جیسنڈا آرڈرن تمھیں سلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حقیقت تو یہ ہے کہ 15 مارچ سے پہلے میں جہاں بہت سے ملکوں کے وزراء اعظم کے ناموں سے ناواقف تھی ان میں نیوزی لینڈ کی پرائم منسٹر بھی شامل تھیں۔ اور یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ ایک خاتون ہیں۔ 15 مارچ کے سانحے کے بعد وہ جس طرح ایک عظیم راہنما کی صورت میں سامنے آئی ہیں اُ سکی نظیر بہت کم ملتی ہے۔

میں کیا اور میری بساط کیا سارے ہی اخبارات کے کالمزاور الیکٹرانک میڈیا ان کی تعریفوں سے بھرے پڑے ہیں اور ہر مذہب کا اعتدال پسند انسان ان کی مدح سرائی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ لفظ اعتدال پسند میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کیونکہ میری ناقص رائے میں جو لوگ مذہب کے نام پر شدت پسندی اختیار کرتے ہیں چاہے وہ شدت پسندی ذہنی ہو یا عملی ان کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا۔ کیونکہ مذہب کا اور توازن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

امام حسین کا قول ہے کہ ”ظلم کے خلاف اٹھنے میں جتنی دیر کرو گے اس کی قیمت بھی اتنی ہی زیادہ دینی پڑے گی“

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم اپنے ملک میں ہونے والے ظلم پر جس طرح بلا خوف و خطر اور بلا امتیاز کھڑی ہوئی ہیں مجھے یقین ہے کہ اب اس سرزمین پر یہ ظلم آخری ہوگا۔ ظلم تو ظلم ہے چاہے کسی کے ساتھ ہو اور پہلی دفعہ دوسرے ممالک کے لوگو ں نے مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور سچ بات تو یہ ہے کہ یورپ میں زندگی میں پہلی بار میں نے بھی بحیثیت مسلمان اپنا سر تھوڑا سا بلند کیا۔ کیونکہ نام نہاد اور اپنے آپ کو مسلمان کہنے والوں نے ہمیں اس قابل رکھا ہی کہاں ہے کہ ہم سر اٹھا کر چل سکیں۔

جس بہادری کے ساتھ وہ مساجد میں گئیں، روتی ہوئی خواتین کو گلے لگا کر تسلی دی اور تو اور ان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی کہ میں آپ لوگوں کی حفاظت نہ کر سکی یا اللہّ یہ کیسی لیڈر ہے، ہمیں یہ لیڈر کم اور دنیا کا آٹھواں عجوبہ زیادہ لگ رہی تھی کیونکہ ہم نے اپنے ملکوں میں تو ہر طرف ظلم ہی ظلم دیکھا ہے چاہے وہ ایک فرقہ دوسرے فرقہ پر کررہا ہو، ٹارگٹڈ کلنگ ہو، بم بلاسٹ ہو، امیر غریب کے ساتھ کر رہا ہو، طاقتور کمزور کے ساتھ کر رہا ہو یا کوئی مالکن گھر میں خریدی ہوئی دس بارہ سال کی کام کرنے والی بچی سے یہ ظلم کررہی ہوکوئی پوچھنے والا نہیں اور اگر میڈیا کی نظر خوش قسمتی سے کسی ایک ظلم پر پڑ جائے تو سمجھوکچھ دنوں کے لئے اخبارات کو لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے نیا موضوع مل گیا۔

کچھ این جی اوز بھی مظلوموں کے حق کے لیے کھڑی ہوجاتی ہیں پھر ہوتا کچھ یوں ہے کہ چیف جسٹس، وزیراعظم، یا وزیر اعلیٰ اس کا گھر بیٹھے بیٹھے نوٹس لے لیتے ہیں، پھر اگلے دن ایک خبر آتی ہے کہ اس واقعے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ ایک دو دن کے بعد خبر بالکل غائب ہوجاتی ہے، یہ لیجیے ایک نام نہاد اسلامی ملک میں انصاف ہوگیا اور ہاں اگر غلطی سے کوئی نیک اور ایماندار شخص اس کمیٹی میں شامل ہوگیا تو کچھ دنوں کے بعد اس شخص کے لا پتہ ہونے یا اس کی پراسرار موت کی چھوٹی سی خبر آجاتی ہے ورنہ اس کی بھی ضرورت نہیں۔

ہم لوگ تو اس قسم کا انصاف دیکھنے کے عادی تھے ہمیں تو جیسنڈا آرڈرن دنیا کا آٹھواں عجوبہ نہ لگتی تو کیا لگتی؟ اگر لیڈر ایسے ہوں تو عوام بھی ان جیسی ہوتی ہے اوراپنے لیڈر کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔ جس طرح نیوزی لینڈ کے عوام نے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا کھلے دل سے اظہار کیا اس کی موجودہ دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

اور ہمارے ملکوں میں اگر غلطی سے کوئی اقلیتوں کے ساتھ انصاف کی بات بھی کرنے کا کہہ دے تو نتیجہ سلمان تاثیر جیسی مشہور شخصیت کی قتل کی صورت میں سامنے آتا ہے اور ستم ظریفی یہ کہ ہماری قوم قاتل کو ہیرو بنا دیتی ہے، سچ تو یہ ہے کہ ہماری قوم کی اکثریت اسلام کے نام پر جس قدر گمراہی کا شکار ہو چکی ہے ایسی قوم کا حقیقی اسلام اور اس کی روح سے دور دور بھی کوئی تعلق نہیں۔

سوچتی ہوں کہ جس طرح کی ہم قوم بن گئے ہیں ہمیں تو جیسنڈا آرڈرن جیسی لیڈر کے لئے صدیوں انتظار کرنا پڑے گا اور ہوسکتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے اعمال درست نہ کیے تو یہ انتظارانتظار ہی رہ جائے۔

واہ جیسنڈا آرڈرن نیوزی لینڈ میں تم نے پہلی دفعہ ہر جگہ اذان کروادی جس سے پتا چلا کہ اس اذان کے معنی تو صرف خیر ہی خیراور بھلائی ہی بھلائی ہے، تقریر کا آغاز سلام سے کیا تو اس کا مطلب تو امن ہی امن ہے۔ لگتا ہے صحیح اسلام کو تو صرف تم نے سمجھا حقیقی اسلام کا چہرہ تو تم سب کے سامنے لائی ہو، اسی کردار کا مظاہرہ کیا ہے جس طرح کی کردار سازی محمد عربی اعلان نبوت سے پہلے چالیس سال ایام جاہلیت میں کرتے رہے، صحیح اسلام کی خدمت تو تم نے کی ہے۔

محسوس ہوتا ہے کہ صرف تم ہی مالک اشتر کے نام علی ابن ابی طالب کی نصیحت کے صحیح مفہوم کو سمجھ سکیں کہ ”تمہارے محکوم یا تو تمہارے برادر ایمانی ہیں یا تم جیسی ہی اور تمہارے مساوی اللہ کی مخلوق“۔ سچ تو یہ ہے کہ تم نے صرف انسانیت دکھائی، دردمند دل دکھایا، انصاف کی بات کی، جوکہ آج کل کے دور میں ناپید ہوچکی ہیں۔ یہ ہی باتیں تو اسلام کی بنیاد ہیں اسی لئے تو ہمیں تم کچھ مختلف لگ رہی ہو کیونکہ ہم اب عادی نہیں رہے ایسی لیڈرشپ کے۔

نیوزی لینڈ کے سارے اخبارات نے جب اپنے پہلے صفحے پر جلی حروف میں لفظ سلام چھاپا تو میں اپنی بھیگی آنکھوں کے ساتھ فقط ایک جملہ ادا کرسکی
جیسنڈا آرڈرن تمھیں سلام


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).