ڈاکٹر عافیہ کا بت اور چند حقائق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک خاتون ہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی۔ جن کا نام سنتے ہی پاکستانیوں کی اکثریت کے دل میں نرمی اور رحم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک پاکستان خاتون جو غیر ملکی قید میں ہے، اپنے بچوں سے دور ہے، جس پر مبینہ طور پر شدید جسمانی، جنسی اور نفسیاتی تشدد کیا گیا ہے، کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا ہونا فطری ہے۔ عافیہ صدیقی خوش قسمت ہیں کہ پاکستان میں ان کی سٹوری ہٹ ہوئی، اور گاہے بگاہے ان کی رہائی کے لئے تحریکیں چلتی رہتی ہیں۔

میرا سوال قدرے ہٹ کر ہے۔ عمومی مشاہدہ ہے کہ جہاں دو انتہائی مخالف نکتہ نظر میں بحثِ قول و فعل جاری ہو، ہر دو نکتہ ہائے نظر ہی مکمل درست نہیں ہوتے۔ حقیقت کہیں دو انتہاؤں کے بیچ ہوتی ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ کون کون سے دلائل ہم قبول کرتے ہیں۔ اس لئے حتمی سچ کچھ نہیں ہوتا۔ ہر فرد مختلف عوامل کی بنیاد پر اپنی رائے مرتب کرتا ہے۔ چونکہ ایک حساس موضوع زیرِ بحث ہے، اس لئے احباب سے گزارش ہے کہ تحمل سے پیش کردہ دلائل پر غور کریں، اور اپنی رائے میں اگر مناسب سمجھیں تو کچھ لچک پیدا کر لیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی ستمبر 2001 تک ایک عام پاکستانی امریکن خاتون تھیں۔ کراچی کے ایک متوسط طبقے کے مذہبی گھرانے سے تعلق تھا۔ 1995 میں امریکہ میں امجد خان نامی ایک پاکستانی سے شادی ہوئی۔ 2002 میں اسلحہ اور کچھ مشکوک سامان آن لائن خریدنے پر ایف بی آئی نے دونوں میاں بیوی سے تفتیش کی، اور کچھ عرصے کے بعد کلئیر کر دیا۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد دونوں میاں بیوی کے درمیان اختلافات شروع ہوئے جو طلاق پر منتج ہوئے۔ 2003 میں عمار البلوچی سے عافیہ صدیقی کی دوسری شادی ہوئی۔ 2003 میں ہی کراچی میں اپنے گھر سے ائیرپورٹ جاتے ہوئے عافیہ صدیقی اپنے بچوں کے ساتھ لاپتہ ہو گئیں۔ یہاں تک کی کہانی ہر دوسرے پاکستانی کو ازبر ہے۔

معظم احمد بیگ، جو بگرام اور پھر گوانتاناموبے میں قید رہے، انہوں نے رہائی کے بعد ایک کتاب لکھی جس میں بگرام جیل میں سنائی دینے والی کسی خاتون کی چیخوں کا ذکر کیا۔ امریکی صحافی یوآن ریڈلی جو طالبان کی قید میں رہیں اور رہائی کے بعد اسلام قبول کر لیا نے انکشاف کیا کہ بگرام میں سنائی دینے والی چیخیں پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی تھیں۔ یہاں سے پاکستانی میڈیا میں عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے ایک مہم شروع ہوئے۔ موجودہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے یو آن ریڈلی اور فوزیہ صدیقی کے ہمراہ پریس کانفرنس بھی کی اور عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

کچھ مصدقہ حقائق اور بھی ہیں، جنہیں عموماً ہمارے قومی بیانیے میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً عافیہ صدیقی کا دوسرا شوہر عمار البلوچی کون ہے؟ عمار البلوچی کا خالد شیخ محمد سے کیا تعلق ہے؟ رمزی یوسف سے عمار البلوچی اور عافیہ کا کیا تعلق ہے؟ تو عرض ہے کہ خالد شیخ محمد پاکستانی نژاد کویتی شہری ہے جسے نائن الیون حملے کا ماسٹر مائنڈ تصور کیا جاتا ہے۔ اسے 2003 میں راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا۔ عمار البلوچی اسی خالد شیخ کا بھانجا ہے۔

