اندھیری رات کے سناٹے میں دہسان ندی چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی سہانی آواز پیدا کرتی تھی، گویا چکیاں گھمر گھمر کرتی ہوں۔ ندی کے داہنے کنارے پر ایک ٹیلا ہے، اس پر ایک پرانا قلعہ بنا ہوا ہے، جس کی فصیلوں کو گھاس اور کائی نے گھیر لیا ہے۔ ٹیلے کے پورب میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہ قلعہ اور گاؤں دونوں ایک بندیل سردار کی یادگار ہیں۔ صدیاں گزر گئیں، بندیل کھنڈ میں سلطنتیں بنیں اور بگڑیں، مسلمان آئے اور گئے، بندیل راجے اٹھے اور گرے۔ کوئی علاقہ ایسا نہ تھا جس پر ان تبدیلیوں کے داغ نہ لگے ہوں۔ مگر قلعے پر کسی دشمن کا پھریرا نہ لہرایا اور اس گاؤں میں کسی دشمن کے قدم نہ آئے۔ یہ اس کی خوش نصیبی تھی۔
انردھ سنگھ دلیر راجپوت تھے۔ وہ زمانہ ہی ایسا تھا، جب ہر شخص کو ضرورتاً دلیر اور جانباز بننا پڑتا تھا۔ ایک طرف مسلمان فوجیں پرا جمائے کھڑی رہتی تھیں تو دوسری طرف زبر دست بندیل راجے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ہوس ناک نگاہوں سے دیکھتے رہتے تھے۔ انردھ سنگھ کے پاس سواروں اور پیادوں کی مختصر مگر آزمودہ کار جماعت تھی، اس سے وہ اپنے خاندان کا وقار اپنے بزرگوں کی عزت قائم رکھتا تھا۔ اسے کبھی چین سے بیٹھنا نصیب نہ ہوتا۔
Read more