پاکستان بیت المال، ویمن ایمپاورمنٹ سنٹرز زندگیاں بدل رہے ہیں

سریاب روڈ کوئٹہ کی رہنے والی والی ماہ جبیں عالم ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھیں جو خاندان کی کمزور معاشی حالت کی وجہ سے تعلیم حاصل نہ کرسکیں۔ انھیں جب اپنے علاقے میں پاکستان بیت المال کے ویمن ایمپاورمنٹ سنٹر کے بارے میں معلوم ہوا تو انھوں نے وہاں مفت فنی تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیاجس نے ان کے لئے مستقبل میں آگے بڑھنے کے مواقع پید اکر دیے۔ ماہ جبیں نے مذکورہ سنٹر میں فیشن ڈیزائننگ سے متعلقہ کورسز سیکھے اور اس شعبے میں عبور حاصل کیا۔

Read more

پُرعزم پاکستان مہم: انتہاپسندی کے خلاف حکومت کا ایک خوش آئند پراجیکٹ

پاکستان پیس کلیکٹو (پی پی سی) منسٹری آف انفارمیشن، براڈ کاسٹنگ، نیشنل ہسٹری اور لٹریری ہیریٹیج کا ایک ریسرچ اور کمیونیکیشن پراجیکٹ ہے جو معاشرے میں پر تشد د انتہاپسندانہ رویوں سے نمٹنے کے لئے کمیونیکیشن مہم سازی پر کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کے دیگر مقاصد میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف…

Read more

منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال عون عباس سے ایک مکالمے کی روئیداد

منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال عون عباس بپی جنوبی پنجاب کے ایک معزز و با اثر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے عون عباس صاحب سیاست، بزنس، ایگریکلچر اور سماجی خدمات کے شعبے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ آپ گورنمنٹ کالج لاہور کے گریجوایٹ اور گولڈ میڈلسٹ ہیں جبکہ یونیورسٹی آف نوٹنگھم انگلینڈ سے فرسٹ کلاس گریجوایشن بھی کر رکھی ہے۔ حصول تعلیم کے بعد کارپوریٹ سیکٹر میں کافی عرصہ تک خدمات انجام دیں۔

بعد ازاں سماجی خدمت اورسیاست کے میدان میں داخل ہوگئے۔ 2013 سے آپ پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ زبان و بیاں پر بھرپور عبور ہے۔ درد دل رکھنے والے انسان، میرٹ و قابلیت کے قدردان اور تبدیلی کے روح رواں ہیں۔ آپ کی سیاسی بصیرت، دیانتداری اور انسانی خدمات کے وسیع تجربے، جذبے اور شوق کے پیش نظر پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے اکتوبر 2018 میں انھیں پاکستان بیت المال کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیاجہاں قلم سنبھالنے کے بعدمحدود وسائل کے باوجود اپنی بساط سے بڑھ کر لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں اور پاکستان بیت المال میں ادارہ جاتی اصلاحات اور اس کے دائرہ کار میں اضافے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں۔

Read more

ترقی پزیر ممالک میں کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کا کردار

کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں کوریا انٹرنیشنل ایجنسی کے ایک پروگرام میں شرکت کا موقع ملا جس سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ ریپبلک آف کوریا دنیا بھر میں ترقی پزیر ممالک کے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ صنعتی اورانسانی وسائل کی ترقی اور سمارٹ اکانومی کے حوالے سے یقینا ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے اس چھوٹے سے ملک نے گزشتہ چند دہائیوں میں کئی سنگ میل عبور کیے ہیں جسے دنیا تسلیم کرتی ہے۔ایک لاکھ تین سو تریسٹھ مربع کلو میٹر رقبے پر محیط اس چھوٹے سے ملک کی آبادی پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ جنوبی کوریا اس وقت دنیا کی گیارہویں بڑی اکانومی ہے جبکہ یہاں فی کس آمدنی پاکستان کے سولہ سو ڈالر کے مقابلے میں بتیس ہزار ڈالر سے زائد ہے۔ ایچ ڈی آئی (HDI) کے اعتبار سے جنوبی کوریا بلند ترین سطح پر ہے اور اس کے شہری ایک متوازن، خوشحال اور بہترین زندگی گزار رہے ہیں۔ تعلیمی اعتبار سے یہ ملک باقی ممالک سے بہت آگے ہے۔

Read more

ماس کمیونیکیشنز کے پانچ ادوار

ماس کمیونیکیشنز کے شعبہ کو دو بنیادی اکائیوں ”سوسائٹی“ اور ”میڈیا“ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ سوسائٹی، میڈیا کے بارے میں مختلف تھیوریز (theories) کے تناظر میں ماس سوسائٹی پر میڈیا کے اثرات کا جائزہ لیتی ہے۔ اس میں عوام الناس اور میڈیا سکالرز میڈیا کے بارے میں پائی جانے والی قیاس آرائیوں، مفروضات،…

Read more

آزادی صحافت :چومسکی اور ہرمن کے پراپیگنڈا ماڈل کے تناظر میں

آزادی صحافت ایک متنوع موضوع ہے جس کے بارے میں قیاس آرائیاں اور مباحث ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک صحافت آزاد ہے جب کہ کچھ کے نزدیک صحافت پابہ زنجیر ہے۔ لیکن تحقیقی حوالوں سے مغرب کی نسبت ہمارے ہاں اس پر بہت کم علمی کام ہوا ہے۔ نام چومسکی اور ایڈورڈ ہرمن نے 1998 میں اپنی ایک شائع ہونے والی کتاب بعنوان
Manufacturing consent: The Political Economy of Mass Media
”بیانیے کی تخلیق:ماس میڈیا کی پالیٹیکل اکانومی“ میں اس موضوع پر خالصتاً اکیڈمک انداز میں تحقیقی نقطہ نظر پیش کیا ہے جوشعبہ صحافت سے وابستہ افراد کے لئے کافی دلچسپی کا سامان رکھتا ہے۔

ان دونوں سکالرز کا کہنا ہے کہ کوئی بھی خبر بہت سے فلٹرز سے گزر کر تشکیل پاتی ہے اور پھرایک مخصوص بیانیے کی ترویج کے لئے عوام الناس تک پہنچائی جاتی ہے۔ چومسکی اور ہرمن کے پراپیگنڈا ماڈل کا مرکزی نقطہ نظر یہ ہے

Read more

بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کیوں زیادہ ضروری ہے؟

ہمارے ہاں جب بھی خواتین کے حقوق کی بات کریں تو کہا جاتا ہے کہ اسلام نے تو چودہ سو سال پہلے ہی خواتین کو وہ حقوق دے دیے تھے جو معاصر معاشروں میں موجود نہ تھے۔ درست کہ اسلام نے تو خواتین کوحقوق دے دیے لیکن کیا ہمارے معاشرے نے بھی ان حقوق کو…

Read more

پیس جرنلزم – ملک کے فائدے کے لئے کی جانے والی صحافت

پیس جرنلزم (Peace Journalism) یا صحافت برائے امن شعبہ ابلاغیات کا ایک اہم موضوع ہے جسے ناروے سے تعلق رکھنے والے ایک دانشورڈاکٹر جان گلتونگ (Johan Galtung) نے باقاعدہ اکیڈمک ڈسپلن کے طور پر فروغ دیا اور اس اعتبار سے انھیں اس شعبے کا بانی مانا جاتا ہے۔ ڈاکٹر گلتونگ کے مطابق امن کا تعلق محض تناؤ کے عدم وجود سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے انصاف کا وجود بھی ضروری ہے اسی لئے انھوں نے ’امن سب کے لئے‘ (peace for all) کے نعرے کی بنیاد پر پیس جرنلزم کی بنیاد رکھی۔

جان گلتونگ نے اپنے مقالات میں اسے دو اشاریوں منفی (Negative Peace) اور مثبت (Positive Peace) میں تقسیم کیا ہے۔ امن کے منفی اشاریے سے مراد کسی سوسائٹی میں تنازعات یا تشدد کا عدم وجود ہے جبکہ مثبت اشاریے سے مراد ایسا معاشرہ ہے جہاں انصاف، برابری اور ہم آہنگی جیسی اقدار کو پزیرائی حاصل ہو۔ آمرانہ معاشرے جہاں بظاہر حکومتی جبر کے سبب امن و امان نظر آتاہے لیکن اندر ہی اندر لاوا ابل رہا ہوتا ہے امن کے منفی اشاریوں کی تشریح کرتے ہیں کیونکہ موقع ملنے پر جب وہاں لاوا پھٹتا ہے تو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ زیادہ دیر تک جبر کے ہتھکنڈوں سے لوگوں کو دبانا ممکن نہیں ہوتا، مسائل کا حل امن کے لئے ناگزیر ہے

Read more

سوچ کے پیوند

مشہور انگریز مضمون نگار فرانسس بیکن کہتا ہے کہ ”مطالعہ اور ادب انسان کو تہذیب سکھاتا ہے جب کہ ادب لکھنا تہذیب کو کامل کرتا ہے“۔ ذاتی طور پر مجھے ادبی ذوق رکھنے والے اور خاص کر لکھنے لکھانے والے لوگ بہت پسند ہیں اور ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کی صحبت میسر آتی رہے کیونکہ ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ علم اور حکمت قدرت کے دو آفاقی تحفے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ خواہ کوئی فرد ہو یا قوم جنھوں نے قدرت کے ان آفاقی تحفوں کی قدر شناسی کی قدرت نے بھی ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔

علم یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ ”کیا“ کہنا ہے جب کہ حکمت یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ ”کب“ کہنا ہے۔ یوں توہم دوستوں اور تعلق داروں سے وقتاً فوقتاً تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں لیکن ذاتی طور پر مجھے کتاب کا تحفہ دینے والے دوست کبھی نہیں بھولتے اور اگر کوئی صاحب کتاب اپنا تحریری نسخہ اپنے ہاتھوں سے عنائیت کرے تو میرے نزدیک یہ واقعی ایک انمول تحفہ ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بلوچستان سے تعلق رکھنے والے میرے ایک انتہائی شفیق، مہربان، ملنسار اور علم دوست ساتھی امین ترین صاحب سے کسی معاملے پر بات ہوئی تو انھوں نے مجھے بہتر راہنمائی کے لئے ایک اور دوست محمد مدثر احمد سے ملنے کا مشورہ دیا۔

Read more

اوپی ایف اور زلفی بخاری

اپنے قیام کے مقاصد اور مختلف النوع خدمات کی فراہمی کے اعتبار سے او پی ایف ایک منفرد ادارہ ہے۔ خاص طور پر تعلیمی میدان میں او پی ایف سکول اور کالج کی سطح پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہا ہے اور پاکستان بھر میں او پی ایف کے تحت متعدد سکول اور کالجز قائم کیے گئے ہیں۔ چند روز قبل او پی ایف گرلز کالج ایف ایٹ اور او پی ایف ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں منعقدہ دو تقاریب میں شرکت کرنے کا موقع ملا جہاں مہمان خصوصی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار بخاری تھے۔

میڈیا میں زلفی بخاری کے متعلق بہت سی افواہوں اور بے سروپا و منفی خبروں کے تناظر میں، میں ان کے خیالات سننے کا متمنی تھا اور یہی تجسس ان تقاریب میں شرکت کا بہانہ بنا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پی ٹی آئی گورنمنٹ نے کم و بیش ہر سرکاری ادارے کی سربراہی کے لئے بہترین پروفیشنلز کا انتخاب کیا ہے۔ پاکستان بیت المال کے سربراہ عون عباس بپی اور او پی ایف کے سربراہ سید ذوالفقار بخاری اس سلسلے کی بہترین مثالیں ہیں۔

Read more