ایک انسان کی خودکشی اور ”نیب“۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے حوالے سے ایسے ادوار کم کم ہی دیکھنے کو ملے ہیں جب ملک میں امن و سکون کا دور دورہ ہو، معیشت تیز رفتاری کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہو، روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہوں، خارجہ پالیسی نے سبز پاسپورٹ کی حرمت میں اضافہ کر دیا ہو، تعلیم و صحت جیسے سماجی شعبے نشونما پا رہے ہوں، ملک سیاسی استحکام سے ہمکنار ہو اور جمہوریت کسی آلائش کے بغیر دستوری تقاضوں کے عین مطابق، مضبوط قدموں پر کھڑی ہو۔ اگر کبھی حالات ساز گار بھی ہوئے اور لگا کہ ملک تعمیر و ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا ہے تو اچانک کسی کی نظر بد کھا گئی اور ہم پھر سے کئی سال پیچھے کی طرف لڑھک گئے۔

ان دنوں بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں۔ تمام تر نعروں اور دعووں کے با وجود عوام کی بڑی اکثریت مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہے۔ ایک طرف بھارت کے جارحانہ عزائم ہیں، ایک طرف قرضوں میں جکڑی معیشت اور ایک طرف آہستہ آہستہ گہرا ہوتا ہوا سیاسی انتشار۔ تجزیہ نگار اس صورتحال کے درجنوں اسباب کا حوالہ دیتے ہیں لیکن ایک حوالہ کسی بلا کی طرح ملک اور قوم کے اعصاب کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اس بلا یا آسیب کا نام ہے ”نیب“۔ یا قومی احتساب بیورو۔

پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر اسد منیر کی خود کشی نے، نیب کے حوالے سے ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے اٹھا دیا ہے کہ کیا یہ ادارہ بے لا گ اور غیر جانبدارانہ احتساب کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یا اس کا کام محض لوگوں کی عزت نفس مجروع کرنا، الزامات لگانا اور پگڑیاں اچھالنا رہ گیا ہے۔ اس ادارے کو وجود میں آئے بیس سال ہو گئے ہیں۔ دو دہائیوں کے دوران شاید ہی کوئی ایسی روشن مثال ہو کہ اس ادارے نے واقعی کسی بڑی کرپشن کے خلاف کوئی ایسی موثر کارروائی کی جو ہر طرح کی سیاسی آلائش سے پاک تھی۔ حالیہ چند ماہ میں اعلیٰ عدلیہ بھی نیب کے بارے میں مسلسل منفی ریماکس دے رہی ہے۔ آئے روز اہل کاروں کی نا اہلیت کا رونا رویا جاتا ہے۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے لیکن حالات کار میں کوئی بہتری نہیں آرہی۔

خود کشی سے قبل، جناب چیف جسٹس کے نام بریگیڈئر (ر) اسد منیر کا ایک خط سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ اس خط کے مندرجات پوری قوم خاص طور پر پارلیمنٹ کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسد منیر کسی ذہنی کرب اور اذیت سے گزرے ہوں گے کہ آخر کار ان کے اعصاب جواب دے گئے اور انہوں نے اس کرب و اذیت سے نجات پانے کے لئے اپنی زندگی ہی کا خاتمہ کر لیا۔ انہوں نے خاص طور پر اس توہین آمیز غیر انسانی برتاؤ کا ذکر کیا ہے جو نیب کے اہلکاروں کا معمول بن چکا ہے۔

یہ روایت ایوب خان کے مارشل لاء سے چلی آرہی ہے کہ جو سیاستدان، سرکار اور دربار کا حصہ بننے اور اپنا ضمیر بیچنے سے انکار کر دیں، انہیں سیاست کے میدان سے باہر کر دیا جائے یا پھر مختلف حیلوں بہانوں سے اتنا تنگ کیا جائے کہ وہ ”بغاوت“ چھوڑ دیں۔ ”نیب“ کا قانون اسی ناقابل رشک روایت کی ایک کڑی ہے۔ پرویز مشرف کو بھی ایوب خان اور ضیا الحق ہی کی طرح جب اپنی آمریت کو سیاست یا جمہوریت کا لبادہ پہنانے کے لئے سیاستدانوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے نیب کا ادارہ تخلیق کیا۔

شروع سے ہی اس ادارے نے، ڈکٹیٹر مشرف کے منصوبے کے عین مطابق سیاستدانوں کو ہراساں کرنے کا مشن اپنا لیا۔ جو مشرف کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو گیا۔ وہ چاہے کتنا ہی بڑا کرپٹ اور بد عنوان کیوں نہ ہو، پاک صاف اور معصوم قرار پایا۔ جس کسی نے اپنے ضمیر کا سودا کرنے سے انکار کر دیا اسے احتساب کی چکی میں پیساجانے لگا۔ نیب کا کم و بیش یہی کردار آج بھی باقی ہے۔

مئی 2006 میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے درمیان ایک میثاق جمہوریت طے پایا۔ میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس اہم دستاویز پر دستخط کیے۔ 36 نکات پر مشتمل میثاق جمہوریت کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ نیب کے رسوائے زمانہ قانون کو ختم کر کے احتساب کا ایک زیادہ موثراور با وقار نظام وضع کیا جائے گا۔ دونوں جماعتوں میں یہ بھی طے پایا تھا کہ مشرف کے دور آمریت میں، آئین پاکستان میں کی جانے والی تمام ترامیم کو ختم کر کے آئین کو 12 اکتوبر 1999 سے قبل کی شکل میں ”بحال“ کیا جائے گا۔

پرویزمشرف کے بعد 5 سال پیپلز پارٹی اور 5 سال مسلم لیگ (ن) کو حکومت ملی، لیکن مقام افسوس کہ ان دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت کی ان شقوں کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ دونوں اپنے اپنے ادوار حکومت میں اسے مخالفین کو ہراساں کرنے کا ہتھیار خیال کرتی رہیں۔ آئین کو مشرف کے تجاوزات سے پاک کرنے کے لئے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی گئی لیکن ”نیب“ اپنی جگہ جوں کا توں موجود رہا۔ آج مشرف کا یہی قانون خاص طور پر اپوزیشن کی دونوں جماعتوں کے خلاف بے دردی سے استعمال ہو رہا ہے۔

دونوں جماعتیں شور بھی کر رہی ہیں لیکن پی۔ ٹی۔ آئی وہی کچھ کر رہی ہے جو یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے دور حکومت میں کرتی رہیں۔

”نیب“ کی ساکھ ختم ہو چکی ہے۔ قومی سطح پہ اس کا اعتبار بھی باقی نہیں رہا۔ اس کی غیر جانبداری پر بھی واضح سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس میں بھی اب کوئی شک نہیں رہا کہ نیب الیکشن سے پہلے، الیکشن کے بعد اور اب بھی کچھ مخصوص لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے اہلکاروں کی اہلیت اور صلاحیت کا بھانڈہ بھی پھوٹ چکا ہے۔ اس بات میں بھی کوئی شک باقی نہیں رہا کہ اس کے بنائے ہوئے مقدمات قانون اور انصاف کی میزان پر پورے نہیں اترتے۔

یہ ادارہ اپوزیشن اور حکومت میں خلیج کو بھی وسیع کر رہا ہے جس سے سیاسی بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی بے ہنگم کارروائیوں نے بیوروکریسی کو اس قدر ڈرا دیا ہے کہ حکومتوں کے کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ تاجر اور صنعت کار بھی اس کی دست درازیوں سے تنگ آگئے ہیں جس سے سرمایہ کاری رک گئی ہے۔ مختصر یہ کہ اس وقت ”نیب“ کوئی ایک بھی ایسا کام نہیں کر رہا جو ملکی و قومی مفاد میں ہو۔

جہاں تک کرپشن کے خلاف اقدامات اور احتساب کا تعلق ہے، اس کی اہمیت اور ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ احتساب سے عمل سے سیاسی انتقام اور جانبداری کا تاثر نہ ابھرے۔ یاد رہے کہ ہمارے ہاں پہلے سے احتساب کے ادارے موجود ہیں۔ ا نسداد بد عنوانی نامی ادارے کو چھوڑیے، ایف۔ آئی۔ اے کا بنیادی وظیفہ کیا ہے؟ یہی ناں کہ وہ وائٹ کالر کرائم یا کسی بھی شکل کی کرپشن کے خلاف اقدام کرئے۔ ایسے میں ”نیب“ کا جواز سمجھ سے بالاہے؟ بھارت جیسا بڑا ملک، دنیا کے لا تعداد دوسرے ممالک ہی کی طرح روایتی اداروں ہی کے ذریعے احتساب کر رہا ہے۔ آخر ہم دور آمریت کی اس یادگار کو سینے سے لگائے رکھنے پر کیوں بضد ہیں؟

بریگیڈئر (ر) اسد منیر نے اپنی زندگی کا چراغ خود اپنے ہاتھوں گل کر کیا۔ کیا یہ المناک واقعہ ”نیب“ کو بھی اپنے انجام سے دوچار کر سکتا ہے؟

۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •