مرغیاں، انڈے، بکریاں اور غریب کی اوقات
پہلے تو ہمیں خدا کا کروڑوں بار شکر ادا کرنا چاہیے کہ پاکستان میں ایک ایسا وزیراعظم آیا ہے جس نے پہلی بار اس ملک کے غریب عوام کے بارے میں سوچا اور غرباء کی بے چارگی کو ختم کرنے کے اقدامات بڑی تیزی سے کر رہا ہے۔ ابھی ایک دن پہلے عمران خان صاحب نے غریب عوام کی غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک (میگاپروجیکٹ) کا اعلا ن کیا جس پر اگر ہوبہو عمل ہو جائے تو پاکستان پوری دنیا میں صحت مند اور امیرملک بن سکتا ہے۔
پاکستان کا ہر ایک غریب انسان خوشحال ترین زندگی بلکہ جہانگیرترین جیسی زندگی گزار سکتا ہے، اس (میگاپروجیکٹ) میں خان صاحب نے دیہات کے غرباء کو جو جو اشیاء دینے کا فرمایا ہے ان میں دیسی مرغیاں، بکریاں اور سبزیوں کے بیج شامل ہیں، خان صاحب کا کہنا ہے کہ مرغیاں انڈے دیں گی، بکریاں دودھ دیں گی، سبزیوں کے بیج زمین میں بیجنے سے سبزیاں اگ آئیں گی۔ جس سے پاکستان چند دنوں میں ترقی پزیر ممالک کی فہرست میں شامل ہوگا۔
آپ بہت اچھے سے جانتے ہیں کہ پاکستان جب سے وجود میں آیا ہے کوئی بھی ایساوزیراعظم ہمیں نصیب نہیں ہوا جسے اس قدر غریب عوام کی فکر لاحق ہو۔ اس سے پہلے جتنے بھی حکمران پاکستان میں بالخصوص وہ جن پر عمران خان صاحب ہر وقت تنقید کرتے ہیں، انہوں نے پاکستان کے غریب عوام کے بارے کبھی نہیں سوچا کسی نواز شریف، زرداری کو آج تک یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ مرغیاں انڈے دیتی ہیں، بکریاں دودھ دیتی ہیں، سبزیوں کے بیج زمین میں بونے سے سبزیاں اگ آتی ہیں، آج زندگی میں پہلی بار یہ انکشاف وزیراعظم عمران خان کو عوام پاکستان کے سامنے کرنا نصیب ہوا ہے۔
ورنہ پچھلی دو حکومتوں نے آج تلک پاکستان کے غریب عوام کو کیا دیا؟ پہلے زرداری آیا جس کے بارے مشہور ہے کہ اس کی ایک ہی پالیسی رہی کہ خود بھی کھاؤ اور مجھے بھی کھلاؤ۔ حکومت سمبھالتے ہی زرداری نے غرباء کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اعلان کردیا۔ بس؟ جس سے عورتوں کو ہر ماہ چند ہزار روپے دیے جاتے ہیں کیا زرداری کے اس پروجیکٹ سے پاکستان میں غربت کا خاتمہ ہو گیا؟ اس کے بعد نواز شریف کی بھی سن لی جیئے جس نے ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھا دیا، کیا غریب سڑک پر گاڑی چلاتا ہے؟
کوئی غریب ایسا ہے جو بس، ویگن یا موٹر بائیک چلاتا ہوبھلا ایک غریب انسان کا صاف ستھری سڑک سے کیا واسطہ؟ میٹرو بس سروس پنجاب کے مختلف شہروں میں چلا دی، اس سے آپ خود سوچیں کہ غریب عوام کا میٹرو بس یا اورنج ٹرین سے بھی کیا لینا دینا؟ غریب کون سا کہیں سفر کرتا ہے۔ ان سٹوڈنٹس کو لیپ ٹاپ دینا شروع کر دیے جو اچھے نمبرز لے کر کامیاب ہوتے تھے، آپ خود اس بات کا معائینہ کی جیئے کیا سٹوڈنٹس کو لیپ ٹاپ دینا اچھا اقدام ہے؟
ہاں اگر ان کو بکریاں دی جاتیں وہ ان کا دودھ پیتے، مرغیاں دیتے وہ ان سے کھیلتے اور روزانہ ایک انڈہ کھاتے اور مزے سے اپناگزر بسر کرتے۔ یہ کیا پڑھنے لکھنے والے مڈل کلاس کے بچوں کو غلط کاموں میں لگا دیاپہلے جہاں سٹوڈنٹ زیادہ دیر تلک ہاتھوں سے لکھ لکھ کر اپنی اسائینمنٹس مکمل کرتے تھے وہا ں اب چند منٹوں میں ساری ریسرچ کرلیتے ہیں۔ اس کے علاوہ رمضان المبارک میں غریبوں کے گھر گھر راشن دینے کا اقدام کتنا غلط ہے غریب بے چارہ تو ہر وقت تڑپتا تھا کہ کاش وہ بھی کبھی مرغیاں پالے، اس کے پاس بھی ایک آدھ بکری ہو جو دودھ دے۔
لیکن اب ایک فیصد بھی فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ آج کے دور میں عمران خان جیسے عظیم آدمی کی حکومت ہے جو ہر وقت پاکستان کے غریب عوام کے بارے سوچ بچار کرتا رہتا ہے اس جیسا کوئی سیاسی لیڈر ایسا نہیں آیا جسنے پاکستان کے غریب عوام کے لیے اس طرح کے (میگا پروجیکٹ) کا اعلان کیا ہو۔ ! ٓمیگا پروجیکٹ میں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ یہ مرغیاں، بکریاں اور سبزیوں کے بیجوں والا ایک ایک ایسا طویل العمر منصوبہ ہے جو شایدکبھی ختم نہ ہوکیونکہ اس منصوبے سے غریب کی غربت ختم ہوگی ناہی یہ مرغیاں، بکریاں اور سبزیوں کے بیج دینے کا سلسلہ۔
درحقیقت خان صاحب کے سامنے غریب کی اوقات ہی یہی ہے کہ وہ مرغیاں، بکریاں ہی پالے حالانکہ یہ کام تو پاکستان کا دیہاتی غریب اپنے پیدا ہونے سے ہی کر رہا ہے، اتنا گرا ہوا مذاق اور توہین یا تو آج عمران خان کے دور حکومت میں عوام پاکستان کی دیکھنے کو مل رہی ہے یا اس سے پہلے آمریت کے دور کے حکمران کیا کرتے تھے۔ غریب عوام اپنی جس غربت سے نکلنا چاہ رہے ہیں یہ عمران خان بمطابق اپوزیشن ( سلیکٹڈوزیراعظم) انہیں اسی غربت میں قید کرنے کا سوچ رہا ہے۔
یعنی یہ معاملہ ایسا ہی ہے کہ ایک انسان کو جان لیوا بیماری لاحق ہو جس کا علاج ایک لاکھ میں ممکن بھی ہو مگر اس کی جیب میں صرف دس روپے ہوں اور وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس جائے جس کے لیے دن رات دعائیں کیا کرتا تھاکہ اے خدا اسے بہت عزت اوردولت عطاء فرما اور اس کی دعاؤں سے اسے یہ سب مل بھی جائے اور دوست بھی اپنی غربت کے دور میں اس سے یہ وعدے کرتا ہو کہ بس تم دعا کرو اور میری باتیں مانا کرو پھر جب میں ایک دن امیر آدمی بن جاؤ گا تم دیکھنا تمہیں کبھی مایوس نہیں ہونے دوں گاتمہاری ہر ضرورت پوری کرونگا مگر جب وہ اس کے پاس جائے تو اس کی بیماری کے علاج کے لیے بیس روپے اور دے کر کہے کہ اگر اس سے تمہارا علاج ممکن ہے تو کروا لو میں اتنا ہی کر سکتا ہو، ا ب وہ اپنے دس اور اس کے دیے بیس روپے ملا کر تیس روپے سے اپنی جان لیوہ بیماری کا علاج تو نہیں کروا سکتا مگر اپنے دوست کے سامنے اس کی اصل اوقات کا اندازہ بخوبی لگا لیتا ہے۔ اسی طرح آج عمران خان کے سامنے غریب کی اصل اوقات سامنے آگئی جوپہلے وہ کروڑوں نوکریاں، فری گھر، مہنگائی کے خاتمے کی بڑی بڑی باتیں کیا کرتے تھے اور اقتدار ملنے کے بعد مرغیاں، انڈے اور سبزیوں کے بیج !


