گھوٹکی کی دو ہندو بچیاں اور اکیس سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

22 مارچ کو قوم یوم پاکستان منانے کی تیاریاں کر رہی تھی اور ہندو ہم وطن ہولی کی خوشیوں کے انتظار میں تھے۔ اچانک خبر آئی کہ ضلع گھوٹکی کے تعلقہ دہڑکی سے رینا اور روینا نام کی دو کم عمر ہندو بچیاں 20 مارچ سے لاپتہ ہیں۔ ان بچیوں کے مبینہ اغوا کا مقدمہ ان کے بھائی کی مدعیت میں تب درج کیا گیا جب علاقے کی ہندو برادری احتجاج میں سڑکوں پر نکل آئی۔ پھر خبر ملی کہ دونوں بچیوں کی ماں صدمے سے انتقال کر گئی ہے۔ پھر غم زدہ پاکستانیوں نے مغویہ بچیوں کے باپ ہری لال کو سربازار چیختے چلاتے اور سر پیٹتے دیکھا۔

چند گھنٹوں بعد سوشل میڈیا پر ایک وڈیو نظر آئی جس میں دونوں بچیاں گھوٹکی کی معروف مذہبی درگاہ عالیہ بھرچونڈی شریف کے تبدیلی مذہب کے لئے مشہور پیر سائیں عبدالخالق القادری کے دست حق پرست پر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر رہی تھیں۔ دونوں لڑکیوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے بہ رضا و رغبت اسلام قبول کرنے کے بعد دو مسلمان لڑکوں صفدر اور برکت علی ملک سے نکاح کر لیا ہے۔ دونوں لڑکے مبینہ طور پر مغویہ لڑکیوں کے محلے دار ہیں۔

 قومی سطح پر احتجاج کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے پولیس کو معاملے کی مکمل تحقیق کا حکم دیا۔ اس دوران میں اطلاع سامنے آئی کہ دونوں لڑکیاں پنجاب کے شہر بہاولپور میں موجود ہیں۔

آخری اطلاعات کے مطابق دونوں لڑکیوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی ذات اور اپنے مبینہ شوہروں کی حفاظت کے لئے درخواست دی ہے۔ اس موقع پر کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

