کیا عمران خان کی پارٹی بھی اوور ہو چکی ہے؟
ِِوزیر اعظم عمران خان کو اقتدار میں آئے ابھی لگ بھگ 8 ماہ ہوچکے ہیں۔ اس عرصہ میں اک روز بھی خان صاحب کے کرپشن مخالف جذبات میں ذرا سی بھی ٹھنڈک نہیں آئی۔ اپنی کرپشن و کرپٹ عناصر مخالف تقاریر میں بھی خان صاحب شہباز، نواز، زرداری، بلاول اور مولانا فضل الرحمان پر سخت لفاظی استعمال کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو بات خود نہیں کہہ پاتے وہ شیخ رشید و فواد چودھری صاحب کی شیری زبان سے ادا کروادیتے ہیں۔ خیر یہ تو وہ رویہ اور اٹیکنگ پالیسی تھی جو خان صاحب و تحریک انصاف کے لیے الیکشن 2018 کی جیت کا سبب بنا۔
مگرشاید وہ یہ بھول گئے کہ عوام نے عمران خان و تحریک انصاف کو اس لیے ووٹ نہیں دیے تھے کہ یہ صرف نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹواور مولانا فضل الرحمان کی ناک میں دم کیے رکھیں بلکہ عوام نے تبدیلی کے نعرے پر ووٹ اس لیے دیا تھا کہ غربت، بے روزگاری، محروم علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، صحت و تعلیم میں بہتری کی جلد از جلد فراہمی کے حصول کے لیے جلد از جلد اقدامات کیے جائیں۔ روز اوّل سے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے جو رویہ اختیار کیا وہ ٹکراؤ، انتقام، ضد بازی اور انتشار کا رہا۔
دوسری طرف تحریک انصاف سے اُمیدیں لگانے والی عام عوام گزشتہ 8 ماہ میں 2 سے زائد منی بجٹ سہہ چکی ہے اور ابھی جون میں ایک اور بجٹ کا پہاڑی تودہ درمیانے طبقے و غریبوں کے گھروندوں پر گرے گا۔
معیشت کے آئن سٹائن وزیر خزانہ اسد عمر کے انتخابات سے قبل ہوائی دعوؤں کی قلعی آئے روز اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے، ڈالر کے ہاتھ سے نکل جانے، بجلی، پانی، گیس ٹیرف میں دن بدن اضافے سمیت دیگر معاشی مسائل پر قابو نہ پانے کی وجہ سے کھل کر سامنے آگئی ہے۔
سچ پوچھیں تو اسد عمر اور عثمان بزدار کپتان کے وہ فاسٹ بالرز ثابت ہوئے ہیں جنہوں کی متعدد نوبالز کی وجہ سے اپوزیشن نے فری ہٹس کے ذریعے اپنا رن ریٹ بہتر بنالیا۔
دیکھا جائے تو پاکستان میں سیاست و اقتدار پر قائم دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو ہٹانے اور تحریک انصاف سے عمران خان کو نجات دہندہ کے طور پر سامنے لانے کے لیے جو کوششیں کی گئیں وہ لازمی ملکی داخلہ و خارجہ امور سمیت معیشت کی بحالی سے مشروط ہوں گی۔ کیونکہ سمجھنے والوں کوایسا لگا جیسے
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی سیاست کا خاتمہ اک طرح سے ملک بھر میں کرپشن کے خاتمہ کی طرح ثابت ہوگا اور تحریک انصاف الیکشن میں لگائے تبدیلی کے پر اثر نعرے کو بروئے کار لاکر اقتدار میں آکر حقیقی تبدیلی کے ثمرات عوام تک پہنچائے گی۔
لیکن اس تبدیلی سرکار آنے کے باوجو ہر لمحہ دڈگمگاتی ملکی معیشت سمیت بعض بگڑتے سیاسی معاملات کچھ مایوس کن ثابت ہورہے ہیں۔
اس مایوسی کی بڑی وجوہات میں بڑا صوبہ پنجاب کی سیاست و انتظامی معاملات دیکھیں تو تحریک انصاف نظریاتی و اتحادی، جنوبی پنجاب لابی اور چوہدری پرویز الہیٰ گروپ الگ الگ اپنے مفادات کی خاطر زور آزمائی کر رہے ہیں۔ مرکز میں پارلیمانی کمیٹیوں کا کام بالکل جمود کا شکار ہے کیونکہ خان صاحب نے سیاست کا انداز ہی یہ اپنایا کہ اپوزیشن سے نہ بات ہوسکتی ہے نہ ان کے ساتھ بیٹھ کر کوئی کام۔
شیخ رشید، فواد چودھری اور اسد عمر سمیت کچھ اور وزراء اپنی وزارتوں کے معاملات کو چھوڑ کر اپوزیشن سے لفظی جنگ چھیڑے بیٹھیں ہیں۔
اور دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ تحریک انصاف ابھی بھی خود کو اپوزیشن جماعت ہی سمجھتی ہے اور ان کا بس چلے توکسی دن ڈی چوک جاکر خود دھرنے دے ڈالے۔
ایسے میں نواز شریف کی عبوری ضمانت اور شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلنا عقل والوں کے لیے نشانیوں کو دعوت دے رہا ہے۔ اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ایسٹبلشمنٹ نے اپنے نئے گھوڑے پر مزید بازی لگانے کا ارادہ ترک کر کے اپنے پُرانے گھوڑوں کو دوبارہ آزمانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یعنی کہ سیاسی بساط و ریاستی معاملات پر اپنی مرضی کے پیادے مخصوص خانوں تک چلانے کی گیم آن ہے۔


