تذکرہ ایک شعلہ بیاں مقرر اور ہردلعزیز لکھاری کا


اِس طرح کے رسالے کے ہونے سے اور مواد کے ملنے سے تحقیق کرنے والے طالب علم کی بڑی مشکل حل ہوگئی۔ گذشتہ دو سالوں میں بیسیوں تحقیقی طلبا اور سینکڑوں دیگر طلبا تحقیقی امور کے سلسلے میں راقم سے رجوع کر چکے ہیں۔ راقم اُن کو اپنے اپنے موضوعات کی مناسبت سے دیگر مواد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سہ ماہی رسالہ ”فکرونظر“ کے سارے شماروں کو حاصل کرنے اور اُن سے مواد لینے کا مشورہ دیتا رہا ہے۔ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ چونکہ سہ ماہی رسالہ ”فکرونظر“ خالصتاً علمی و ادبی اور تحقیقی ہے۔ اِس لیے حال و مستقبل میں ایم اے، ایم فل، پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ اور دیگر کتاب لکھنے والوں کو اِس کی از حد ضرورت پڑے گی۔ اِس لیے لازمی اور ضروری ہے کہ اِس کے تمام شماروں کی کاپیاں لائبریریوں کے ساتھ ساتھ قلم کاروں کی ذاتی لائبریریوں میں بھی بطور ریکارڈ محفوظ رکھی جائیں۔

کریمی صاحب بڑی تیزی اور سرعت سے علمی و ادبی معرکے سر کر رہے ہیں۔ ”تیری یادیں“ کے نام سے آپ کا دوسرا شعری مجموعہ بھی گزشتہ سال کے آواخر میں شائع ہوچکا ہے جبکہ ”سسکیاں“ کے عنوان پر اخباری کالموں کا مجموعہ زیر طبع ہیں۔ کریمی صاحب نے 2009 ء میں ”کاروانِ فکر و ادب“ کے نام سے غذر میں ایک ادبی تنظیم بھی قائم کی ہے جس کے وہ خود بانی، سرپرست اور صدر نشین ہیں۔ وہ اِسماعیلی طریقہ بورڈ برائے پاکستان کے نوجوان الواعظ اور اسکالر ہیں۔

اگرچہ وہ اِس منصب کے پیش نظر دینی رہنما اور خاص جماعت کے نمایندہ ہیں لیکن اُن میں روایتی ایسے منصب داروں کی طرح شمّہ بھر کسی قسم کا کوئی تعصّب، تنگ نظری، بنیاد پرستی، جانب داری، اِنتہا پسندی اور وجودِ ذات کے خول میں بند رہنے کی خاصیتیں نہیں ہیں۔ اُن میں آزاد پسندی ہے، آزاد روی ہے، ذ ہنی کشادگی ہے، فکری وسعت ہے، ہر طبقۂ فکر کے ساتھ چلنے کی صلاحیت ہے، ہر طرح کی سوچ رکھنے والوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی خوبی ہے۔ وہ اعلیٰ و ادنیٰ، بلندو پست، سرخ و سفید اور ہر طرح کے معاشرتی اِنسانوں کو مساویانہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ دُنیا میں کامیابی حاصل کرنے والے اور کامیاب لوگ ایسے ہی ہُوا کرتے ہیں۔

کریمی اور قلم کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ فی الحقیقت فنّی مہارتیں بنیادی طور پر خدا داد ہوتی ہیں۔ مستند اور ترّقی یافتہ فنکار بننے کے لیے خدا کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرنی ہوتی ہے اور وہ اِس طرح کہ اُن کو آگے بڑھانے کی مسلسل کوشش کی جائے، اُن کو جلا دینے کے لیے انتھک محنت کی جائے، تجربات و مشاہدات میں اضافہ کرتا رہے، مطالعہ میں وسعت پیدا کی جائے۔ فن کے ساتھ سو فیصد مخلص ہو۔ فن کی آبیاری کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دی جائیں۔ یقینا کریمی صاحب ایسا ہی کرتے ہیں۔ کریمی صاحب نے اپنے خلوص، اپنی محنت، اپنے ذوق و شوق اور اپنی خدا داد صلاحیت کی بدولت 2003 ء میں آل پاکستان مقابلۂ کالم نویسی میں اوّل انعام حاصل کیا تھا۔

