تذکرہ ایک شعلہ بیاں مقرر اور ہردلعزیز لکھاری کا


کریمی بھی فرہاد صفت ایک کوہکن ہے البتہ فرہاد اور کریمی میں فرق صرف یہ ہے کہ فرہاد نے شیریں کے حصول کے لیے کوہِ بے ستوں کو کھودا تھا اور کامیاب ہُوے بغیر سرپر تیشہ مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا تھا

تیشہ بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ

سرگشتۂ خمارِ رُسوم و قیود تھا

جبکہ کریمی نے ادبی اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے ”فکرونظر“ نامی ”کے ٹو“، ”نانگا پربت“ اور ”راکا پوشی“ جیسے ادبی پہاڑی سلسلوں کی سینہ شگافی کی ہے جس میں وہ بہت کامیاب رہے اور آج گلگت بلتستان کے پہاڑی سلسلوں کے مابین شعرو سخن اور اَدب کے دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کریمی قیس عامری کی طرح کا ایک مجنون بھی ہے مگر قیس اور کریمی کے جنوں میں یہ واضح فرق ہے کہ قیس نے لیلیٰ کے حصول کے لیے دشت نوردی کی، صحرا صحرا کی خاک چھانی اور جنگل جنگل میں ناقۂ لیلیٰ کی تلاش میں حواس باختگی اختیار کی مگر وہ ناکام و نامراد، جنون کی کیفیت میں زندگی کی جنگ اور عشق کا معرکہ ہار بیٹھا لیکن کریمی وہ قیس ہے جس کا جنون عین خرد ہے۔

کریمی نے نہ جنگلوں کا رُخ کیا، نہ صحراؤں کی خاک چھانی اور نہ ہی دشت نوردی کی۔ ہاں! انہوں نے چشموں، جھیلوں، گلیشیئروں، دریاؤں، بلندو بالا پہاڑی سلسلوں اور گلزاروں کی سرزمین گلگت بلتستان کی قلمی دُنیا، تخلیقی جہاں اورتعمیرِ اَدب کی کائنات کی سیر کی اور خوب کی۔ اس سفر میں وہ کامیاب رہے، بہت کامیاب رہے۔

بات کہاں سے کہاں پہنچی۔ تذکرہ ہو رہا تھا کریمی کی شادی خانہ آبادی کی۔ لیجیے آپ تمام باذوق سامعین کو ہم یہ خوشخبری دیتے ہیں کہ وہ عنقریب رشتۂ ازدواج میں جُڑنے والے ہیں۔ مانگی گئی ہے اور منگنی ہوگئی ہے۔ منگیتر بننے کے بعد میاں اور میاں والی بننے میں مزید دیر نہیں لگ سکتی۔

یہ بات تو اٹل ہے کہ وہ مولوی عبدالحق بن کر تو نہیں رہیں گے۔ البتہ غالب کی طرح ان کے معمولاتِ زندگی میں خلل پڑے گا یا نہیں یہ ابھی وقت بتائے گا۔ خود کریمی کا دعویٰ تو یہی ہے کہ شادی خانہ آبادی کے بعد نہ صرف اُن کا گھر آباد ہوگا بلکہ اُس سے کہیں زیادہ اَدب کا آئینہ خانہ آباد ہوگا۔ خوش بختی سے بھابھی ایم۔ اے انگلش ہے۔ اب سہ ماہی علمی و ادبی رسالہ ”فکرونظر“ کے اُردُو اور انگریزی دو حصے ہوں گے۔ کشورِ اُردُو کے راجا کریمی صاحب ہوں گے اور انگریزی کی راج دھانی کی مہا رانی نئی مہمان صاحبہ ہوں گی۔ خوامخواہ میں نے اُن کے گھر کے معاملات میں دخل اندازی کی اور شادی کی بھول بھلیوں میں منزل کے اندازے لگانے کی کوشش کی۔

کریمی کے اعزاز میں ستمبر 2007 ء میں راقم کے گھر میں سجائی گئی عشائیے کی محفل سے یک دم جست لگا کر پانچ سالوں کی لمبی مسافت کو طے کرکے بے جا ہم نے آپ کو لمحۂ حاضر میں پہنچا دیا۔ چلیے پھر پیچھے کی طرف مراجعت کرتے ہیں۔ کریمی جب اپنے پہلے شعری مجموعہ ”شاید پھر نہ ملیں ہم“ کا مسوّدہ مع راقم کا اظہاریہ لے کر جا رہے تھے تو کتاب کے نام کے حوالے سے میرے ذہن میں کئی خیالات گردش کر رہے تھے۔ اولاً یہ کہ وہ ”شاید پھر نہ ملیں ہم“ میں، کس سے مخاطب ہیں پھر جس کسی سے بھی وہ خطاب کررہے ہیں کیا اُن کا یہ خدشہ درست بھی ہے کہ دوبارہ وہ اُس سے نہ مل سکیں گے۔

لیکن لفظ شاید کے ذریعے وہ امکان باقی بھی رکھ رہے ہیں۔ بہرحال وہ مختلف شخصیتوں سے بار بار ملتے رہے ہیں اور ملتے ہی رہیں گے۔ راقم سے تو بذریعہ موبائل وہ بے شمار مل چکے ہیں البتہ بالمشافہ ملاقات پانچ سال بعد گذشتہ دنوں ہوئی ہے۔ بننے والی شریکۂ حیات سے بھی وہ عنقریب ملاقات کرنے والے ہیں، ہاں البتہ بعض نامرئی شخصیات ایسی ہوں گی جن سے ایک اتّفاقی اور حادثاتی ملاقات کے بعد پھر ملاقات شاید مشکل ہو۔ بہرحال وجہ تسمیہ کی غرض و غایت کی گہرائیوں میں ہم کیوں جائیں۔

