کرونا کا عذاب اور حاجی صاحب کا پانچواں حج

کرونا کرونا کرونا، کون ہے جو آج اس لفظ سے آشنا نہیں۔ آج سے چھ ماہ پہلے پوری دنیا اس لفظ سے قطعی نا واقف تھی۔ انٹر نیٹ ہو، نیوز ہو یا روزمرہ کے پیغامات، 90 فیصد اسی کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں۔

دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے اس وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ 26 مارچ 2020 تک 190 ملکوں میں پانچ لاکھ سے زائد افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہو چکی ہے، 23 ہزار سے زائد کی اموات کی اطلاع ہے اورتقریباً ایک لاکھ سے زائد مریض شفا یاب بھی ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ اعداد و شمار ہیں جو رجسٹرڈ ہیں، نجانے کتنے مریض ہیں جو ابھی مخفی ہیں اور خاموشی سے دوسروں میں بیماری کی منتقلی کا باعث بن رہے ہیں۔

Read more

جیسنڈا آرڈرن تمھیں سلام

حقیقت تو یہ ہے کہ 15 مارچ سے پہلے میں جہاں بہت سے ملکوں کے وزراء اعظم کے ناموں سے ناواقف تھی ان میں نیوزی لینڈ کی پرائم منسٹر بھی شامل تھیں۔ اور یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ ایک خاتون ہیں۔ 15 مارچ کے سانحے کے بعد وہ جس طرح ایک عظیم راہنما کی صورت میں سامنے آئی ہیں اُ سکی نظیر بہت کم ملتی ہے۔میں کیا اور میری بساط کیا سارے ہی اخبارات کے کالمزاور الیکٹرانک میڈیا ان کی تعریفوں سے بھرے پڑے ہیں اور ہر مذہب کا اعتدال پسند انسان ان کی مدح سرائی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ لفظ اعتدال پسند میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کیونکہ میری ناقص رائے میں جو لوگ مذہب کے نام پر شدت پسندی اختیار کرتے ہیں چاہے وہ شدت پسندی ذہنی ہو یا عملی ان کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا۔ کیونکہ مذہب کا اور توازن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

Read more