یاد رہے کہ قلم میں قُوّت و طاقت پیدا کرنے، قلمی کاوشوں کو از حد مفید اور معلوماتی بنانے اور پُراثر بنانے کے لیے دیگر لوازمات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم بنیادی شرط ہے۔ کیونکہ علم سے ہی صلاحیتوں اور معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اِس لیے قلم کار کو چاہیے کہ وہ اپنے علمی معیار کو بلند کرے۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ کریمی صاحب نے سیاسیات میں اعلیٰ نمبروں سے ایم۔ اے کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔

آخر میں سہ ماہی علمی و ادبی رسالہ ”فکرونظر“ غذر/ گلگت بلتستان و چترال کے ”کریمی نمبر“ کی اِشاعت پر راقم اپنی اور جملہ اہلِ قلم کی طرف سے اِس کے پبلشر اور چیف اِیڈیٹر جناب الواعظ عبدالکریم کریمی کو دِل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہے۔ یہ اُن کی خوش بختی اور بے پناہ کاوشوں کا صلہ ہے کہ اپنی زندگی میں بلکہ نوجوانی میں، اپنی اِدارت میں، اپنی مرضی سے، ”کریمی نمبر“ جاری کرنے کی توفیق حاصل ہو رہی ہے وگرنہ عام رَوِش تو یہی ہے کہ زندگی کو رقابتوں کا نمونہ قرار دیا جاتا ہے جب تک کوئی زندہ ہوتا ہے، خواہ وہ کیسا ہی بلند مرتبہ، عالی جاہ، بے ضرر، معصوم اور چاہا جانے والا علمی و ادبی اِنسان ہی کیوں نہ ہو رقابت کے سبب اُس کا یوم منانا، اُس کا نمبر نکالنا اور اُس پر تعارفی کلمات لکھنا معاصر اہلِ قلم کے لیے الاّماشاء اللہ مشکل سمجھا جاتا ہے۔

حکیم الامت، نبّاض قوم، شاعر مشرق حضرت علاّمہ اقبالؒ سے جب کسی دوست نے یہ سوال کیا تھا کہ ”علاّمہ صاحب کیا بات ہے کہ مغربی اقوام اپنی بڑی شخصیات کی قدر اُن کی زندگی میں کرتی ہیں۔ اُنہیں زندگی ہی میں انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔ زندگی ہی میں اُن سے فوائد حاصل کیے جاتے ہیں اُن کے فن و شخصیت پر کتابیں لکھی جاتی ہیں، اُن کی شخصیت پر سمینار اور کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں جب تک کوئی زندہ ہوتا ہے خواہ وہ کیسا ہی اچھا اِنسان ہو لوگ رقابت کے سبب اُس کی خوبیاں بیان کرنے کے بجائے اُس پر الزامات اور بہتان لگا کر اُس کو خامیوں کا پتلا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ جیسے ہی وہ دُنیا سے رخصت ہو جاتا ہے بڑے بڑے اہلِ قلم اُس پر مضامین لکھنا شروع کر دیتے ہیں، مقررّین اُس کی خوبیاں بیان کرنے لگ جاتے ہیں۔ اِس میں بھی یہ شک گزرتا ہے کہ اِس عمل سے مراد بھی اہلِ قلم اور مقررّین کی اپنی صلاحیت اور قوّتِ فن کا مظاہرہ ہو۔ بہر حال ایسا کیوں ہے؟ “

علامہ اقبالؒ نے دو مختصر جملوں میں اِس کا جواب دیا۔ ”زندہ قومیں ہمیشہ زندوں کی قدر کرتی ہیں اور مُردہ قومیں مُردوں کی۔ “

ہمیں خوشی ہے کہ اب ہماری قلمی دُنیا زندہ ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے اور زندوں کی قدر کی جارہی ہے۔ زندوں کے فن وشخصیت پر مضامین اور اشعار لکھے جا رہے ہیں۔ زندوں کی قابلیتوں اور صلاحیتوں کو سراہا جا رہا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3