2008 ء میں اُن کا یہ شعری مجموعہ چھپا۔ شعرا کی صف میں سند کے ساتھ وہ باقاعدہ کھڑے ہو گئے۔ 2009 ء میں اخباری کالموں کا مجموعہ منظرِ عام پر آگیا۔ ”فکرونظر“ کی عجیب کشش ہے کہ اُن کے اخباری کالموں کا عنوان بھی ”فکرونظر“ ہے کالموں پرمشتمل کتاب کا نام بھی ”فکرونظر“ ہے اور سہ ماہی علمی و ادبی رسالے کا نام بھی ”فکرونظر“ ہے۔

کریمی صاحب گذشتہ دو سالوں سے گلگت بلتستان سے سہ ماہی علمی و ادبی رسالہ ”فکرونظر“ نکال رہے ہیں۔ گلگت بلتستان اور چترال کے اہلِ قلم کی یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ عبدالکریم کریمی جیسی پُربہار، شگفتہ مزاج، حد درجہ متحرک اور فعال پڑھے لکھے باکردار و باصلاحیت نوجوان کی اِدارت میں یہ رسالہ جاری و ساری ہے۔ اِن علاقوں سے یوں تو بہت عرصے سے مختلف قسم کے رسائل و جرائد نکل رہے ہیں لیکن آج تک کوئی ایسا رسالہ معرض وجود میں نہیں آیا تھا جو اوّل تا آخر ادب ہی ادب ہو، سر تاپا ادبی ہو۔

ماشاء اللہ۔ واہ واہ۔ کیا کہنے۔ خوب۔ بہت ہی خوب۔ چشمِ بد دُور۔ ”فکرونظر“ صرف اور صرف علمی ہے، ادبی ہے، تحقیقی ہے، تنقیدی ہے، یہ رسالہ ادبی شاہکار ہے، ادبی شہپارہ ہے۔ اِس میں کیا کچھ نہیں۔ سب کچھ ہیں۔ نظمیں ہیں، غزلیں ہیں، شگفتہ مضامین ہیں، تحقیقی مقالات ہیں، تنقید و تبصرے ہیں، جائزے ہیں، سفر نامے ہیں، افسانے ہیں، طنزو مزاح پرمشتمل تحریریں ہیں، سنجیدہ ادب پارے ہیں، تعار فِ کتب اور ناول ہیں، خطوط ہیں اور گلگت بلتستان کے طول و عرض میں پھیلے ہُوے قلم کاروں کی گونا گوں اور مختلف النّوع قلمی کاوشوں کے خوبصورت نمونے ہیں۔ یہ رسالہ گویا ظلمتِ شب میں آسمانِ ادب پر روشن ستاروں کی کہکشاں ہے۔ چمنستانِ شعروسخن کے رنگا رنگ پھولوں کی روشوں کا سنگم ہے۔ تازہ بہاروں میں فصل گُل کے گیت گانے والے خوش الحان پرندوں کی گلزار تہذیب و ثقافت سے شیفتگی اور وارفتگی کا بھرپور اظہار ہے۔

سہ ماہی ”فکرونظر“ گلگت بلتستان کی تہذیب و ثقافت، علم و ادب اور شعروسخن کی پہچان بن چکا ہے۔ گویا سرسید کا اجرا کردہ رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ نے قومی بیداری میں جو کردار ادا کیا ہے۔ عبدالقادر کے رسالہ ”مخزن“ نے علم و ادب کو فروغ دینے کا جو کام سر انجام دیا ہے اور ”فنون و نقوش“ نے جو فکری و فنّی گہرے نقوش معاشرے پر ثبت کیے ہیں وہی کردار ”فکرونظر“ بھی سر انجام دے سکتا ہے۔ ہماری دُعا ہے کہ عبدالکریم کریمی کو خداوندعالم مزید حوصلہ عطا فرمائے، ثابت قدمی سے نوازے اور صبر و تحمّل کی دولت سے مالا مال کرے۔ اِس طرح کے رسالوں کی قدروقیمت حال سے زیادہ مستقبل میں ہوگی۔

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ گذشتہ سال نمل یونیورسٹی اسلام آباد کی ایک طالبہ راقم پر مقالہ لکھ رہی تھی اُنہیں حوالوں کے ساتھ مواد درکار تھے تو سہ ماہی ”انتخاب“، سالنامہ ”کاروان“، ماہنامہ ”انڈس“ اور سہ ماہی ”فکرونظر“ کے مختلف شماروں نے کچھ حد تک اُن کی مشکل حل کر دی کیونکہ اِن رسائل و جرائد میں یا تو مختلف علمی و ادبی موضوعات پر راقم کے مقالے چھپے ہُوے تھے یا راقم پر گلگت بلتستان کے نامور اہلِ قلم کے تحقیقی مضامین تھے یا راقم کے مختلف کلام بکھرے پڑے تھے۔

اسی طرح حال ہی میں جامعہ کراچی میں زیر تعلیم ایک طالب علم راجہ محمد علی شاہ صباؔ پر تحقیقی مقالہ لکھنے کے سلسلے میں تعاون اور رہبری کے لیے جب راقم کے پاس پہنچا تو راقم نے دیگر ہدایات اور مواد کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی لائبریری سے رسالہ ”انتخاب“ کے اگست 2003 ء کا ”راجہ صبا نمبر“ فوٹو کاپی کے لیے نکال کر دیا۔ اِس شمارے میں راجہ محمد علی شاہ صباؔ کے فن و شخصیت اور حالات زندگی کے بارے میں بلتستان کے نامور اہلِ قلم کے تحقیقی مضامین تھے نیز راجہ صاحب کے خصوصی انٹرویوز اور کلام بھی تھے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3