ترقی پزیر ممالک میں کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کا کردار
کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں کوریا انٹرنیشنل ایجنسی کے ایک پروگرام میں شرکت کا موقع ملا جس سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ ریپبلک آف کوریا دنیا بھر میں ترقی پزیر ممالک کے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ صنعتی اورانسانی وسائل کی ترقی اور سمارٹ اکانومی کے حوالے سے یقینا ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے اس چھوٹے سے ملک نے گزشتہ چند دہائیوں میں کئی سنگ میل عبور کیے ہیں جسے دنیا تسلیم کرتی ہے۔
ایک لاکھ تین سو تریسٹھ مربع کلو میٹر رقبے پر محیط اس چھوٹے سے ملک کی آبادی پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ جنوبی کوریا اس وقت دنیا کی گیارہویں بڑی اکانومی ہے جبکہ یہاں فی کس آمدنی پاکستان کے سولہ سو ڈالر کے مقابلے میں بتیس ہزار ڈالر سے زائد ہے۔ ایچ ڈی آئی (HDI) کے اعتبار سے جنوبی کوریا بلند ترین سطح پر ہے اور اس کے شہری ایک متوازن، خوشحال اور بہترین زندگی گزار رہے ہیں۔ تعلیمی اعتبار سے یہ ملک باقی ممالک سے بہت آگے ہے۔
تعلیم سے محبت کا یہ عالم ہے کہ کوریا میں یونیورسٹی گرایجوایٹس کی تعداد نوے فیصد تک ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کرنے والے کو کوریا میں اچھوت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف سام سنگ، ہنڈائی اورایل جی جیسی کمپنیاں کوریا کا اقتصادی سمبل ہیں وہاں سیول نیشنل یونیورسٹی، کوریا یونیورسٹی اوریانسی (Yonsei) یونیورسٹی جیسے معیاری تعلیمی ادارے دنیا بھر میں کوریا کی پہچان ہیں۔ کوریا میں انسانی تہذیب کے آثار قدیم زمانہ سے ملتے ہیں اس لئے صرف اقتصادی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ ثقافتی لحاظ سے بھی کوریا بہت امیر ملک ہے۔
بدقسمتی سے جزیرہ نما کوریا سیاسی ترجیحات کی وجہ سے دو الگ ملکوں میں تقسیم ہے جس کا ایک حصہ جنوبی کوریا جب کہ دوسرا حصہ شمالی کوریا کہلاتا ہے۔ جہاں ایک طرف شمالی کوریا نے اپنے عوام کی فلاح وبہبود کی قیمت پر جنگی اور دفاعی امور پر اپنے وسائل صرف کیے وہیں جنوبی کوریا نے پڑوسی ملک شمالی کوریا سے شدید خطرات کے باوجود صنعتی اور انسانی ترقی پر توجہ مرکوز رکھی یہی وجہ ہے کہ آج جنوبی کوریا کے اقتصادی ترقی کے ماڈل کی مثالیں دی جاتی ہیں۔
خوش آئیند بات یہ ہے کہ جنوبی کوریا اپنے تجربات سے دیگر ترقی پزیر ممالک کو بھی عملی طور پر مستفید کررہا ہے۔ اس مقصد کے لئے ساؤتھ کورین وزارت خارجہ کے ایک ذیلی ادارے کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (KOICA) کا کردار سراہے جانے کے قابل ہے جو دنیا بھر کے ترقی پزیر ممالک میں 1991 سے تکنیکی و پیشہ ورانہ مہارتوں کو فروغ دے رہا ہے۔ ہمیں یہ امر نہیں بھولنا چاہیے کہ کوریا کی تمام ترقی روائیتی، غیر روائیتی و پیشہ ورانہ تعلیم کی مرہون منت ہے اور جنوبی کوریا کوئیکا کے ذریعے اپنے تجربات سے پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ترقی پزیر ممالک کی بھر پور مدد کر رہا ہے۔
ابتدا میں یہ ادارہ ترقی پزیر ممالک کو بنیادی انسانی ضروریات اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے لئے امداد مہیا کرتا تھا لیکن اب دیر پا ترقی (Sustainable development) ، باہمی شراکت داری اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانے کے لئے پروگرام ترتیب دیتا ہے جو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں۔ ماحولیات، تخفیف غربت اور صنفی توازن کے شعبہ جات میں کوئیکا کے کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ کوریا اس لحاظ سے ایک منفرد ملک ہے کہ چند دہائیاں پہلے تک یہ دنیا کا ایک پسماندہ ترین ملک تھا لیکن آج ایک بہت بڑی اقتصادی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
