اسے اس کے اکلوتے بیٹے نے مارا تھا
ویسے تو شیدا ہمارا پرانا محلے دار تھا۔ اس کی تیل کی ایجنسی تھی۔ مٹی کا تیل، ڈیزل اور پٹرول بیچا کرتا تھا۔ ہمارے گھر سے تھوڑی دور ہی اس کا گھر تھا۔ صاف ستھرا، رنگ روغن کیا ہوا بڑا سا گھر، اتنا بڑا جتنا عام طور پہ پرانے محلّوں میں ہوا کرتے تھے۔ یہ میرے بچپن کی یادیں ہیں جو شیدے کے ساتھ جڑی تھیں۔ مجھے یاد نہیں کب ہماری فیملی اس محلے سے شفٹ ہوئی کہ میں تعلیم کے سلسلے میں باہر چلا گیا تھا۔
میں ان دنوں ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ کا میڈیکل افسر تھا جب شیدے سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ خون میں لت پت تھا۔ اس کے سر سے مسلسل خون بہ رہا تھا۔ میں فوری طور پر اسے اپریشن تھیٹر لے گیا۔ اس کا زخم گہرا نہیں تھا۔ اس کو پانچ ٹانکے لگے۔ گلو کوز کی بوتل لگی۔ جب اس کے حواس بحال ہوئے تو اس نے مجھے پہچاننے کی کوشش شروع کی۔ میں نے اسے ذہن پر زور نہیں دینے دیا اور خود ہی اس کو اپنا خاندانی اور پرانے محلے داری والا تعارف کرایا۔
ایک لمحے کو وہ خوش ہوا۔ اسے احساس ہوا کوئی ہمدرد، کوئی مہربان اس کا سہارا بنا کھڑا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو محفوظ پایا۔ میری اپنائیت اور پیار بھرا لہجہ اس کے اندر کے جذبات کو روک نہ سکا اور وہ ہچکیاں لے کر رونے لگ گیا۔ میرے اسرار پر اس نے بتایا کہ یہ کھلواڑ کسی اور نے نہیں بلکہ اس کے اکلوتے بیٹے عامر نے کیا ہے۔ عامر میرا سکول کا کلاس فیلو بھی تھا۔ وہ ایک تیز طرار لڑکا تھا۔ انتہائی خود غرض۔ اکثر بریک ٹائم میں ہمارے لنچ پر ہاتھ صاف کرنے والا۔
میں نے وجہ پوچھی تو شیدے نے بے بسی سے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا ”وہ چاہتا ہے کہ میں اپنا گھر اس کے نام کردوں۔ شاید وہ گھر بیچنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کی باتوں میں آگیا ہے۔ “ شیدے نے دکھ بھرے لہجے میں بتایا کہ میں کبھی بھی اپنی زندگی میں یہ گھر اس کے نام نہیں کروں گا۔ میں نے شیدے کو سمجھایا کہ عامر اس کا اکلوتا بیٹا ہے اور اس کے مرنے کے بعد بھی تو اسی نے جائیداد کا وارث ہونا ہے تو ابھی کیا حرج ہے۔ شیدے نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن اس کے چہرے کی سختی اس کے اندر کے فیصلے کی عکاسی کر رہی تھی۔ شیدا دو دن ہسپتال میں داخل رہا اور صحت یاب ہو کر گھر چلا گیا۔
ڈاکٹر کی زندگی ایسے ایسے واقعات کی گواہ ہوتی ہے کہ سنے تو کلیجہ منہ کو آئے۔ بعض اوقات ذمے داری کا احساس کچھ باتوں کے پھیلاؤ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ لیکن کچھ باتیں، کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں کہ دل چاہتا ہے ڈھول پیٹ کر ساری دنیا کو وہ باتیں بتائی جائیں۔ یہ باتیں دراصل معاشرے کا قرض ہوتی ہیں اور معاشرہ ان سے سبق سیکھتا ہے۔ وقت بڑا ظالم ہے۔ تیزی سے گزر جاتا ہے۔ شیدے کا واقعہ شاید میں بھول جاتا اگر اس دن میری عامر سے ملاقات نہ ہو جاتی۔
یہ ملاقات میری خواہش پر نہیں ہوئی تھی۔ میں ان دنوں اس ہسپتال کا ایم ایس تھا اور اس دن ہسپتال کی ایمر جنسی کا دورہ کر رہا تھا۔ اچانک میری عامر پر نظر پڑی۔ اگرچہ میں نے اسے کوئی پچیس سال بعد دیکھا تھا لیکن میں نے اسے فورًا پہچان لیا۔ وہ خون میں لت پت تھا۔ اس کے سر سے خون بہ رہا تھا۔ میں نے اسی وقت سرجن کو بلوا کر عامر کو میڈیکل ایڈ دینے کا کہا بلکہ اس کے ساتھ ہی اپریشن تھیٹر پہنچ گیا۔ عامر کے سر پر دس ٹانکے لگے تھے اور اس کے سر کی ہڈی کریک ہو گئی تھی۔
وہ بے ہوش تھا اور کئی دن بے ہوش رہا۔ ہسپتال میں عامر کی بہت دیکھ بھال کی گئی تھی۔ عامر کوئی پندرہ دن ہسپتال رہا۔ وہ ہوش میں تو آ گیا تھا مگر اس کی ایک ٹانگ مفلوج ہو گئی تھی اور زبان میں لکنت کی وجہ سے اس کی گفتگو جو ویسے بھی بے ربت تھی، کم ہی سمجھ میں آتی تھی۔ اس کی واحد اٹینڈنٹ اس کی بیوی تھی۔ اس کو میں نے عامر سے اپنے پرانے محلے داری کا تعلق اور کلاس فیلو ہونے کا بتایا تو اس نے لب کشائی کر دی جسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
عامر کے دو بیٹے تھے۔ اس کا اچھا کاروبار تھا لیکن دونوں بیٹے نالائق نکلے اور باپ کی کمائی پر عیش کرنے والے ثابت ہوئے۔ اس دن جب عامر نے بڑے بیٹے کو گاڑی دینے سے انکار کیا تو اس کو غصہ آگیا۔ عامر کی مزاہمت پر بات تو تکار سے ہاتھا پائی تک چلی گئی۔ اس جھگڑے میں عامر کا دوسرا بیٹا بھی شامل ہو گیا۔ دونوں نے مل کر بپھرے ہوئے عامر کو زور سے دھکا دیا تو عامر کا سر دیوار سے ٹکرایا اور وہ شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچ گیا۔ میرے دماغ میں پچیس سال پہلے عامر کے باپ شیدے کا پھٹا ہوا سر اور خون میں لت پت بیچارگی کے عالم میں مجھے بتائی بات یاد آئی۔ اس نے کہا تھا ”مجھے کسی اور نے نہیں، میرے اکلوتے بیٹے عامر نے مارا ہے۔ وہ کہتا ہے میں اپنا گھر اس کے نام کردوں“۔


