82 ارب روپے کی بدعنوانی؟ عقیل کریم ڈھیڈی کے لئے حسن کارکردگی ایوارڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احتساب عدالت اسلام آباد کورٹ روم نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے 22 فروری کو اوگرا کیس میں نامزد ملزم عقیل کریم ڈھیڈی کے ناقابل ضمانت ورانٹ گرفتاری جاری کئے۔ اس موقع پر ان کا غصہ عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ کرسی انصاف پر بیٹھ کر احتساب کے جج محمد بشیر نے حکم صادر کیا کہ عقیل کریم ڈھیڈی اوگرا کیس میں نامزد ملزم ہیں۔ ان پر 82 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں۔ اگلی سماعت پر انھیں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا جائے۔

اگلے ہی روز عقیل کریم ڈھیڈی عدالت پیش ہوتے ہیں اور ناقابل ضمانت ورانٹ گرفتاری مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہیں۔ منصف کا دل پسیج جاتا ہے۔ وارنٹ گرفتاری منسوخ ہو جاتے ہیں۔ اگلی سماعت پر معمول کے مطابق سب کچھ ہوتا ہے۔ عقیل کریم کے وکلاء پیش ہوتے ہیں۔ دن گزرتے رہے پھر 23 مارچ آ جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ دن بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے۔ صدر پاکستان اس دن ملک کی اہم شخصیات کو تمغوں اور اعزازات سے نوازتے ہیں جنھوں نے زندگی کے کسی بھی شعبے میں ملک و ملت کا نام روشن کیا ہو۔

ایوارڈز دینا بُری بات نہیں، احسن قدم ہے۔ اس سے ملک کے محسنوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور باقی لوگ بھی ملک و ملت کا نام روشن کرنے کے لیے اپنے اپنے شعبوں میں انتھک محنت کرتے ہیں۔ اس برس 23 مارچ کو صدر پاکستان عزت مآب عارف علوی نے عقیل کریم ڈھیڈی کو بھی پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔ میں طالب علم ہوں اس لئے عجب مخمصے میں پڑ گیا ہوں۔ ایک گھتی ہے جو سلجھ نہیں رہی۔ صدر پاکستان نے عقیل کریم ڈھیڈی کو یہ ایوارڈ کس بنیاد پر دیا۔ ایک ایسا فرد جس پر ملک کو 82 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے اور وہ عدالتوں میں کیس بھگت رہا ہے۔ کرپشن کرنے پر تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا یا پھر کچھ نامعلوم خدمات کے عوض یہ صلہ ملا۔

بعض واقفان حال کا کہنا ہے کہ ملک کے بعض اعلیٰ ریٹائرڈ اہل کاروں کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے۔ ایوارڈ کے اصل حقدار تو وہ تھے جنھوں نے ایوارڈ دینے والوں کو یہاں تک پہنچایا ہے۔ اسی طرح عارف حمید بھٹی، صابر شاکر اور مبشر لقمان جیسی نابغہ روزگار شخصیات کو نظر انداز کرنے پر بھی بہت سے حلقے دل گرفتہ ہیں کیونکہ موجودہ وزیراعظم کی چوبیس گھنٹے تعریف اور مدح سرائی میں ان صھافیوں نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔

82 ارب روپے کی کرپشن کے الزام میں ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور پھر منسوخ کرنے والے احستاب جج محمد بشیر وہی منصف ہیں جنہوں نے ایون فلیڈ میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو سزائیں سنائی تھی۔ نواز شریف اسی عدالت سے استدعا کرتے رہے کہ ان کی اہلیہ شدید بیمار ہیں، موت و زیست کی جنگ لڑ رہی ہیں چنانچہ انھیں ایک ہفتے کے لیے عدالت سے استثنیٰ دیا جائے۔ مگر منصف جیب سے موبائل نکال کر اس پر ضروری پیغام پڑھتے اور پھر حکم صادر ہوتا کہ دس منٹ بعد واپس آ کر فیصلہ دوں گا۔ جج محمد بشیر عدالت سے متصل کمرے میں جا کر مکمل اطمینان اور صفائے قلب سے غور و فکر کر کے واپس آتے اور فیصلہ سناتے کہ ملزم کی استدعا مسترد کی جاتی ہے ۔

مجھے یہاں راؤ رشید یاد آ رہے ہیں جنھوں نے اپنی کتاب “جو میں نے دیکھا” میں لکھتے ہیں کہ جب ایسٹ پاکستان فال ہوا تو “لوگوں کو یحییٰ خان پر بہت غصہ تھا اگر انھیں لوگوں کے حوالے کر دیتے تو لوگ انھیں تکہ بوٹی کر دیتے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میری ڈیوٹی پشاور تھی اور پشاور میں یحییٰ خان کا گھر تھا۔ لوگ بہت غصے میں تھے وہ جلوس نکالنا چاہتے تھے اور یحییٰ خان کا گھر جلانا چاہتے تھے۔ جلوس نکلا لیکن پولیس کی طرف سے کسی کارروائی کی نوبت ہی نہیں آئی۔ ایک سیاسی پارٹی (جماعت اسلامی) نے جلوس کا رخ شراب خانوں کی طرف موڑ دیا۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ یحییٰ کا قصور نہیں، اصل قصور شراب کا ہے۔ لوگوں نے شراب کی دکانیں توڑیں۔  یہ ایک عجیب قصہ ہوا۔ جلوس بجائے بنگلہ دیش کے قیام کے خلاف ہوتا، وہ شراب کے خلاف ہو گیا۔ اس طرح وہ سارا دن شراب کی دکانیں توڑتے رہے، بوتلیں پیتے بھی رہے اور توڑتے بھی رہے یہاں تک کہ پشاور کے کتے بھی مدہوش ہو گئے”۔

مقتدر قوتوں کا اصل مسئلہ کرپشن نہیں، نواز شریف تھا۔ اسے سبق سکھانے کے لیے مہروں کو آگے کیا گیا۔ اسے پابند سلاسل کیا گیا اور دوسری طرف کرپشن کیس میں نامزد ملزم کو ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے ۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ ایوارڈ بے توقیر ہو گیا یا کرپشن کو عزت مل گئی  ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 93 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui