میں کون ہوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج میں خود کو ٹٹولنے میں مصروف ہوں۔ دُنیا سے کٹ کر اپنے دل میں جھانک رہی ہوں۔ خود سے پوچھ رہی ہوں۔ کہ میں کون ہوں؟ میری ماں ایک ان پڑھ عورت تھی۔ میرا باپ اکثر اس پر ہاتھ اٹھاتا۔ میں سوچتی ماں کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ دادی کہتی تیری ماں زبان چلاتی ہے اس لئے۔ میں نے مان لیا کہ باپ کی ماں جھوٹ کیوں بولے گی۔ تھوڑی بڑی ہوئی تو مجھ سے پہلے میرا بھائی بڑا ہو چکا تھا۔ اس کی شادی ہوئی۔ بھابھی گھر آگئی۔

اور مارنے کا وہی منظر چلتا رہا بس چہرے بدل گئے۔ ایک دن بھائی کی چار سالہ بیٹی نے اپنی دادی سے پوچھا دادی بابا ماں کو مارتے کیوں ہیں؟ تو اس نے کہا تیری ماں زبان چلاتی ہے۔ میں شعور کی منازل طے کر رہی تھی۔ پڑھائی میں اچھی تھی۔ کسی خورد رو پودے کی طرح خود ہی آگے بڑھتی گئی۔ سکول سے، کالج کا سفر آسان ہوگیا۔ کسی طرح اٹھارہ برس کی عمر میں ایف اے ہوگیا۔ کہ باپ نے رشتہ ڈھونڈنا شروع کردیا۔ اس نے کہا لڑکی کو مکمل کر دو اس سے پہلے کہ یہ ہمیں ادھورا کر جائے (بھاگ جائے ) ۔

آج میری شادی کو بیس سال گزر چکے۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ دو دہایؤں کا سفر طے کر چکی۔ میرے شوہر نے شادی کے دو روز بعد مجھ پر ہاتھ اٹھایا میں نے پوچھا مارا کیوں۔ تو کہنے لگا زبان چلاتی ہو۔ بس پھرمیں زبان دراز عورت کے نام سے مشہور ہوگئی۔ دو برس تک جب اولاد نہ ہوئی تو مجھے بانجھ کہا جانے لگا۔ تین سال کے بعد اللہ نے میرے بطن میں چار سال کے عرصہ میں تین بیٹیوں کو زندگی بخشی تو عورت کو تخلیق کرنے کا جُرم بھی میرے حساب میں لِکھا گیا۔

مجھے روز بیٹیاں پیدا کرنے کی سزا دی جاتی۔ پھر اللہ نے میری سُن لی اور مجھے بیٹے سے نوازا۔ گھر میں خوشی منائی گئی۔ لیکن میری خوشیوں کی عمر کم تھی۔ فرشتۂ اجل میری گود سے میرا بیٹا اپنے ساتھ جنت کی سیر کو لے گیا۔ تو میں ڈائن کہلائی جو اپنے بچے کو کھا گئی۔ ذرا سی غفلت پہ کام چور کہا جاتا۔ دن رات ساس سسر کی خدمت کرتی۔ دن کا تھکا وجود آرام مانگتا تو شوہر کو اپنا حق یاد آجاتا ‍۔ میں ایک عورت جسے ضرورت پوری ہونے کے بعد کمرہ بدر کر دیا جاتا ہے۔

میں اس کی شریکِ حیات تو بن گئی لیکن اس کی شریکِ راز نہ بن سکی۔ میں جو اس کے بچوں کی ماں ہوں کبھی اس کی دوست نہ بن سکی۔ میرے نوخیز حسن کی نرماہٹ اس کو اپنی طرف لبھا سکی نہ میرے وجود کی تپش اس کو پگھلا سکی۔ اس کے ماتھے کے بل تھے کہ جاتے نہ تھے۔ میری تعلیم میرے کام نہ آسکیں اُلٹا میرے لئے طعنہ بن گئی۔ میری سکول کالج سے لی گئی اسناد شیلف کے کسی کونے میں پڑی ہیں اور میں ان کی طرح بے جان ہوتے جسم کو لے کر گھر کے کونے میں پڑے ایک پلنگ پر۔

میں ایک عورت جو ازل سے مرد کے لئے باعثِ تسکین بھی اور شرمندگی بھی۔ میں ایک عورت جس کے قدموں کے نیچے اللہ نے جنت رکھی لیکن یہی عورت مرد کو جنت سے نکلوانے کی مجرم مانی گئی۔ باپ کے کندھوں کا بوجھ، ماں کی آنکھوں کی اڑتی نیند، بھایؤں کے لئے طعنہ، شوہر کی ضرورت پوری کرنے کا سامان۔ میں کون ہوں جسے نگاہوں کے حصار میں رکھ کر زبان کی دھار سے کاٹا جاتا ہے۔ جسے رویوں سے نکلنے والے شعلوں سے عمر بھر جھلسایا جاتا ہے۔

کسی کوٹھے پہ سجی دل کو لبھاؤں تو مجھ پہ مال لٹایا جاتا ہے لیکن اگر گھر کی چاردیواری میں ہوں تو کھانا تک چھپا لیا جاتا ہے۔ آخر کون ہوں میں؟ ایک جیتی جاگتی زندہ لاش جو اپنی خواہشوں کو قربان کرکے اپنی خوشیوں پر فاتحہ پڑھ چکی۔ کسی ٹرین پہ لگی پٹٹری۔ جس پر کئی ٹن وزنی ٹرین اپنا بھاری بھرکم بوجھ لے کر پٹٹری کو روندتی بھاگتی چلی جاتی ہے۔ اور خاموش پٹٹری شور مچاتی، دھاڑتی چنگھاڑتی ٹرین کو خود پر سے گزر جانے دیتی ہے۔

جس کی سسکیاں ٹرین کے شور میں دب جاتی ہیں۔ میں ایک ایسی خاموش پٹٹری جو کبھی خفا نہیں ہوتی، کبھی شکوہ نہیں کرتی۔ صرف اس لئے کہ ٹرین چلتی رہے۔ میں ایک عورت جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہے۔ میں جو نسلوں کی پرورش کرتی ہوں کیا میرا حق نہیں کہ میں کھل کر مسکرا سکوں۔ کبھی شوہر سے روٹھوں تو وہ مجھ کو منا لے۔ کبھی بیمار ہوں تو میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر محبت کا بوسہ میرے ماتھے پہ ثبت کرے۔ اور کہہ دے میں ہوں نا۔

میں ایک عورت جو اپنی پیدائش سے محبت کی اسیر ہے۔ کیا ضروری ہے کہ اسے نفرت کی زنجیروں سے باندھا جائے۔ مرد حاکم ہے اور مجھے اس کی حاکمیت سے انکار نہیں۔ لیکن وہ بھی تو میرے ہونے کا اقرار کرے۔ عورت جس کے بارے کہا جاتا ہے اسے مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا تو یہ تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا کہ پسلیاں دو ہوتی ہیں۔ ایک پسلی کے بنا تو مرد بھی نہیں زندہ رہ سکتا۔ جیسے پٹٹری کے بغیر ٹرین بیکار ہے اسی طرح عورت کے بنا مرد ادھورا ہے۔ جب عورت آپ کی زندگی کا جزوِ لازم ہے تو پھر اس کے وجود کو تسلیم کیوں نہیں جاتا۔ اسے وہ مقام کیوں نہیں دیا جاتا جو اس کا حق ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •