آرمی پبلک سکول کے ایک شہید بچے کا اپنی ماں کے نام خط

پیاری امی جان السلام وعلیکم، 16 دسمبر ایک بار پھر آن پہنچا، آپ سے بچھڑے ہوئے آٹھ سال ہونے کو آئے۔ اس لئے سوچا کہ یہ خط آپ کو لکھوں، کیوں کہ مجھے پتا ہے کہ آپ آٹھ سال گزرنے کے باوجود آج بھی پہلے دن کی طرح دکھی ہیں اور جیسے جیسے دسمبر ستم گر قریب آتا ہے آپ کی بے چینیاں بڑھ جاتی ہیں۔ وہ دن آپ اور آپ جیسی کئی ماؤں پر قیامت بن کر آیا تھا۔

Read more

برطانیہ کے وزیر اعظموں کے استعفے اور پاکستانی سیاستدان

تقریباً ربع صدی یہاں برطانیہ میں ہم نے گزار دی اور تقریباً اتنی ہی زندگی ہم نے پاکستان میں گزاری۔ اگر ہم شعوری اور عملی زندگی کو لیں تو سمجھئے زیادہ وقت برطانیہ میں ہی گزرا۔ نہ جانے کیوں پچھلے کچھ دنوں سے دماغ میں دونوں ملکوں کے سیاستدانوں کا ایک تقابلی جائزہ چل رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں ہماری برطانوی وزیراعظم لزٹرس نے استعفیٰ دے کر سب سے مختصر قیام کی ایک تاریخ رقم کردی، یعنی صرف پچاس

Read more

اللّہ میرے دل کے اندر، میں مومن حق قلندر اور ناجائز قبضہ

انسان اپنے اردگرد کے ماحول ہی سے متاثر ہو کر سوچتا، سمجھتا اور لکھتا ہے، اس تحریر کا محرک بھی ہمارے ساتھ پیش آنے والا ایک ایسا سچا واقعہ ہے جو میں آخر میں بیان کروں گی۔ یہ تو ہم سب کو ہی پتا ہے کہ اسلام کی بنیاد امن ہے سلامتی ہے محبت ہے بھلائی ہے اچھا اخلاق ہے۔ ہم قرآن کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے 90 فیصد دنیاوی

Read more

16 دسمبر 2014 ء کے شہیدوں کی ماؤں کے نام

یوں تو جب میں لکھنا چاہوں تو کوئی بھی تحریر ایک دو دن میں مکمل ہوجاتی ہے مگر اے پی ایس کے سانحہ پر میں پچھلے چند سالوں سے لکھنے کی کوشش کر رہی ہو مگر شاید میرا قلم بھی تاب نہیں لا پاتا اور چند ہی جملوں کے بعد میری آنکھوں سے نہ تھمنے والا آنسوؤں کا ایک ایسا سلسلہ رواں ہو جاتا ہے کہ ہر چیز دھندلا جاتی ہے اور میری تحریر ادھوری ہی رہ جاتی ہے۔ آج

Read more

اپوزیشن والے عمران خان کا انتقال پرملال

سنو میرے وزیراعظم کا ظاہر اور باطن ایک ہے ، وہ راجہ پرویز اشرف کی طرح مگر مچھ کے آنسو بہانے نہیں آسکتا کیونکہ اس کی آنکھ میں تو کسی قسم کے آنسو ہی نہیں ہیں۔ تم بھی آنسو پونچھ لو۔ سنو میرے وزیراعظم کو اپنے آنسوؤں سے بلیک میل مت کرو۔

قربانی قربانی قربانی ، کیا شور مچا رکھا ہے تم لوگوں نے؟ کند خنجر سے ذبح ہی تو کیا ہے۔ قربانیوں سے تو پاکستان کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ میرے وزیراعظم  نے تو خود اپنی آرام دہ اور پر تعیش زندگی کی قربانی دے کر یہ کانٹوں بھرا راستہ چنا ہے۔ ریاست مدینہ بنانے کے لئے اس نے دن رات ایک کر دیا ہے۔

سنو! قربانی کے نام پر میرے وزیراعظم کو بلیک میل مت کرو۔

Read more

آوارہ گرد دماغ کی ڈائری

انسانی دماغ بھی عجب شے ہے۔ منٹوں، سیکنڈوں میں برسوں اور صدیوں کا سفر طے کر لیتا ہے. لمحہ بہ لمحہ بدلنے والی سوچوں کی ایک طویل اور بے ترتیب سی راہگزر بن جاتی ہے۔ کبھی یہ سوچیں ایک خوشگوار احساس پیدا کرتی ہیں اور کبھی اداس کر دیتی ہیں۔ آج میں اپنی ان بے ترتیب سوچوں کو من و عن لکھ رہی ہوں۔ مجھے اپنے والد کی کچھ باتیں یاد آ رہی تھیں۔ ضیاء الحق کا زمانہ تھا اور

Read more

خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات یا انسانیت کا سفر معکوس

میں یہاں برطانیہ میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزار چکی ہوں مگر اتنا عرصہ یہاں گزارنے کے باوجود ہمارا دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے، پاکستان کے بارے میں کوئی اچھی خبر آ جائے تو دل خوش ہوجاتا ہے۔ بری خبر پر دل اداس۔ قومی نغمے سن کر آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں تو جنگی نغموں پر جوش۔ ہر وقت پاکستان کی بھلائی اور خوشحالی کے لئے دعاگو رہتے ہیں۔ برطانوی معاشرے کی جہاں اپنی خوبیاں

Read more

کرونا کا عذاب اور حاجی صاحب کا پانچواں حج

کرونا کرونا کرونا، کون ہے جو آج اس لفظ سے آشنا نہیں۔ آج سے چھ ماہ پہلے پوری دنیا اس لفظ سے قطعی نا واقف تھی۔ انٹر نیٹ ہو، نیوز ہو یا روزمرہ کے پیغامات، 90 فیصد اسی کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں۔

دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے اس وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ 26 مارچ 2020 تک 190 ملکوں میں پانچ لاکھ سے زائد افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہو چکی ہے، 23 ہزار سے زائد کی اموات کی اطلاع ہے اورتقریباً ایک لاکھ سے زائد مریض شفا یاب بھی ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ اعداد و شمار ہیں جو رجسٹرڈ ہیں، نجانے کتنے مریض ہیں جو ابھی مخفی ہیں اور خاموشی سے دوسروں میں بیماری کی منتقلی کا باعث بن رہے ہیں۔

Read more

جیسنڈا آرڈرن تمھیں سلام

حقیقت تو یہ ہے کہ 15 مارچ سے پہلے میں جہاں بہت سے ملکوں کے وزراء اعظم کے ناموں سے ناواقف تھی ان میں نیوزی لینڈ کی پرائم منسٹر بھی شامل تھیں۔ اور یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ ایک خاتون ہیں۔ 15 مارچ کے سانحے کے بعد وہ جس طرح ایک عظیم راہنما کی صورت میں سامنے آئی ہیں اُ سکی نظیر بہت کم ملتی ہے۔میں کیا اور میری بساط کیا سارے ہی اخبارات کے کالمزاور الیکٹرانک میڈیا ان کی تعریفوں سے بھرے پڑے ہیں اور ہر مذہب کا اعتدال پسند انسان ان کی مدح سرائی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ لفظ اعتدال پسند میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کیونکہ میری ناقص رائے میں جو لوگ مذہب کے نام پر شدت پسندی اختیار کرتے ہیں چاہے وہ شدت پسندی ذہنی ہو یا عملی ان کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا۔ کیونکہ مذہب کا اور توازن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

Read more