  1. انتخابات کے دوران پاکستان کی عدالتوں کے اہل کاروں کے سامنے کوئی امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروانے آتا ہے تو اس کے دعوی اسلام کی تصدیق کے لئے اس سے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ کسی سے دعائے قنوت سنی جاتی ہے تو کسی سے ارکان اسلام کے بارے میں سوال ہوتا ہے۔ کیا رینا اور روینا کے قبول اسلام کی تصدیق کے لئے بھی اس طرح کی کوئی مشق کی گئی؟
  1. ڈان نیوز کے معروف صحافی مبشر زیدی نے ان بچیوں کے گھرانے کا ب فارم حاصل کر لیا ہے۔ اس کے مطابق بڑی لڑکی روینا بائی کی پیدائش 3 جنوری 2004 کی ہے گویا اس کی عمر 15 برس اور تین ماہ ہے۔ جب کہ اس کی چھوٹی بہن رینا بائی کی پیدائش یکم جون 2006 کی ہے گویا اس کی عمر 13 برس اور نو ماہ ہے۔ صوبہ سندھ میں قانون کے مطابق 18 برس سے کم عمر لڑکی کی شادی جائز نہیں۔ ان لڑکیوں کے ضمن میں اس قانون کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا؟
  1. دونوں لڑکیاں ناخواندہ ہیں۔ اسلامی تعلیمات سے ان کی آگہی کا ذریعہ کیوں معلوم نہیں کیا جا رہا؟ دونوں سے یہ سوال کیوں نہیں کیا گیا کہ وہ اسلام کی کونسی تعلیمات سے متاثر ہوئی ہیں؟
  1. دونوں مغویہ بچیاں سگی بہنیں ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں بہت عرصے سے اسلامی تعلیمات سے متاثر تھیں۔ کیا ان کے والدین، کسی ہم عمر یا قرابت دار سے اس قسم کے کسی رجحان کے بارے میں علم کی تصدیق کی گئی ہے؟
  1. پاکستان میں ہندو ایک قلیل اقلیت ہیں اور صوبہ سندھ میں ان کی مالی اور سماجی حالت پسماندہ ہے۔ دونوں بچیوں کا باپ ہری لال پیشے کے اعتبار سے درزی ہے۔ اگر یہ بچیاں اسلام قبول کرنا چاہتی تھیں تو ان کے والدین انہیں زبردستی اس ارادے سے باز رکھنے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے تھے۔ ان بچیوں نے قبول اسلام کا اعلان کرنے کی بجائے فرار پونے کا فیصلہ کیوں کیا؟
  1. کیا قبول اسلام جیسے قابل صد تحسین اقدام کے لئے گھر چھوڑتے وقت صفدر اور برکت نامی مسلمان لڑکے ان کے ہمراہ تھے یا نہیں؟ اگر تھے تو کس حیثیت میں؟
  1. گھوٹکی میں رہائش پذیر کم عمر ہندو بچیاں روینا بائی اور رینا بائی دہڑکی کی درگاہ عالیہ بھرچونڈی شریف تک کیسے پہنچیں؟ اسلام قبول کرنے کے لئے درگاہ عالیہ بھرچونڈی شریف جیسے مقدس مقام کی کوئی قید نہیں۔ انہوں نے قبول اسلام کے لئے درگاہ عالیہ بھرچونڈی شریف کا انتخاب کس بنیاد پر کیا؟
  1. گھوٹکی میں رہائش پذیر کم عمر ہندو بچیوں روینا بائی اور رینا بائی نے پریس کانفرنس کا اہتمام کیسے کیا؟ یہ پریس کانفرنس کس پریس کلب یا مقام پر منعقد ہوئی۔ اس میں کون سے صحافی شریک تھے؟ پریس کانفرنس میں موجود کسی صحافی کا نام کیوں ظاہر نہیں کیا گیا؟
  1. دونوں لڑکیاں روینا اور رینا اپنے مبینہ شوہروں برکت اور صفدر کو کب سے جانتی ہیں اور کیسے؟
  1. دونوں بہنوں روینا بائی اور رینا بائی نے قبول اسلام کا فیصلہ پہلے کیا یا برکت اور صفدر سے شادی کا؟
  1. دونوں بہنوں نے قبول اسلام کے بعد پنجاب روانگی کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا؟
  1. دونوں بہنوں روینا اور رینا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے تحفظ کی درخواست کس بنیاد پر کی؟ کیا متعلقہ ہائی کورٹ مثلاً سندھ ہائی کورٹ میں ان کی کوئی درخواست یا استدعا مسترد کی گئی؟
  1. دونوں بہنوں روینا اور رینا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست کس کے توسط سے دائر کی گئی؟
  1. گزشتہ پندرہ برس میں دہڑکی کی درگاہ عالیہ بھرچونڈی شریف میں کتنی ہندو لڑکیوں نے اسلام قبول کیا؟
  1. گزشتہ پندرہ برس میں دہڑکی کی درگاہ عالیہ بھرچونڈی شریف میں اسلام قبول کرنے والی لڑکیوں کی اوسط عمر کیا تھی؟
  1. گزشتہ پندرہ برس میں دہڑکی کی درگاہ عالیہ بھرچونڈی شریف میں کتنے ہندو لڑکوں نے اسلام قبول کیا؟
  1. گزشتہ پندرہ برس میں دہڑکی کی درگاہ عالیہ بھرچونڈی شریف میں اسلام قبول کرنے والے کتنے ہندو لڑکوں کا مسلمان لڑکیوں سے نکاح کیا گیا؟
  1. گزشتہ پندرہ برس میں دہڑکی کی درگاہ عالیہ بھرچونڈی شریف میں کتنے غیر ہندو افراد مثلاً مسیحی یا پارسی نے اسلام قبول کیا؟
  1. دونوں بہنوں روینا اور رینا نے اپنے تحفظ کی درخواست کی ہے۔ ان کی ماں مر چکی ہے۔ بھائی کم عمر ہے۔ باپ سڑک پر پچھاڑیں کھا رہا ہے۔ انہیں کس سے خطرہ ہے؟
  2. پاکستان کی مختصر اقلیت ہندو کمیونٹی کی طرف سے خطرہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دونوں لڑکیوں کو زبردستی اغوا کر کے اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ کیا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت نے اس الزام کی تحقیق کے لئے کسی اقدام کا اعلان کیا؟
  3. دہڑکی کی درگاہ عالیہ بھرچونڈی شریف کے سجادہ نشین پیر سائیں عبدالخالق القادری کا ذریعہ معاش کیا ہے؟ وہ کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں؟  کیا ان کے اثاثے ان کی ظاہر کردہ آمدنی سے مطابقت رکھتے ہیں؟
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •