کون ہیں بچپن اور جوانی چھیننے والے؟


تیس چالیس سال پہلے کے بچوں اور نوجوانوں کی زندگی زیادہ تر ہنسی اور خوشی سے بھری تھی۔ شاید آج کی نسبت وسائل اور ہائی ٹیک والی نہیں تھی لیکن فطری ضرور تھی۔ بچے گلیوں کوچوں میں گُلی ڈنڈا، پِٹھو گول گرم، شٹاپو، پکڑن پکڑائی، چُھپن چُھپائی آزادی سے کھیلتے تھے۔ نوجوان لڑکے کُھلے میدانوں میں دیر تلک کھیلتے رہتے تھے۔ نوجوان لڑکیاں اپنی سہیلیوں کے ساتھ آزادی سے ہنستی کھیلتیں اور قہقہے لگاتی زندگی انجوائے کرتیں تھیں اور ہماری دادیوں اور امیوں کا دور تو اور بھی حسین تھا۔ آپ نے بھی اُن سے سُنا ہوگا کہ وہ رات میں ’جاگو‘ نکالتی تھیں اور کوئی ڈر خطرہ نہیں تھا۔

آج کی آزادی ٹی وی، موبائیلز اور کمپیوٹرز میں ہی چُھپ کر رہ گئی ہے۔ بچے اور نوجوان کریں بھی تو کیا کریں، جِس مُلک میں لوگ گیٹ بند کرکے بھی خوفزدہ ہوں انہوں نے باہر کہاں نِکلنا ہے؟

ابھی ہے وہ سوال جو بہت سالوں سے تنگ کررہا ہے۔ دل پہ ہاتھ رکھ کے اپنے آپ کو ہی جواب دیجیئے کہ جب کسی کا بچہ یا بچی باہر نکلتا ہے تو کیا یہ نہیں سوچتے ہیں کہ کہیں اِسے اغوا نہ کر لیا جائے، کہیں اس ننھے سے جِسم کے ٹُکڑے کرکے اندرونی اعضا بیچ نہ ڈالے جائیں، یا کہیں اس معصوم زندگی کو ہوس کا نشانہ بنا کے قتل کرکے لاش کہیں کوڑے یا گٹر میں نہ پھینک دی جائے؟ ہمارے اس ڈر نے چھین لیا ہے اِس نسل کا بچپن جو بوڑھے ہونے تک نہیں بھولے گا۔

اور اگر خدانخواستہ ان میں سے کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو اُس بچے پہ تو جو ظُلم ڈھایا اُس کے ماں باپ تا حیات زندہ لاشیں بن جاتے ہیں۔ کیا خُدا کی ذات ہمیں بطور معاشرہ مُعاف کرے گی؟

اہم سوال یہ ہے کہ جب جوان لڑکیاں باہر نکلتیں ہیں یا ہمارے ساتھ دفاتر میں اور اداروں میں کام کر رہی ہوتی ہیں تو کیا وہ میری وجہ سے محفوظ ہیں یاغیرمحفوظ؟ اِسی طرح سے بہت سے لڑکیاں اورخواتین بھی لڑکوں اور مردوں کو غلط کاموں کی طرف دھکیلتی ہیں۔

ایسے مسائل صرف سوسائٹی میں ہی نہیں بلکہ خاندانوں کے اندر بھی پائے جاتے ہیں۔ ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بچے اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں۔ خاندان میں ہی قریبی عزیز اور رشتہ دار بھی ان کو نوچ لیتے ہیں تو باہر کی کیا بات کرنا، ہر لمحے ڈر رہتا ہے کہ کہیں یہ نہ ہو جائے کہیں وہ نہ ہو جائے۔ معاشرہ مکمل انحطاط کی طرف جا رہا ہے اور مجموعی قومی نصاب کو درست کیے بغیر بہتری ممکن نہیں۔

ابھی جب بچے آؤٹ ڈور گیمز نہیں کھیل پاتے تو ذہن بے چین ہونے لگتا ہے۔ آج میں اپنی سہیلی سے اپنی اس تحریر کا ذکر کِیا تو کہنے لگی ایسے نہ لکھیں کیونکہ یہ تو دوسروں کو موردِالزام ٹھہرانے والی بات ہے۔ آپ لکھو کہ والدین اپنے بچے باہر بھیجنے سے پریشان ہیں تو وہ کیا حفاظتی اقدامات کر سکتے ہیں۔ کان کو دوسری طرف سے پکڑا ہے بات پھر بھی وہیں آگئی ہے۔ جب میں نے اُسے کہا کہ یہ سوال بشمول میرے ہے تو پھر اُس کو سمجھ آئی۔

Facebook Comments HS