رمزی یوسف 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والی فائرنگ کا مرکزی مجرم ہے، اس کے علاوہ اس پر دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث ہونے کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔ رمزی یوسف بھی خالد شیخ کا بھانجا ہے اور عمار البلوچی کی تربیت میں رمزی کا کردار کلیدی سمجھا جاتا ہے۔ عمار البلوچی اور خالد شیخ محمد اس وقت گوانتاناموبے میں قید ہیں جبکہ رمزی یوسف امریکی ریاست کولوراڈو کی ایک جیل میں قید ہے۔ خالد شیخ محمد کو القاعدہ کے مرکزی رہنماؤن میں شمار کیا جاتا تھا۔

2003 میں خالد شیخ کی گرفتاری کے بعد اسی کی اطلاع پر کراچی سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اغوا کیا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر دہشت گردی کے کسی واقعے میں براہِ راست ملوث ہونے کا نہ کوئی ثبوت ملا اور نہ ہی ان پر دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا گیا۔ غزنی میں قید کے دوران رائفل سے امریکی فوجیوں پر فائرنگ کرنے کے جرم میں ان پر امریکہ میں مقدمہ چلا کر چھیاسی سال قید کی سزا سنائی گئی۔

میرا سوال یہ ہے کہ امریکہ میں لگ بھگ پانچ لاکھ پاکستانی تارکینِ وطن رہتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی عافیہ صدیقی جیسے حالات سے نہیں گزرنا پڑا۔ آخر کوئی تو وجہ ہو گی کہ ایک عام پاکستانی خاتون اتنی اہم ہو گئی کہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کو مشترکہ آپریشن کرنا پڑا؟ دہشت گردوں کو اپنی نقل و حرکت کو کور کرنے، اور اشیائے ضروریہ کے لئے کوئی سافٹ چہرہ درکار ہوتا ہے۔ یہ سافٹ چہرہ ظاہری طور پر ایک نارمل زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ دہشت گردوں کا سہولت کار ہوتا ہے۔

عافیہ صدیقی نے یہی کردار ادا کیا۔ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے چند روز بعد جب عافیہ صدیقی امریکہ روانگی کے لئے گھر سے نکلیں تو انہیں اغوا کر لیا گیا۔ (گرفتار کا لفظ اس لئے نہیں استعمال کیا کہ ان کی گرفتاری ڈکلئیر نہیں کی گئی، اور کئی سال تک وہ لاپتہ رہیں۔ ) خالد شیخ محمد کی مخبری پر ہی عافیہ صدیقی کو اغوا کیا گیا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خالد شیخ محمد، رمزی یوسف اور عمار البلوچی دہشت گرد ہیں یا ہیرو؟ ہمارے ریاستی بیانیے کے مطابق یہ تینوں دہشت گرد ہیں، اور عافیہ صدیقی ان میں سے دو یعنی خالد شیخ اور اپنے شوہر عمار البلوچی کی سہولت کار تھی۔ ہمارے قومی جذبات میں ہر وہ فرد جو امریکہ کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہو، ہم اسے ہیرو بنا لیتے ہیں۔ بھلے وہ ایمل کانسی ہو، اسامہ بن لادن ہو یا خالد شیخ محمد۔ جیسا کہ ہمیشہ عرض کیا کہ یہ ہماری قومی کنفیوژن ہے۔ ریاستی سطح پر ہم امریکہ کے اتحادی اور دوست ہوتے ہیں۔ ہر حکومت امریکہ سے اچھے تعلقات چاہتی ہے۔ لیکن اپوزیشن، میڈیا اور معاشرے کا قریب قریب ہر طبقہ اینٹی امریکہ جذبات کی پذیرائی کرتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ امریکہ ہمارا دوست ہے یا دشمن۔ بے گناہ انسانوں کی جانیں لینے والے ہمارے دشمن ہیں یا ہیرو۔ اگر تو خالد شیخ محمد، رمزی یوسف اور عمار البلوچی دہشت گرد ہیں، تو عافیہ صدیقی بھی دہشت گرد اور ان کی سہولت کار ہے۔ اگر مذکورہ تینوں افراد اینٹی امریکہ مزاحمت کا استعارہ ہیں تو پھر عافیہ بھی قوم کی بیٹی ہے۔

