صبر ظالم کی چڑ ہے
بچپن سے حضرت بلالؓ کا واقعہ سنتے اور پڑھتے آئے ہیں جس سے امیہ بن خلف کے ان پر مظالم اور ان کے صبر و استقامت کے ساتھ احد، احد پکارتے ہوئے دین اسلام پر قائم رہنے کا بیان بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے حضرت عمرؓ پر بنی ہوئی ایک ٹی وی سیریز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ سیریز عربی میں ہے لیکن انگریزی سبٹائیٹلز مہیا ہیں۔ مذکورہ سیریز میں حضرت بلالؓ کے واقعہ کو ایک اور نقطہ نظر سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔
دنیا میں رونما ہونے والے کسی بھی واقعہ کی اپنی اہمیت تو جو ہوتی ہی ہے سو ہوتی ہے لیکن اس کے متعلق حاضرین و ناظرین کے تاثرات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوتے۔ بالکل اسی طرح حضرت بلال کے واقعہ پر وہاں پر موجود حضرات کے تبصرے اس سیریز میں دکھائے گئے ہیں جو دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کے دماغ کے لیے نئی راہیں منور ہونے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ یا د رہے کہ مکہ میں اس وقت کفار کی اکثریت تھی اور مسلمان اقلیت اس ظلم کو ہوتے ہوئے دیکھ کر صرف کڑھ ہی سکتے تھے اور یہ تبصرہ نگار وہی کفار تھے جو اس تماشے کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے جس کا اعلان امیہ نے کیا تھا۔
لوگ جمع ہیں امیہ حضرت بلال کو دھوپ میں تپتی ریت پر لٹا کر کوڑے مار رہا ہے اور لوگ تبصرے کر رہے ہیں خالد بن ولید بولتے ہیں، ”وہ مرنے والا ہے“ جس پر عمرو ابن العاص تعجب کا اظہار کرتے ہوئے پوچھنا ”ان دونوں میں سے کون؟ “ اپنے اندر معنی آفرینی کی دینا سموئے ہوئے ہے اور پھر کیا خوبصورت تبصرہ فرماتے ہیں
عمرو: یہ وہ صورت حال ہے جس میں انسانوں کی بدترین خصلتیں باہر آ جاتی ہیں۔
خالد : اور بہترین خصلتیں بھی، کس نے سوچا تھا کہ امیہ ابن خلف کا غلام بلال ابن رباح صبر و استقامت کی وہ مثال قائم کرے گا جو کہ صرف پہاڑوں کی خاصیت ہے۔ خدا کی قسم بلال اس پتھر کے نیچے بھی امیہ ابن خلف، قبیلہ جمح کے سردار، سے مضبوط اور عظیم ہے۔
چونکہ حسب معمول راجہ صاحب تشریف فرما تھے سو ممکن نہ تھا کہ وہ خاموش رہتے۔ کہنے لگے جب مظلوم ظلم سہتے ہوئے چیخیں مارنی بند کردے تو ظالم کو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ یعنی جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں جس پر پہنچ کر جون ایلیا پکار اٹھا تھا کہ
اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی
تو ظالم کا بازو ٹوٹ جاتا ہے۔ مظلوم کی چیخیں اسے طاقت عطا کرتی ہیں اور جب وہ سنائی نہیں دیتیں تو ظالم ایسی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے جسے اس کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ اکثر روزمرہ کی زندگی میں ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کے متعلق لوگ مختلف قسموں میں آسانی سے تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ مظلوم اور اس کے متعلقین، ظالم اور اس کے متعلقین اور آڈئینس۔ آڈئینس میں بھی مختلف گروہ ہوتے ہیں کچھ تماشے سے محظوظ ہورہے ہوتے ہیں، کچھ مظلوم کے صبر کی حد کا جائزہ لینے کے لیے متجسس اور بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو ظالم کی چیخیں سنتے ہیں، اس تکلیف کو پہچانتے ہیں جو اس کے چہرے پر عیاں ہوتی ہے جس پر نہ واویلا کیا جا سکتا ہے نا ہی لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹی جا سکتی ہیں۔ اس صورت حال پر امیہ کا اپنا تبصرہ بھی غور کے لائق ہے جو اپنے بیٹے سفوان کے ساتھ مشورہ کرتے ہوئے کرتا ہے۔
صفوان: اللہ کی قسم ایسے لگتا ہے جیسے آپ نہیں وہ آپ کو ٹارچر کر رہا تھا
امیہ: تم ٹھیک کہتے ہو، میں نے لوگوں کو دیکھا ہے جو ہم دونوں کو دیکھ رہے تھے، اور مجھے نہیں معلوم وہ مجھ پر زیادہ ترس کھا رہے تھے یا اس (بلال) پر۔ وہ موت سے نہیں ڈرتا اور میں مزید ظلم کرنے سے ڈرتا ہوں کہ وہ میری بات ماننے سے پہلے ہی نہ مر جائے۔ یہ میرے لیے بہت بے عزتی کی بات ہوگی اور اگر وہ میری بات مانے بغیر زندہ بچ گیا تو یہ حالت میرے لیے زیادہ ذلت آمیز ہوگی، اس نے تو میرے لیے کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا۔
راجہ صاحب کہا ں چپ رہنے والے تھے، کہنے لگے اب سمجھے تم میں کیا کہنا چاہتا تھا، ظالم اس لیے ظلم نہیں کرتا کہ اسے شوق ہوتا ہے اصل میں اسے اپنی بات نہ مانے جانے کا دکھ ہوتا ہے جس کی تسکین کے لیے وہ مظلوم کی چیخوں سے مرہم کا کام لیتا ہے ایک بات یاد رکھنا، صبر ظالم کی چڑ ہے جو ا س کی راتوں کی نیند حرام کر دیتا ہے۔ دنیا میں ہونے والے ہر واقعہ کو اسی طرح پرکھ کے اندازہ لگا لینا چاہیے کہ کون کس حالت میں ہے۔


