سمندر میں ڈال آؤ!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”آپ کو صرف ایک زندگی ملتی ہے۔ اس لیے اس لمحے سے پیار کرو۔ اس (گزرتے ) دن سے پیار کرو۔ دوسروں پر مہربانی کرو۔ اپنے اوپر مہربانی کرو۔ “ یہ یامسوجیوتاناکا کے الفاظ ہیں۔ ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا گیا تو اُس وقت اس کی عمر 15 برس تھی۔ اسی ناگاساکی کے تاکاتومیچی شیتا نے آنسوؤں میں ڈوب کر چشم دید واقعات سنائے اورملتجیانہ لہجے میں کہا، ”پیارے نوجوانو، تم نے کبھی جنگ کی تباہ کاریاں نہیں دیکھیں۔ جنگیں ہماری آنکھوں کے سامنے شروع ہوتی ہیں۔ اگر تمہارا احساس سر پر آنے کے بعد جاگتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم بہت دیر میں جاگے۔ “

شاید ہمارے مخاطب بھی نوجوان ہیں، گاہے گاہے بازخواں آں قصہء پارینہ را۔ انہیں سننے سنانے میں کوئی نقصان نہیں۔ ایسے قصے درِ دل پردستک دیتے جائیں گے تو ذہن پر قفل لگانا کارِعبث ہی ہوگا۔ لاکھ سر جھٹکو، وہ چھاپا مارتے رہیں گے۔ سب کچھ پکی روشنائی سے لکھا جا چکا ہے، کس جنگ میں کس قدر جانی اور مالی نتصان ہوا، کون جیتا، کون ہارا، کس نے کون سی غلطی کی، کون سا ظلم کیا، انسان کے اندر درندے کی پیاس کب بجھی، کیسے بجھی، بجھی بھی یا نہیں بجھی۔ کس نے کیا سبق سیکھا، کچھ سیکھا بھی یا نہیں سیکھا یا آنے والے واقعات ہی اسے سبق سکھائیں گے۔ تاکاتومیچی شیتا نے کہا تھا، ”آخر تک احساس نہیں جاگے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم بہت دیر میں جاگے! “ چڑیاں سارا کھیت چُگ گئیں، اب اُلوؤں کی قطاریں دیدے گھماتے ہوئے مو ت کے خریداروں کا نوحہ سنا رہی ہیں۔

تو ہیرو شیما میں ایک لاکھ چالیس ہزارلوگ (کُل آبادی کا 39 فی صد حصہ) اور ناگاساکی میں 70 ہزار لوگ چشم زدن میں لقمہٗ اجل بن گئے۔ آنے والے دنوں نے اورعذاب نا ک مناظر دیکھے۔ تابکاری کے زہریلے اثرات کے کنجوں کے نیچے لاکھوں جاپانی سسک سسک کرزندگی کا پاپ کاٹتے رہے۔ قسم قسم کی خوفناک بیماریوں نے آکٹوپس کے مانند ان کے وجود کو جکڑ لیا۔ کینسر کے مریضوں کی تعداد میں طوفانی رفتار سے اضافہ ہوا۔ جسمانی اعضا گلنے سڑنے لگے۔ ماؤں کے پیٹ میں بد وضع، عجیب الخلقت پچے پلنے لگے، دماغ کی افزائش کا عمل سُست پڑ گیا۔ شیزوفرینیا نے ہر گھر کا راستہ دیکھ لیا۔ خوفناک جلدی بیماریاں تیزی سے سر اٹھانے لگیں۔ سانس چلتی تھی لیکن ایسے جیسے حلق پر دوہری دھار کاخنجر چل رہا ہو۔ جاپان کے ہر شہری کی آنکوں میں خوف اور دہشت کی سانپوں جیسی پرچھائیاں ہمیشہ کے لے نقش ہو گئیں۔ وہ بات بھی کرتے تھے توان کے زور زور سے دھڑکتے دل اچھل کر سینے کی ہڈیوں سے ٹکراتے تھے۔

ہزاروں کتابیں لکھی گئیں، سیکڑوں فیچر اور دستاویزی فلمیں اور ڈرامے بنائے گئے۔ دیکھنے والوں کے دل دہل اٹھے، ہمارے ہاں لکھنے پڑھنے کا عمل ہمیشہ بہ قدرِ اشکِ بلبل ہی نظرآیا۔ تاہم شیخی خوری میں مہارت لوگوں نے بڑی محنت سے حاصل کی ہے۔ تھوتھا چنا باجے گھنا۔ ہمارے ہاں تھوتھے چنوں کی فصل ہر طرف لہرا رہی ہے۔ لن ترانی، شیخی بازی، غلاظت میں ڈوبی ہوئی لفاظی، ٹبّر کھانے کے دعوے یہاں بڑے خضوع و خشوع کے ساتھ سنے جاتے ہیں۔ جو جتنا بڑا رنگ باز ہے، اس کے چھچھورے مداحوں کا حلقہ بھی اتنا ہی بڑا ہے، اوئے سواد آ گیا، اج دا بیان پڑھیا؟

