سولہ جماعت پاس شہزادی اور دھوکے باز راجکمار
شادی شادی شادی، سب خوابوں کی بس ایک ہی تعبیر ہے۔ شکر ہے اللہ کا کہ شکل صورت اچھی دی اور سونے پر سہاگہ کہ سولہ جماعتیں پاس کر کے ڈگری بھی حاصل کر لی. سارے خاندان میں چرچا ہے کہ پچیس سال کی عمر میں سارے خاندان سے زیادہ تعلیم حاصل کی۔ حسن ہو تو نزاکت آ ہی جاتی ہے اور اگر رشتے دار تعریف کرکے ملکہ الزبتھ بنا دیں تو ایسے میں کس کا دل چاہتا ہے کہ حالت سے تنگ ہو کر یا شوقیہ گھر سے باہر نکلے اور کام کاج کی طرف دھیاں دے۔
رابعہ کا رزلٹ آیا تو اماں نے ہر طرف فون گھما کر خوشخبری سنا دی کہ ہماری رابعہ سولہ جماعتیں پاس کر چکی ہے بہن ہے کوئی خاندان میں ایسی لڑکی جس کے پاس یہ اعزاز ہو خالہ کوثر کا فون بند ہوتا ہو گا تو ضرور دوسری طرف فون سننے والے کو احساس کمتری اور اپنے بچوں کی نالائقی ستاتی ہو گئی۔ کچھ دن تو ایسے ہی مبارک باد کے پیغامات میں گزر گے اور گھر میں ماحول بھی اچھا رہا لو جی بڑی پھوپھو جو کہ جوانی میں بیوہ ہو کر اماں ابا کے گھر پر ائی اور پھر اسی گھر کی ہو کر رہ گئیں اب آہنی اماں کو روز بس ایک ہی فقرہ دھراتی تھیں ( آہنی اماں رابعہ کی دادی تھیں )۔
اماں اب کسی اچھے سے خاندان کا رشتہ دیکھو اور رابعہ کو اس کے گھر کی کر دو اگر تھوڑی سی عمر زیادہ ہو گئی تو بیہودہ رشتے دروازہ بجائیں گے۔ اب اماں اور خالہ کوثر کا دن رات ایک ہی مشن تھا چھوٹے گھرانے میں بہترین تعلیم یافتہ بیٹی کا رشتہ ڈھونڈنا۔ جوانی بھر پور تھی اور ویسے بھی شہزادی کو تو اپنے سپنوں کے شہزادے کا انتظار رہتا ہی ہے۔ رابعہ بھی سارا دن کمرے کے باہر سے آوازیں سن سن کراپنے شہزادے کے خواب بننے لگی۔
رشتے آتے کسی کا خاندان بڑا ہو تا تو کوئی ذات پات میں کم۔ اچھے رشتے کی تلاش میں تقریبا ایک سال کا عرصہ بیت گیا رابعہ خاندان کی کسی شادی میں شریک ہوتی تو دلہن کو دیکھ کر رشک کرتی کہ واہ کیا قسمت پائی نہ اچھی ڈگری نہ ہی خاص شکل پھر بھی شادی دھوم دھام سے اچھے گھر میں ہو رہی۔ خالہ پروین نے زور سے آواز دے کر پھوپھو اور خالہ کوثر کو مخاطب کیا۔ لو جی آج تو مٹھائی کا ٹوکرہ منگوا لو اور ساتھ پلچھی کا سوٹ بھی۔ ایسا رشتہ لائی ہوں کہ سن کر حیران رہ جاؤ گئی لڑکا اکلوتا ہے بہنیں شادی شدہ ہیں۔ اپنے گھروں میں راج کر رہی ہیں۔ اب رابعہ اس اکیلے گھر میں رانی بن کر رہے گئی۔
رابعہ نے شرماتے ہوئے کچن سے ساری گفتگو سنی اور چائے کی ٹرے لیے پیش ہوگئی۔ اماں اور خالہ کوثر نے وقت مانگا اور رشتے متعلق گھر کے مرد مجاہد یعنی رابعہ کے ابا چاچا کرامت کو بتایا کچھ دن چھان بین میں لگے آس پڑوس سے پتہ چلا کہ خاندان چنگا بھلا ہے۔ رابعہ کے رشتے کی ہاں ہو گئی۔ شادی کی تاریخ طے ہوئی لڑکا لڑکی بھی دونوں خاندانوں کو پسند آگے اور شادی کی تیاری شروع ہو گئی اللہ اللہ کرکے وہ دن ایا جب فیصل میاں بارات لے کر پہنچے اور خیر وعافیت سے شادی ہوگئی۔
فیصل کے خاندان کے لوگ وقتا فوقتا گھر آتے اور جوڑی کو دیکھ کر رشک کرتے۔ دور کے ایک دو عزیزواقارب نے رابعہ سے کام کاج اور کہیں ملازمت کا پوچھا تو صاف جواب ملا کہ خالہ میرا خواب پورا ہو گیا۔ پڑھائی مکمل اور پھر شادی بھی ہوگئی۔ اب میں نے سب کچھ کس کے لیے کرنا ہے۔ وقت گزرتا گیا فیصل کام کے سلسلے میں کبھی بیرون ملک جاتا تو کبھی اندرون ملک۔ زندگی مصروف ہوتی گئی اب رابعہ کو خواب تھا گھر کو مکمل کرنا یعنی وہ اب یہی دعا کرتی کہ بچے ہو جائیں تو زندگی مکمل ہو جائے اللہ نے اس کو بیٹی سے نوازا وہ اس میں مصروف ہوگئی۔
فیصل کی مصروفیت بڑھی تو گھر آنا خاصا کم ہو گیا کبھی کراچی کا دورہ تو کبھی دوبئی روانگی۔ میاں بیوی کے درمیان بات چیت کا عالم یہ تھا کہ یہی پوچھا جاتا کہ ناشتے میں کیا بنے گا اور کھانا کیا پکایا جائے۔ بیٹی جنت بھی اب چلنا پھرنا شروع ہو چکی تھی۔ فیصل کو گھر سے گئے کافی دن گزر چکے نہ فون آیا اور نہ ہی کوئی خیر خبر۔ رابعہ نے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو فون بند ملا۔ سوچا فیصل گھر آئیں گے تو ان سے بات کروں گی۔ اس گھر کو بھی ان کی ضرورت ہے، کب تک یہ کاروبار میں سب ایسا چلتا رہے گا۔ فیصل گھر آیا تو روایتی بیویوں کی طرح پوچھ گچھ شروع ہوگئی اور بات اتنی بڑھی کہ لڑائی کی نوبت آن پہنچی۔
پھر یہ لڑائیاں معمول بن گئیں۔ فیصل گھر سے باہر رہتا اور گھر میں اکیلی رابعہ سوچ سوچ کر ذہنی انتیشار میں گم۔ جنت سکول جانا شروع ہوئی تو رابعہ کو احساس ہواکہ گھر میں سب سے زیادہ فارغ اور کند ذہن اسی کی ذات ہے۔ فیصل سے بات ہوتی تو ہر بات پر طعنے ملتے کہ کماتا ہوں۔ تمھاری طرح ویلا نہیں ہوں کہ ہر سوال کا جواب دوں۔ قیامت تو اس دن ٹوٹی جب فیصل کا فون کسی لڑکی نے سنا اور جواب دیا کہ وہ تو کسی کام سے گھر سے باہر گئے ہیں۔
رابعہ اضطراب میں مسلسل فون بجانے لگی اور پھر فون بندہو گیا۔ ساری رات انکھوں میں کٹی نہ نیند آئے اور نہ ہچکی رکے۔ رابعہ کو اپنا وجود بے نام محسوس ہوا۔ رابعہ کھوج لگا کر اس لڑکی تک جا پہنچی۔ اجنبی بن کر فیصل اور اس لڑکی کے رشتے کے بارے میں معلوم کیا تو پتہ چلا کہ فیصل نے بڑے ڈھیٹ پن سے رو رو کر مریم کو کہانی سنا رکھی تھی کہ اس کی شادی دباؤ میں کی گئی۔ اس کی بیوی یعنی رابعہ کے ساتھ اس کے تعلقات خوشگوار نہیں۔ روزانہ بحث مباحثہ کی وجہ سے گھر کا ماحول خراب رہتا ہے۔ اس لیے اس کو کسی ایسے سہارے کی ضرورت تھی جو اس سے دلگی اور پیار محبت کی کہانی بڑھائے تو مریم نے موقعہ غنیمت جانا اور فیصل کو اپنے قابو میں کر لیا۔ لو جی اب فیصل مریم کا دیوانہ تھا کیونکہ مریم میں وہ سب خصوصیات تھیں جو ایک قابل عورت میں ہوتیں۔
رابعہ سسکیاں بھرتی بوجھل دل کے ساتھ گھر پہنچی تو پہلی بار زندگی کی ویرانی اور دامن خالی ہونے کا احساس ہوا آگے کیا ہونا تھا اس کے بارے میں ذہن میں کچھ نہیں ارہا تھا اور ایک ہی آواز گھونج رہی تھی سولہ جماعت پاس اچھے رنگ روپ والی شہزادی کے ساتھ ایسا کیسے ہو سکتا۔ کئی روز گزر گے نہ وقعت کا احساس ہو پایا اور نہ ہی وہ خوابوں کا شہزادہ تسلی دینے کو پہنچا جس کے لیے زندگی منجمد ہو چکی تھی۔ اب نہ تو ذہن بانٹنے کو کوئی مصروفیت نظر آرہی تھی اور نہ ہی روشن مستقبل کے خواب۔
رابعہ فیصل کی بے وفائی کا بوجھ لیے بیٹی کے ساتھ اماں ابا کے گھر چلی گئی وقت گزرتا گیا عجیب وغریب باتیں اور دھوکے کے صدمے نے رابعہ کے ذہن پر اثر ڈالا اور اب وہ کملی کہلانا شروع ہو گئی سارا سارا دن آسمان دیکھتی اور خود کلامی کرتی رہتی۔ نہ کوئی مصروفیت اور نہ ہی کچھ نیا کرنے کاجذبہ بس بے بسی اور دنیا سے نفرت کا بیج رابعہ کے دل میں گھر کر گیا۔ اورایسے ایک رشتے کی خاطر خود کو زنگ لگانی والی اکیلی۔ ہوگئی اور فیصل میاں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
حیرت تو ہوتی ہے سوچ کر کہ مرد کیسے کیسے بہانے بنا کر اپنے ساتھ جڑے رشتوں کی کایا پلٹ دیتے، معلوم ہی نہیں پڑتا۔ مگر افسوس ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو تعلیم ڈگری دلوانے اور اچھا رشتہ پانے کے لیے دلواتے اور بیٹی کو ذہنی طور پر حالات سے لڑنے اور اپنا آپ منوانے کی ہمت کبھی نہیں دیتے۔ بس انسان کاجذبہ اور کچھ کر دکھانے کی ہمت ہی اس کو صحیح راستے پر زندہ رکھتی اس لیے بیٹیوں کو شہزادہ ملے اس کے خواب دکھانے کی بچائے ان کی تربیت کریں کہ ان کو اپنے لیے جینا ہے سب رشتے دنیاوی ہیں کسی کے لیے بھی اپنی ذات کی نفی نہ کریں اور بوجھ سمجھ کر خود ترسی کی زندگی نہ گزاریں۔