1950 کی کورین وار کے بعدساؤتھ کوریا شدید بدحالی کا شکار ہو چکا تھا۔ پاکستان اور انڈیا کی سوشل ایلیٹ کو جنگ اور اس کے اثرات کا جائزہ لینا ہو توکورین وار کا مطالعہ مفید ہو گا، شاید اس سے ہی ستر سال سے جنگی جنون میں مبتلا یہ دونوں پڑوسی ملک کوئی سبق سیکھ کر اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے یکسو ہو کر اپنے وسائل کا رخ تعمیر ی کاموں کی طرف موڑ سکیں۔ یاد رہے یہ وہی ساؤتھ کوریا ہے جو کبھی پاکستان کے اقتصادی منصوبوں کو اپنے ہاں نقل کرتا تھا۔
اس سے ایک درس یہ بھی ملتا ہے کہ محض منصوبے بنا لینا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان منصوبوں کو نافذ کرنے کے لئے اعلیٰ پائے کی انسانی مہارتوں، نیک نیتی، ترجیحات کے تعین، میرٹ اور ثابت قدمی کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہاں ہم جنوبی کوریا سے مار کھاتے ہیں۔ خیرپستی سے بلندی کے اس سفر کے دوران کوریا نے جو تجربات حاصل کیے ہیں وہ باقی غریب ممالک کے لئے ایک سبق کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئیکا اپنے شراکت دار ملکوں کو اس کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔
یہ کورین عوام اورکورین گورنمنٹ کی انسان دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ ترقی پزیر و غریب ممالک کومحض ایک منڈی کی حیثیت سے نہیں دیکھتے بلکہ وہاں خوشحالی کے خواہاں ہیں اور کوئیکا کے مختلف پروگراموں کے ذریعے انھیں ایک بہتر مستقبل کی نوید دیتے ہیں۔ اس وقت جنوبی کوریا اپنے شاندار ادارے کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے ذریعے پاکستان سمیت ایشیا کے چودہ، افریقہ کے سولہ، لاطینی امریکہ کے آٹھ جبکہ مشرق وسطیٰ اورسنٹرل ایشیا کے چھ ممالک کو مختلف طریقہ ہائے کار کے تحت امداد دے رہا ہے جو کہ کوریا کی ایک شاندار کامیابی ہے کیونکہ کچھ عرصہ پہلے تک کوریا ایک امداد لینے والا ملک تھا۔
پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی خاص طور پر صحت، پانی، تعلیم، صفائی اور افرادی قوت کی تربیت سازی کے شعبوں میں کورین گورنمنٹ کا ادارہ کوئیکا بہترین کردار اداکررہا ہے۔ خاص طور پر کوئیکا اپنے مختلف تربیتی پروگراموں سے پندرہ سو کے لگ بھگ پاکستانی سرکاری افسران کو کوریا میں تربیت فراہم کر چکا ہے جو ہماری ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ میں کوریا کی ایک بہترین شراکت داری و معاونت کا تسلسل ہے۔ پاکستان اور کوریا کے درمیان بدھ مذہب کے آثار، تاریخی تہذیبی ورثے اور دونوں ملکوں میں آبادی کے دباؤ، ایک جیسے جارح پڑوسی ملک اورسب سے بڑھ کر انسانیت سمیت بہت سی مشترک اقدار ہیں جنھیں بنیاد بنا کر باہمی تعلق کومزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں جنوبی کوریا کے سفیرکویک سنگ کیو (Kwak Sung۔ Kyu) ایک انتہائی باصلاحیت اور متحرک شخص ہیں جو دونوں ملکوں میں تعلقات کی بہتری اور اقتصادی و سماجی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے ہمہ تن کوشاں رہتے ہیں جبکہ پروگرام منیجر کوئیکا۔ پاکستان عدنان ودودبھی دونوں ممالک کو قریب لانے کے لئے گاہے بگاہے مختلف پروگرام ترتیب دیتے رہتے ہیں۔ اس وقت کوریا میں ہزاروں پاکستانی نہ صرف روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں بلکہ کوریا کی ترقی میں اپنا عملی حصہ بھی ڈال رہے ہیں۔ امید ہے کہ آنے والے وقتوں میں پاکستان اور کوریا کی یہ شراکت داری دونوں ملکوں کے باہمی تعلق کو اور مضبوط کرے گی۔ یقینی طور پر کوئیکا اس میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ پاک۔ کوریا دوستی زندہ باد!