شیخ شیدائی نے، مفتیِ شکم در شکم نے سب دیاں زباناں بند کر دتیں۔ تو جس معاشرے میں کن ٹٹے، پیڑیاں نگاہاں والے، بوتھوں والے سڑے گلے لوگوں کے لیے تالیاں بجانے والے موجود ہوں، وہاں ہر وقت اور ہر سمت سسکنے والی ہواؤں کی فریاد سننے کے لیے کس کے پاس فرصت ہے۔ بازیگری میں ماہر، فریب کاری میں طاق، جو جعلی سکے وہ ڈھال رہے ہیں وہی چل رہے ہیں۔ ”اوئے ٹبر کھا جاواں ڈکار نہ لیواں۔ ویخو لوکو، ساڈے لیڈر ورگا لیڈر لا کے وَخاؤ”۔ چلتا ہے تو دھرتی کانپتی ہے، بولتا ہے تو آسمان تھراتا ہے۔ کون لڑائے گا پنجہ ساڈے نال؟ ہمیں جنگ سے ڈراتے ہو؟ اَسی بحر ظلمات چ گھوڑے دوڑا چکے ہیں۔ ہمارا تو پہلا اور آخری سبق ہی یہ ہے کہ شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر۔ سب کے چھکے چھڑا دیں گے۔ کوئی غم نہ پالو۔ چلو، سب یار بیلی بھاٹی چلتے ہیں۔ سری پائے ڈھیروں ڈھیر مغز کے ساتھ کھائیں گے۔ نہاری کا دور بھی چلے گا۔ گردوں کپوروں پر تو ہمارے یار جان دیتے ہیں۔ ہریسا بھی چکھ لیں گے ”اور ہِلسا مچھلی کے ساتھ چوہدری مُچھڑ کی دکان کے روغنی کلچے بھی ہوں گے۔ کھاؤ پیو، عیش کرو۔ ایویں رٹا لگاتے ہو۔ ارے جنگ ہوگئی تو کیا ہوگا۔ مار مار کر بھوسا نکال دیں گے۔ بنییا دھوتی بدلتے بدلتے ہانپنے لگے گا۔ چلو، اب رواں ہو جاؤ، دیر ہوئی تواچھے جان دار کپورے ختم ہو جائیں گے۔

ان شمشیر وسناں والے یار بیلیوں کو کون یاد دلائے کہ تین سو سے زیادہ مولویوں نے ہمارے ڈاکٹڑ اقبال پر کفرکا فتویٰ لگا دیا تھا۔ بے چارے ڈاکٹر صاحب دبک کر بیٹھ گئے۔ ’جواب شکوہ‘ تصنیف فرمانے لگے کہ اب تو جان چھوڑ دو (ویسے اقبال جیسے زندہ، طوفان پرور، عظیم قامت رکھنے والے آدمی کو کون باندھ سکتا تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو قوالوں کے رجسٹروں میں بند کر دیا، لیکن ڈاکٹر صاحب بھی باز نہیں آتے تھے۔ بڑے شیطان آدمی تھے۔ جو لکھ دیا، حرفِ آخر ہو گیا۔ زندگی اور حرکت کی علامت ابلیس کو قرار دیا جو سینہ تان کرملاؤں کو ٹھینگا دکھاتا ہے۔ میں کھٹکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح، تو فقط اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو! )

اور یہ بھی کل کی بات ہے، آرم اسٹرانگ نے چاند پر قدم رکھا تو یار بیلیوں نے مووی دیکھ کر دیواریں پوسٹروں سے بھر دیں۔ ”یہ کیمرا ٹرک ہے، رب جلیل کی کائناتی نظام مین کون دخل دے سکتا ہے۔ اب انہیں کون سمجھائے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، ہزاروں مہلک ترین ہتھیار وجود میں آ چکے ہیں، جو زمین، آسمان اور پانی کے اندر کی دنیا کو تہ و بالا کر سکتے ہیں۔ دور دراز سے ایک بٹن حرکت کرتا ہے اور کشتوں کے پشتے لگ جاتے ہیں۔