جس دن یہ قومی کنفیوژن دور ہو گئی، اور ہم دہشت گردی کی کسی ایک تعریف پر متفق ہو گئے، اس دن یہ بکھیڑا ہی ختم ہو جائے گا۔ ہم کیسے بے گناہ انسانوں کی جانیں لینے والوں کو گلیمرائز کر سکتے ہیں؟ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو کسی ایک حد کا تعین ہمارے اختیار میں نہیں رہتا۔ پھر ممتاز قادری سلمان تاثیر کو قتل کر کے ایک کثیر طبقے کا ہیرو بن جاتا ہے اور پھر یہ سلسلہ کہیں رکتا نہیں۔ یقین نہ آئیے تو دیکھ لیجیے کہ چند روز پہلے بہاولپور میں خطیب حسین نامی ایک جاہل انتہا پسند کے ہاتھوں اپنے ہی استاد کے قتل کو مخصوص طبقے میں باقاعدہ سیلیبریٹ کیا گیا۔

جب آپ کسی انسان کو دوسرے انسان کی جان لینے کی اجازت دیں گے، تو پھر یہ سلسلہ کہیں رکے گا نہیں۔ اسلام تو کہتا ہے کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ اور علما متفق ہیں کہ جہاد کا اعلان اور اس پر عمل ریاست کا اختیار ہے، کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنے طور پر کسی کے خلاف جہاد کا اعلان کرے، جسے غلط سمجھے اسے قتل کر دے۔ اب اس پیمانے سے خالد شیخ محمد، رمزی یوسف اور عمار البلوچی میرے ہیرو تو نہیں ہو سکتے۔

انہیں صاف اور واضح طور پر دہشت گرد کہا جانا چاہیے۔ عافیہ صدیقی کو آپ جو چاہیں قرار دے دیں، دہشت گرد یا قوم کی بیٹی۔ تاہم یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ دہشت گردوں کی سہولت کار ہونے کے باوجود عافیہ صدیقی کو انسانی بنیادوں پر کراچی کی کسی جیل میں منتقل کر دیا جائے جہاں وہ نسبتاً بہتر ماحول میں اپنی قید گزار سکے، اور اپنے گھر والوں سے بھی مل سکے۔ ایک قیدی کے طور پر یہ اس کا حق ہے۔ باقی جو لوگ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لئے انصاف مانگ رہے ہیں شاید ان کی خواہش پوری ہو چکی ہے، کہ عدالت تو اپنا فیصلہ دے چکی۔ اب انسانی بنیادوں پر ہمدردی اور رحم کی کوشش کی جانی چاہیے۔ انصاف مانگنے والوں کا خدا بھلا کرے!

پسِ تحریر: ڈاکٹر عبدالقدیر کے حوالے گزشتہ کالم پر شدید اور متضاد ردِعمل آیا۔ جن احباب نے تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف کیا اور سوال کیا، ان میں سے بیشتر کے جواب کالم میں ہی موجود تھے۔ کوشش کی کہ فرداً فرداً دلیل سے مکالمہ کر کے جواب عرض کر سکوں۔ اعتراض کرنے والوں میں سے بیشتر کے فیڈ بیک سے واضح تھا کہ انہوں نے پورا کالم پڑھا ہی نہیں، وگرنہ انہیں اپنے سوال کا جواب مل جاتا۔ اکثریت نے محض سنی سنائی باتوں کے بل پر دشنام سے نوازا۔

بہت سے احباب نے اتفاق بھی کیا اور ستائش بھی۔ معاشرے میں مکالمے اور دلیل سے ہی بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ اگر میری دلیل میں دم ہوگا تو احباب اس پر غور کریں گے، ورنہ لکھنے والے کی بات اپنا اثر کھو دے گی۔ اس تحریر کے ضمن میں بھی یہی گزارش ہے کہ اگر میری بیان کردہ کوئی بات غلط لگے تو خود تحقیق کریں۔ اور اگر میں غلط ثابت ہو جاؤں تو براہِ کرم مطع کیجئے تا کہ میں اپنی اصلاح کر سکوں اور اگر بیان کردہ حقائق درست ثابت ہوں تو غلط بات پر اڑ جانے کی بجائے اپنی اصلاح کر کے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •