لڑکی کو حیوانیت کا نشانہ بنانے کے بعد تیزاب پھینکنے والا پیر

کچھ کنفیوژن ہے سمجھ میں نہیں آرہا عقیدت مندی زیادہ طاقتور رشتہ ہے یا ممتا۔ ہسپتال کے بیڈ پر لیٹی وہ خاموشی سے کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی اس کو اپنی جانب ایک مجع محسوس ہوا اکثر ایسے مجمعے یا تو کسی حسن کی محفل کی طرف بڑھنے کے لیے ہوتے ہیں یا کہیں کوئی تماشا لگا ہو تب ایسا منظر دیکھنے کو ملتا۔ رابعہ کی عمر تقریبا بائیس سال ہوگئی اور وہ سرگودھا کے ایک ایسے گاؤں سے تعلق رکھتی یہاں اپکو عقیدت مندی کے کئی مظہر نظر ائیں گاؤں سے تعلق تھا اس لیے کبھی شہری دنیا نہیں دیکھی یہاں شہر میں تو عجب رونق ہے قہقہے رنگیاں سب کچھ ہے مگر رابعہ کو یہ سب اچھا محسوس ہونے کے باوجود بھی عجیب سی جھجک محسوس ہورہی تھی۔

Read more

محبت کے اصول بہت سادہ ہیں، بھلائی کریں بھلائی ملے گی

دروازہ بجے جا رہا ہے۔ ’’بچو دیکھو دروازے پر۔ کوئی ہے جو دروازے کی کنڈی کھولے صبح کے آٹھ بج چکے ہیں، پروین گلی کی صفائی کے بعد کوڑا لینے آئی ہو گی۔‘‘ اماں ہاجرہ بڑبڑاتے دروازے کی طرف لپکی۔ مسکراتے چہرے سے پروین نے زور دار سلام کیا۔ ’’اماں بتاؤ کوڑا کدھر رکھا ہے، سارا جمع کر لوں۔‘‘ پروین تیزی سے گھر کے اندر لپکی۔ کچن باتھ روم چھت اور گھر کے جس بھی کونے میں کوڑا تھا پروین نے سمیٹا اور کوڑے دان میں ڈال دیا۔ ’’ارے کوئی سنتا ہے؟! کوثر، ارے ثروت، اٹھو جلدی سے پروین کے لیے ناشتا بنا دو۔ دُپہر ہونے کو ہے اس نے اور بھی کام کرنے ہیں۔‘‘

Read more

قصاب اور کتے کا گوشت

ہم نے کتابوں میں ساری زندگی ایماندار لکڑ ہارے کی کہانی اور سیرت نبوی اور نبی کریم کی زندگی متعلق پڑھا مگر دنیاوی معاملات اس سب پڑھے پر حاوی ہیں۔ ماموں کا تعلق چونکہ ایک دیہات سے ہے تو وہاں ہر بات کو قصے کے طور پر سمجھایا جاتا ہے جس سے سننے والے کو مزاح اور سبق بھی حاصل ہو۔ سردی کا موسم تھا شام کی چائے پر سب زمین پر بیٹھے توجہ سے پرانے وقتوں کے قصے کہانیاں سن رہے تھے کہ اچانک بے ایمانی اور حرام خوری پر گفتگو شروع ہوگئی تو ماموں نے ایک قصہ سنایا۔

Read more

یوں تو ہے خدا کا شکر واجب۔۔۔۔ مگر کسے ناخدا پکارے

ابا کے انتقال نے ہر طرف سناٹا بکھیر دیا۔ ان کے انتقال کو ابھی کچھ ہی روز گزرے تھے کہ چہلم کے بعد داد رسی کرنے والے سارے عزیز اوقارب ایک ایک کرکے اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے۔ زندگی کے پچھلے سب باب بند ہوئے اور ایک نئے باب کا آغازہو گیا۔ آئے روز…

Read more

دنیا پتلی تماشا

جب کبھی بھی اس راستے سے گزر ہوتا تو مغرب کے بعد ہی دنیا خاموش دیکھا ئی دیتی۔ وہ دیکھو لگتا ہے کوئی جگں و جگمگا رہا ہے۔ دور مٹی کے ٹیلے پر لالٹین کی مدھم مدھم روشنی واقعی میں کسی جگنو کی چمک محسوس ہوتی تھی۔ کچے مکان بڑے بڑے درخت اور رات کے اوقات میں الو اور چمگادڑ کی آوازیں۔ یہ کس کا گھر ہے جو اتنا پرسکون ہے۔بابا فضل ایک سکول میں اسلامیات پڑھتا تھا بہت ہی سادہ لوح اور رحم دل انسان، شاگرد بہت پیار سے بابا فضل سے پڑھتے کیونکہ اچھے کام پر بچوں کو کبھی میسی روٹی تو کبھی گڑ کی گچک انعام کے طور پر دی جاتی۔ وقت اپنی رفتار کے عین مطابق گزر رہا تھا۔ بابا فضل کی دو بیٹیاں تھیں اور ایک بیٹے نما ہیجڑا، پیرو۔ پیار سے گھر کے سب لوگ اس کو پیرو کہتے۔ بیٹیوں کے بعد جب پیرو پیدا ہوا تو کچھ روز تک بابا فضل گھر سے باہر نہ نکلا پھر اچانک سے کہیں سے بات سنے کوملی کہ سنا ہے پتر ہوا ہے بڑے کنجوس ہو لڈو تو بانٹ دیتے آس پڑوس میں

Read more

سولہ جماعت پاس شہزادی اور دھوکے باز راجکمار

شادی شادی شادی، سب خوابوں کی بس ایک ہی تعبیر ہے۔ شکر ہے اللہ کا کہ شکل صورت اچھی دی اور سونے پر سہاگہ کہ سولہ جماعتیں پاس کر کے ڈگری بھی حاصل کر لی. سارے خاندان میں چرچا ہے کہ پچیس سال کی عمر میں سارے خاندان سے زیادہ تعلیم حاصل کی۔ حسن ہو…

Read more

بددعا

اللہ نہ کرے کہ ہمیں کبھی اس طرح کی صورت حال سے گزرنا پڑے جب اپنا اپ بے معنی اور ہر صبح مایوسی کا عالم لگے۔ چاچا بشیر شوق سے کچھ کارٹون بنے خوش رنگ کپڑے لایا اور ساتھ میں کچھ قیمتی کھلونے بھی ٹیبل پر سجا لیے۔ آواز میں اعتماد اور خوشی محسوس کی جاسکتی تھی تبھی کمرے سے آواز ائی اوے بشیرے ویلا آ گیا اے جا خالہ نذیراں نو بولا لے۔ چاچا بشیرے نے نہ آؤ دیکھا اور نہ تاؤ بھاگتا ہو دوسرے محلے جا پہنچا اور جاندار آواز میں خالہ نذیراں پکارتا ان کو ساتھ لیے چل پڑا۔

خالہ نذیراں نے مسرت بی بی کو اپنے جادوائی ڈاکٹرانہ طریقے سے چیک کیا اور کہا کہ بشیرے مٹھائی منگوا لے میں یقین سے کہتی ہوں تیرے گھر پتر ائے گا بشیرا چاچا حلوائی کی دکان سے بہترین مٹھائی لایا اور ساتھ ساتھ اس خوشی سے سرشار فخرانہ انداز میں صحن میں چہل قدمی کرنے لگا۔ مسرت بی بی چاچا بشیرے کی بیوی تھی اور وہ تیسری بار امید سے تھیں اللہ نے اس سے قبل ان کو دو بیٹیوں سے نوازا تھا۔ اور اب کی بار چاچا بشیرا امید سے تھا کہ ان کے گھر بیٹا ہو گا۔

Read more