ اسی بے حسی کا شاخسانہ ہے کہ کبھی ہم پر امپورٹڈ لیڈر مسلط کئے گئے تو کبھی سرکاری ملازمین۔ جب لیڈر کا عوام سے کوئی تعلق نہ ہو، جب لیڈر سانچوں پر اپنی خواہشات اور مفادات کے مطابق گھڑے جائیں تو پھر جیسنڈا آرڈرن جیسے لیڈر کی توقع کرنا اندھیرے میں بہت دور کی سوجھنے کے مترادف ہے۔
بے حس شخص نہ اچھا انسان ہو سکتا ہے، نہ اچھا سیاستدان، اور نہ اچھا راہ نما۔ اس کی وضاحت ماضی کے ایک سانحے کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کروں گا۔ 18 اکتوبر کو جب شہید بینظیر بھٹو پاکستان آئیں تو ان کے استقبالی قافلے پر کارساز کے مقام پر خود کش حملہ ہوا۔ سانحہٴ کارساز، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گرد حملہ ہے۔ جس میں 200 کے قریب لوگ شہید ہوئے اور 500 کے قریب زخمی۔ اس سانحے کے تین دن بعد 21 اکتوبر کو برطانیہ کے اخبار دا ٹیلیگراف میں ایک مضمون ’Benazir Bhutto has only herself to blame‘ کے عنوان سے چھپا
https://www.telegraph.co.uk/comment/3643478/Benazir-Bhutto-has-only-herself-to-blame.html
جیسا کہ عنوان گواہی دے رہا ہے کہ مصنف نے اس سانحے کی تمام تر ذمہ داری محترمہ بینظیر بھٹو پر ڈال دی۔ نہ صرف یہ بلکہ تمام مضمون میں شہیدوں کی تذلیل کی گئی۔ مصنف اس مضمون میں مصر ہے کہ جو لوگ کارساز میں مارے گئے (جی ہاں، شہید نہیں ہوئے مارے گئے) وہ جمہوریت کی راہ میں قربان ںہیں ہوئے بلکہ یہ بینظیر کے ان فیصلوں کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے انہوں نے بہت سے جہادی گروہوں کو اپنا دشمن بنا لیا ہے۔ مصنف نے تمام توانائی یہ ثابت کرنے میں صرف کر دی کہ بینظیر در حقیقت اس وقت کے آمر کی ساتھی ہیں جو ایک غیر جمہوری طریقے سے برطانیہ اور امریکہ کی ملی بھگت سے پاکستان آ رہی ہیں۔
تمام مضمون میں متاثرہ لوگوں سے ایک لفظ ہمدردی کا ہے نہ افسوس کا، نہ کوئی دلاسہ ہے نہ کوئی تسلی۔ یہ مضمون جہاں ایک فرد کی خود غرضانہ اور بے حس سوچ کی نمائندگی کرتا ہے وہیں ہمارے اجتماعی قومی کردار پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ یہ مضمون اپنی ذات کے حصار میں گم، مریضانہ نرگسیت کے مارے ہوئے اسی ذہن کا شاہکار ہے جو کرکٹ ورلڈ کپ کی فتح کا سہرا فقط اپنے سر باندھنے پر بضد تھا۔ سانحہ یہ بھی ہے کہ وہ آج پاکستان کا وزیراعظم ہے۔
سانحہٴ کارساز کے پونے دو ماہ بعد جب محترمہ کی شہادت ہوئی تو 21 اکتوبر والے مضمون کی کیا حیثیت تھی یہ اس وقت تمام ملک کے رد عمل نے بتا دیا۔ اس رد عمل میں وہی خلوص اور بے ساختگی تھی جو ہمیں جیسنڈا آرڈرن کے رویے میں نظر آئی۔ کیا دوست کیا دشمن سب اشکبار ہوئے۔ پرانے کردار کش شرمندہ ہوئے۔ لیکن بی بی شہید کی شہادت کچھ لوگوں کا ظرف بھی بتا گئی۔ بلاول بھٹو نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ تمام سیاسی راہ نماؤں نے بی بی شہید کی تعزیت کی۔ کل کے حریفوں حتیٰ کہ دشمنوں تک نے، سوائے عمران خان کے۔ یعنی ایک بار پھر خان صاحب کا کردار آشکار ہو گیا۔
اسی بے حسی کا ایک نمونہ دیکھئیے کہ نیوزی لینڈ میں ہوئی دہشت گردی کے بعد سے پاکستان میں کم سے کم تین ایسے واقعات ہو چکے ہیں جو ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہونے چاہئیے تھے۔ بہاولپور میں انگریزی کے پروفیسر خالد حمید صاحب کو ایک طالب علم نے توہین مذہب کے نام پر شہید کر دیا ہے جبکہ اٹک کے قریب دو ڈاکٹروں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ دونوں ڈاکٹر احمدی تھے۔ اور تیسرا واقعہ سندھ میں دو کم عمر ہم وطن ہندو بچیوں کے اغوا، جبرا تبدیلی مذہب، اور زبردستی شادی کرنے کا ہے۔ ان تمام واقعات پر نہ صرف یہ کہ وزیراعظم اور حکومت کا رد عمل سامنے نہیں آیا بلکہ نیوزی لینڈ میں ہوئے واقعے پر آزردہ ہم وطن بھی گوشہ نشین ہو چکے ہیں۔ اس صورت حال میں اس سوال کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے کہ ’جیسنڈا آرڈرن جیسے لیڈر ہمارے ہاں کیوں نہیں پیدا ہوتے۔‘
(اٹک میں دونوں ڈاکٹر حضرات کے افسوسناک قتل کا ان کے عقیدے سے تعلق واضح نہیں ہو سکا۔ آج مورخہ 24 مارچ کو خبر ملی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ہندو بچیوں کے اغوا کا نوٹس لے لیا ہے۔ اس تحریر کے مصنف ڈاکٹر ذوالفقار حیدر کینیڈا میں مقیم ہیں اور دونوں ممالک میں ٹائم ڈفرنس کے باعث عمران خان کے اس اقدام سے ان کا بے خبر ہونا قابل فہم ہے: مدیر)



