اللہ نہ کرے کہ ہمیں کبھی اس طرح کی صورت حال سے گزرنا پڑے جب اپنا اپ بے معنی اور ہر صبح مایوسی کا عالم لگے۔ چاچا بشیر شوق سے کچھ کارٹون بنے خوش رنگ کپڑے لایا اور ساتھ میں کچھ قیمتی کھلونے بھی ٹیبل پر سجا لیے۔ آواز میں اعتماد اور خوشی محسوس کی جاسکتی تھی تبھی کمرے سے آواز ائی اوے بشیرے ویلا آ گیا اے جا خالہ نذیراں نو بولا لے۔ چاچا بشیرے نے نہ آؤ دیکھا اور نہ تاؤ بھاگتا ہو دوسرے محلے جا پہنچا اور جاندار آواز میں خالہ نذیراں پکارتا ان کو ساتھ لیے چل پڑا۔
خالہ نذیراں نے مسرت بی بی کو اپنے جادوائی ڈاکٹرانہ طریقے سے چیک کیا اور کہا کہ بشیرے مٹھائی منگوا لے میں یقین سے کہتی ہوں تیرے گھر پتر ائے گا بشیرا چاچا حلوائی کی دکان سے بہترین مٹھائی لایا اور ساتھ ساتھ اس خوشی سے سرشار فخرانہ انداز میں صحن میں چہل قدمی کرنے لگا۔ مسرت بی بی چاچا بشیرے کی بیوی تھی اور وہ تیسری بار امید سے تھیں اللہ نے اس سے قبل ان کو دو بیٹیوں سے نوازا تھا۔ اور اب کی بار چاچا بشیرا امید سے تھا کہ ان کے گھر بیٹا ہو گا۔
Read more