شطرنج کے کھلاڑی – اردو کے شاہکار افسانے


مرزاجی گھر سے نکلے تو حکیم صاحب کے یہاں کے بدلے میر صاحب کے گھر پہنچے تو معذرت آمیز لہجہ میں بادل پُردردماجرا کہہ سنایا۔

میر صاحب ہنس کر بولے۔ اتنا تو میں اسی وقت سمجھ گیا تھا جب دردِ سر کا پیغام مامالائی تھی کہ آج آثار اچھے نہیں ہیں۔ مگر بڑی غصّہ ور معلوم ہوتی ہیں۔ اُف اتنی تمکنت آپ نے انھیں بہت سر چڑھارکھا ہے۔ یہ مناسب نہیں انھیں اس سے کیا مطلب کہ باہر کیا کرتے ہیں۔ خانہ داری کا انتطام کرنا ان کا کام ہے مردوں کی باتوں میں دخل دینے کا انھیں کیا مجال۔ میرے یہاں دیکھئے۔ کبھی کوئی چوں بھی نہیں کرتا۔

مرزا۔ خیر اب یہ بتائیے اب جماؤ کہاں ہوگا۔
میر۔ اس کا کیا غم ہے اتنا بڑا گھر پڑا ہوا ہے بس یہیں جمے گی۔

مرزا۔ لیکن بیگم صاحبہ کو کیسے مناؤں گا جب گھر پر بیٹھا رہتا تھا۔ تب تو اتنی خفگی تھی۔ گھر سے چلاآؤں تو شاید زندہ نہ چھوڑیں۔
میر۔ اجی بکنے دیجئے۔ دوچار دن میں خود بخود سیدھی ہوجائیں گی۔ ہاں آپ بھی ذرا تن جائیے۔

میر صاحب کی بیگم صاحبہ کسی وجہ سے میر صاحب کے گھر سے غائب رہنا ہی پسند کرتی تھیں۔ اس لیے وہ ان کے مشغلہ تفریح کا مطلق گلہ نہ کرتی تھیں۔ بلکہ کبھی کبھی انھیں جانے میں دیر ہوجاتی یا کچھ الکسا تے تو سرودیہ مستان یادوہایندن کے مصداق انھیں آگا کر دیا کرتی تھیں۔ ان وجوہ سے میر صاحب کو گمان ہوگیا تھا۔ کہ میری بیگم صاحبہ نہایت خلیق متحمل مزاج اور عفت کیش ہیں۔ لیکن جب ان کے دیوان خانہ میں بساط بچھنے لگی اور میر صاحب کی دائمی موجودگی سے بیگم صاحبہ کی آزادی میں ہرج پیدا ہونے لگا۔ تو انھیں بڑی تشویش دامن گیر ہوئی۔ دن کے دن دروازہ جھانکنے کو ترس جاتی تھیں۔ سوچنے لگیں کیوں کر یہ بلا سرسے ٹلے۔

ادھر نوکروں میں بھی یہ کانا پھوسی ہونے لگی۔ اب تک دن بھر پڑے پڑے خراٹے لیتے تھے۔ گھر میں کوئی آئے کوئی جائے ان سے مطلب تھا نہ سروکار بمشکل سے دوچار دفعہ بازار جاتا پڑتا۔ اب آٹھوں پہر کی دھونس ہوگئی۔ کبھی پان لگانے کا حکم ہوتا۔ کبھی پانی لانے کبھی برف لانے کا کبھی تمباکو بھرنے کا۔ حقّہ تو کسی دل جلے عاشق کی طرح ہر دم گرم رہتا تھا۔ سب جا کر بیگم صاحبہ سے کہتے حضور میاں کا شطرنج تو ہمارے جی کا جنجال ہوگیا۔ دن بھر دوڑتے دوڑتے پیروں میں چھالے پڑجاتے ہیں۔ یہ بھی کوئی کھیل ہے کہ صبح کو بیٹھے تو شام کردی۔ گھڑی دو گھڑی کھیل لیاچلو چھٹی ہوئی، اورپھر حضور تو جانتی ہیں کہ کتنا منحوس کھیل ہے جسے اس کی چاٹ پڑجاتی ہے کبھی نہیں پنپتا۔ گھر پر کوئی نہ کوئی آفت ضرور آتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک کے پیچھے محلے تباہ ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ محلے والے ہر دم ہمیں لوگوں کوٹوکا کرتے ہیں۔ شرم سے گڑجانا پڑتا ہے۔ بیگم صاحبہ کہتیں مجھے تو یہ کھیل خودایک آنکھ نہیں بھاتا، پر کیا کروں میراکیا بس ہے۔

محلہ میں دو چار بڑے بوڑھے تھے وہ طرح طرح کی بدگمانیاں کرنے لگے۔ اب خیریت نہیں ہمارے رئیسوں کا یہ حال ہے تو ملک کا خدا ہی حافظ ہے یہ سلطنت شطرنج کے ہاتھوں تباہ ہوگی۔ لچھن بُرے ہیں۔

ملک میں واویلا مچا ہواتھا۔ رعایا دن دھاڑے لٹتی تھی۔ پر کوئی اس کی فریاد سننے والا نہ تھا۔ دیہاتوں کی ساری دولت لکھنؤ میں کھچی چلی آتی تھی اور یہاں سامانِ عیش کے بہم پہنچانے میں صرف ہوجاتی تھی۔ بھانڈ نقال۔ کتھک ’ارباب نشاط کی گرم بازاری تھی۔ ساقنوں کی دکانوں پر اشرفیاں برستی تھیں۔ رئیس زادے ایک ایک دم کی ایک ایک اشرفی پھینک دیتے تھے۔ مصارف کا یہ حال اور انگریزی کمپنی کا قرضہ روز بروز بڑھتا جاتا تھا اس کی ادائیگی کی کسی کو فکر نہ تھی۔ یہاں تک کہ سالانہ خراج بھی ادا نہ ہوسکتا تھا۔ ریزیڈنٹ باربار تاکیدی خطوط لکھتا۔ دھمیکاں دیتا، مگر یہاں لوگوں پر نفس پروری کا نشہ سوار تھا کسی کے کان پر جوں نہ رینگتی تھی۔

خیر میر صاحب کے دیوان خانے میں شطرنج ہوتے کئی مہینے گزرگئے نت نئے نقشے حل کیے جاتے، نئے نئے قلعے تعمیر ہوتے اور مسمار کیے جاتے، کبھی کبھی کھیلتے کھیلتے آپس میں جھڑپ ہوجاتی، تو تو میں میں کی نوبت پہنچ جاتی۔ پریہ شکر رنجیاں بہت جلد رفع ہوجاتی تھیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مرزاجی روٹھ کراپنے گھر چلے جاتے میر صاحب بساط اٹھاکراپنے گھر میں آبیٹھتے اور قسمیں کھاتے کہ اب شطرنج کے نزدیک نہ جائیں گے مگر صبح ہوتے ہی دونوں دوست پھر مل بیٹھتے نیند ساری بدمزگیوں کو دور کردیتی تھی۔

ایک دن دونوں احباب بیٹھے شطرنج کے دلدل میں غوطے کھارہے تھے کہ شاہی رسالہ کا ایک سوار وردی پہنے اسلحہ سے لیس میر صاحب کا نام پوچھتا آپہنچا میر صاحب کے حواس اڑے۔ اوسان خطہ ہو گئے۔ خدا جانے کیا بلا سر پر آئی۔ گھر کے دروازے بند کرلیے۔ اور نوکروں سے کہا۔ گھر میں نہیں ہیں۔

سوار نے کہا گھر میں نہیں ہیں تو کہاں ہیں کہیں چھپے بیٹھے ہوں گے۔
خدمت گار میں یہ نہیں جانتا گھر میں سے یہی جواب ملا ہے کیا کام ہے۔

سوار۔ کام تجھے کیا بتاؤں حضور میں طلبی ہے۔ شاید فوج کے لیے کچھ سپاہی مانگے گئے ہیں۔ جاگیردار ہیں کہ مذاق ہے۔
خدمت گار۔ اچھا تشریف لے جا ئیے۔ کہہ دیا جائے گا۔

سوار۔ کہنے سننے کی بات نہیں۔ میں کل پھر آؤں گا اور تلاش کرکے لے جاؤں گا اپنے ہمراہ حاضرکرنے کا حکم ہوا ہے۔
سوار تو چلاگیا۔ میر صاحب کی روح فنا ہوگئی۔ کانپتے ہوئے مرزاجی سے بولے اب کیا ہوگا۔

مرزا۔ بڑی مصیبت ہے کہیں میری طلبی بھی نہ ہو۔
میر۔ کمبخت کل پھر آنے کو کہہ گیا ہے۔

مرزا۔ قہر آسمانی ہے اور کیا کہیں سپاہیوں کی مانگ ہو تو بن موت مرے۔ یہاں تو جنگ کا نام سنتے ہی تپ چڑھ آتی ہے۔
میر۔ یہاں تو آج سے دانہ پانی حرام سمجھئے۔

مرزا۔ بس یہی تدبیر ہے کہ اس سے ملیے ہی نہیں دونوں آدمی غائب ہوجائیں۔ سارا شہر چھانتا پھرے۔ کل سے گومتی پار کسی ویرانے میں نقشہ جمے۔ وہاں کیسے خبر ہوگی۔ حضرت اپنا سا منہ لے کر لوٹ جائیں گے۔

میر۔ بس بس آپ کو خوب سوجھی۔ واللہ کل سے گومتی پار کی ٹھہرے۔
ادھر بیگم صاحبہ سوار سے کہہ رہی تھیں ”تم نے خوب بہروپ بھرا۔“

اس نے جواب دیا۔ ایسے گاؤدیوں کو تو چٹکیوں پر نچاتا ہوں۔ اس کی ساری نقل اور ہمت تو شطرنج نے چرلی۔ اب دیکھ لینا جو کبھی بھول کر بھی گھر رہے صبح کا گیا پھر رات کو آئے گا۔

اس دن سے دونوں دوست منہ اندھیرے گھر سے نکل کھڑے ہوتے اور بغل میں ایک چھوٹی سی دری دبائے۔ ڈبّے میں گلوریاں بھرے گومتی پار ایک پرانی ویران مسجد میں جا بیٹھے جو شاید عہد مغلیہ کی یادگار تھی۔ راستہ میں تمباکو، مدریالے لیتے اور مسجدمیں پہنچ۔ دری بچھاحقّہ بھر کر بساط پر جا بیٹھتے۔ پھر انھیں دین دنیا کی فکر نہ رہتی تھی۔ کشت شہ پٹ لیا۔ ان الفاظ کے سوا ان کے منہ سے اور کوئی کلمہ نہ نکلتا تھا۔ کوئی چلہ کش بھی اتنے استغراق کی حالت میں نہ بیٹھتا تھا۔ دوپہر کو جب بھوک معلوم ہوتی تو دونوں حضرت گلیوں میں ہوتے ہوئے کسی نانبائی کی دکان پر کھانا کھا لیتے اور چلم حقّہ پی کرپھر شطرنج بازی۔ کبھی کبھی تو انھیں کھانے کی سدھ نہ رہتی تھی۔

ادھر ملک میں سیاسی پیچیدگیاں روز بروز پیچیدہ ہوتی جاتی تھیں۔ کمپنی کی فوجیں لکھنؤ کی طرف بڑھی چلی آتی تھیں۔ شہر میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ لوگ اپنے اپنے بال بچوں کولیکر دیہاتوں میں بھاگے جارہے تھے۔ پر ہمارے دونوں شطرنج باز دوستوں کوغم وزدا۔ اور غم کالا سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ وہ گھر سے چلتے تو گلیوں میں ہوجاتے۔ کہیں کسی کی نگاہ پڑجائے۔ محلے والوں کو بھی ان کی صورت نہ دکھائی دیتی تھی۔ یہاں تک کہ انگریزی فوجیں لکھؤ کے قریب پہنچ گئیں۔

ایک دن دونوں احباب بیٹھے بازی کھیل رہے تھے۔ میر صاحب کی بازی کچھ کمزور تھی۔ مرزا صاحب انھیں کشت پرکشت دے رہے تھے کہ دفعتاً کمپنی کی فوج سڑک پر سے آتی ہوئی دکھائی دی۔ کمپنی نے لکھؤ پر تصرف کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ قرض کی ملّت میں سلطنت ہضم کر لینا چاہتی تھی۔ وہی مہاجنی چال چلی۔ جس سے آج ساری کمزور قومیں پابہ زنجیر ہورہی ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3