یہ لوگ اپنی بہادری کے قدیم قصوں کی دارو پیتے ہیں اور ایٹم بم کا ذکر ایسے کرتے ہیں جسے چاکلیٹ کھا رہے ہوں۔ ان کی بصارتوں اور سماعتوں پر بھاری قفل نہ لٹکے ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ دلاوری کسی کی میراث نہیں ہے۔ چلیے، ہم خرما و ہم ثواب، ایسے ایمان پرور مجاہدی و ایٹم بمی کی نوک پر بٹھا کر روانہ کر دیا جائے۔ بڑے بڑے ”فاتحینِ عالم“ آئے اور عبرت کا نشان بن گئے۔ سکندر، ہنی بال، نپولین، چنگیز، ہلاکو اور ہٹلر جیسے متعدد لوگ گزرے، جن کا شمار عظیم ترین جنرلوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے آندھی اور طوفان کی رفتار سے فتوحات حاصل کین اور دنیا کو ششدر کر دی۔ اور یہ جو ہیروشیما اور ناگا ساکی کے کشتگان جاپان ہیں، اب بار بار عاجزی سے سر جھکاتے ہیں، ایک زمانے میں دہشت اوربربریت کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ قلیل عرصے میں منچوریا، چین، کوریا، ملایا، برما سنگاپور، الاسکا اور فلپائن کو ہڑپ کر لیا۔ حوصلے اتنے بڑھے کہ انڈیا، آسٹریلیا، امرکا اور روس پر کمندیں ڈالنے لگے۔ صرف شہنشاہِ اعظم، ہیروہیٹو اور جنرل ٹوجو جیس لیڈر نشے میں نہیں جھوم رہے تھے۔ عام جاپانی بھی سر اٹھا کر، سینہ تان کر چلتا تھا کہ اُن کے نام کا سکہ بیٹھ رہا ہے، سکہ ایسا بیٹھا کہ منہ پر چادر لپیٹ کر اوندھا لیٹ گیا۔ مثالیں بے شمار ہیں۔ ایک اور۔ عظیم امریکا، دنیا کا آقا؟ ”پستہ قد، نحیف“ ویت نامیوں نے مار مار کر بھرکس نکال دیا۔ یہ ایک الگ قصہ ہے کہ پاکستان جیسے کشکول بدست ملکوں کے ضمیر فروش لیڈروں نے اُس کے پاؤں چوم چوم کر اسے غبارہ بنا دیا۔ آقا کا سر ہمیشہ اونچا ہوتا ہے، اور بِھک منگے بڑی شان، آن بان سے کہتے ہیں، ”دیکھا ہمارے لیڈر کو؟

اُس نے کڑک کر کہا، مونگ پھلیوں پر مت ٹرخاؤ۔ ہم ٹھکراتے ہیں انہیں۔ وہ الگ باندھ کے جو رکھا ہے، وہ مال لاؤ (حالانکہ جاہلوں کو یہ معلوم نہیں کہ شاعر نے ’الگ مال‘ کسے قرار دیا تھا) ہتھیاروں کا خزانہ بی دو، منشیات کی تجارت سے ہمیں نہ روکو، ہماری فکر میں کیوں گھلتے ہو، قرضوں پر ہماری جفاکش، فرض شناس نسلیں سود ادا کریں گی۔ ہم تمہارے ہیں، کہو تو اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دے دیں۔

بھائی جان، جو میراث قابلِ فخر ہے، اس پر ناز کرو۔ سر بلند رکھنے کے اسباب جنگوں کے شعلوں میں تلاش نہ کرو۔ بداوقات، کمینے بدخواہوں کو جواب دینے کے لیے اپنی بَھک منگی معیشت کو بیساکھوں کی گرفت سے نکال کر اپنے پاؤں پر کھڑا کرو۔ ایٹم بم ہے ہمارے کنے، کی رٹ نہ لگاؤ۔ لہو کی باس روح میں اُتر کر سب کچھ نچوڑ لیتی ہے۔ جاپانی سر جھکا کر اب تک یہی نصیحت کر رہے ہیں۔ لفاظی اور لن ترانی اورشیخی بازی میں کچھ نہیں رکھا، فضا میں آگ جلانے سے بچتے رہو۔

ساحر نے کہا تھا، جنگ کیا مسئلے کو حل کرے گی، وہ تو خود ایک مسئلہ ہے۔ اپنی خودساختہ اہمیت کے نشے میں مست میڈیا کا ایک بڑا حصہ اب اور ننگا ہوتا جا رہا ہے۔ آگ لگاتا ہے، کھوکھلی نعرہ بازی کو پروان چڑھاتا ہے ”سادہ لوح عوام کو ہشکارتا ہے۔ اور خود سیاہ ہاتھوں سے مال بنانے کی تدبیر کرتا ہے۔ جب کہ میڈیا سے وابستہ جاہل کاری گر جو “صافی” ہونے کی خالی پیلی دھونس جماتے ہیں، اپنے سے زیادہ جاہل مطلق لوگوں سے ڈکٹیشن لیتے ہیں اور بھیڑیے جیسے مالکان کے سامنے اپنی جائز اجرتوں کے لیے بھی سال بھر گڑگڑاتے ہیں۔ مائی پاب بھلا ہوگا تیرا۔ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ بڑھک باز، سیاست کے جعلی پیشواؤں کے ساتھ میڈیا کے ایسے طرم خانوں کو بھی سمندر کے اندر ڈال دینا چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •