مشرقی پاکستان کی علیحدگی ایک ایسا اندوہناک سانحہ ہے جس نے پاکستان کے مستقبل کو زوال کی گہرائیوں میں دھکیل دیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 1971 سے پہلے کا پاکستان آج کے پاکستان سے بہت مختلف تھا۔ بنگالیوں کی وجہ سے ملکی نظام میں ایک توازن برقرار تھا جو بنگال کی علیحدگی کے بعد ختم ہو گیا اور جاگیرداروں، افسر شاہی اور فوج پر مشتمل مغربی پاکستان کی کوتاہ بین اشرافیہ بے لگام ہو گئی۔ کیونکہ مغربی پاکستان کی سیاست پر اکثر و بیشتر جاگیرداروں کا تسلط تھا جبکہ مشرقی پاکستان کے سیاستدانوں کی بڑی تعداد وکلا، اساتذہ اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین پر مشتمل تھی۔
1971 سے پہلے پاکستان کا ہر ادارہ ترقی کر رہا تھا جبکہ اس کے بعد توازن کے بگڑنے سے اداروں میں بتدریج زوال آنا شروع ہوا اور اس وقت ہم ہر شعبے میں زوال کی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں، کیونکہ ملک پر مسلط مخصوص طبقہ بنگال کی علیحدگی کے بعد شتر بے مہار ہو گیا۔ گو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پس منظر میں فوج، مغربی پاکستان کے سیاستدانوں اور افسر شاہی کے منفی رویوں پہ تو بہت لکھا جاتا ہے لیکن سانحہ مشرقی پاکستان میں بھارت، سابقہ مشرقی پاکستان کے ہندوؤں اور مکتی باہنی کے کردار پر اتنی زیادہ روشنی نہیں ڈالی جاتی اور عمومی طور پر تمام تر صورتحال کی ذمہ داری اس وقت کی فوجی حکومت کی نا اہلی پر ڈال دی جاتی ہے جو بے جا بھی نہیں ہے کیونکہ پاکستان کی فوجی شکست میں یحییٰ خان کی طرف سے کسی باقاعدہ جنگی منصوبہ بندی کا فقدان ایک اہم عنصر تھا۔
Read more