سوشل میڈیا کا متوازن استعمال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ دور میں سوشل میڈیا خصوصی طور پر فیس بک اور ٹویٹر نے لوگوں کو آپس میں بہت قریب کر دیا ہے۔ اب آپ کی تعلق داریاں اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کے علاوہ ان لوگوں سے بھی بن جاتیں ہیں جنہیں آپ زندگی میں کبھی نہیں ملے ہوتے۔ یہ باہمی رابطے انگریزی میں سوشل نیٹ ورکنگ کہلاتے ہیں یا ہم انہیں سماجھی میل جول بھی کہہ سکتے ہیں جو موجودہ دور میں خصوصا شہری زندگی کا جز لاینفک بن چکا ہے۔ ان باہم سماجھی روابط کے فوائد و نقصانات اور ان کے مضمرات پہ ان علوم کے فاضل ماہرین کی طرف سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لہذا ان موضوعات کو احترام سے ایک طرف رکھتے ہوئے ہم سوشل میڈیا کے متوازن استعمال کی فکر کو زیر بحث لائیں گے یا اس رویے پہ بات کریں گے جو ہم ایک دوسرے کے کمینٹس یا خیالات پہ بات کرتے ہوئے اپناتے ہیں۔

قارئین کرام جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ فیس بک اور ٹویٹر نے بڑے کم وقت میں لوگوں کو سماجھی طور پر ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ اس ضمن میں اگر ہم فیس بک یا ٹویٹر پہ اپنے قریب ہوئے لوگوں کی درجہ بندی کریں تو پہلے دائرے میں ہمارے قریبی دوست اور کلاس فیلوز ہوتے ہیں۔ دوسرے دائرے میں قریبی خاندان کے افراد اور پھر دوسرے رشتے دار یا اسی طرح مختلف رشتوں کی صورت میں جڑے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔ تیسرے دائرے میں ہمارے کولیگز، باس یا اساتذہ ہوتے ہیں۔

چوتھے دائرے میں وہ ان دیکھے لوگوں ہوتے ہیں جنہیں آپ کبھی نہیں ملے ہوتے۔ اور آخری یعنی پانچواں دائرہ ان احباب پہ مشتمل ہوتا ہے جن کی سوچ کے آپ بہت قریب ہوچکے ہوتے ہیں جن میں معاشرے کے لکھاری، ادیب، فنکار یا اسی طرح کی مشہور شخصیات شامل ہوتی ہیں۔ ان دائروں کو ہم سوشل میڈیا کے پانچ بڑے گروپ یا رشتے بھی کہہ سکتے ہیں۔

عموما دیکھا گیا ہے کہ جب سوشل میڈیا کا استعمال کیا جاتا ہے تو ان مختلف گروپس میں کچھ زیادہ فرق روا نہیں رکھا جاتا۔ جس کی وجہ سے ہم غیر متوازن صورت حال کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہماری صحت اور وقت پہ منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر میں اپنے کس قریبی دوست کی پوسٹ یا ٹویٹ پہ رد عمل دینا چاہتا ہوں تو متفق ہونے کی صورت میں فوری لائیک کروں گا لیکن اگر میں متفق نہیں ہوں تو پھر مجھے کیا کرنا ہے؟

تو جناب یہاں سے آپ کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ آپ پہلا کام کیجیئے کہ اسے مکمل نظر انداز کر دیجیئے۔ اگر آپ کا کمینٹ کرنا لازم ہے تو دو تین لفظوں کا جملہ لکھ دیجیئے، یعنی بہت مختصر اور کوشش کریں بحث یا الجھاؤ کی طرف نا جائیں۔ اس صورت کے برعکس اگر کوئی دوسرا فریق آپ کی پوسٹ پہ سخت کمینٹس لکھتا ہے تو اول طور پہ اسے نظر انداز کیجیئے لیکن اگر جواب لکھنا مقصود ہو تو حتی الامکان شائستہ الفاظ لکھنے کی کوشش کریں۔ سخت الفاظ میں جواب دے کر کسی سے دوری اور ناراضی مت مول لیں۔ بہ ہر حال غیر شستہ اور سخت کمینٹ سے قریبی دوست اور رشتے دار زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

آپ کی فرینڈ لسٹ میں ایسے احباب جن کو آپ جانتے تک نہیں ان کی پوسٹس میں گھسنے کی کوشش مت کریں۔ آپ ان کے مزاج اور خیالات سے واقفیت نا ہونے کے برابر رکھتے ہیں۔ انجانے میں کسی نووارد سے خواہ مخواہ کی منہ ماری آپ کا پورا ایک دن برباد کر سکتی ہے۔ یہاں ایک بات کا خاص خیال رکھیئے کہ جب آپ اپنے کسی ہم خیال یا کسی دوست سے کسی موضوع پہ بحث مباحثہ کر رہے ہوں تو اس گفتگو میں نا جاننے والے لوگوں کی بات کو اہمیت مت دیں حتی کہ وہ آپ کی حمایت ہی کیوں نا کر رہے ہوں۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ سوشل میڈیا خصوصا فیس بک پہ ایک دوسرے پر تنقید کرنا ایک فیشن سا بن گیا ہے۔ مزید برآں یہ تنقید کم اور تحقیر زیادہ ہوتی ہے۔ تنقید کرنے والے احباب کی خدمت میں عرض ہے کہ تنقید ہمیشہ نرم الفاظ کے ساتھ کیجیئے اور جہاں تک ممکن ہو سکے طنز کرنے سے گریز کیا جائے۔ اور اگر دوسری صورت میں آپ فی الوقت تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں تو ہمت کیجیئے اور دل کو سمجھائیے اور اس تنقید کو اصلاح کی صورت تصور کیجیئے۔ اس عمل سے آپ بہت سارے ڈیپریشن سے بچنے کے ساتھ ساتھ تنقید کرنے والے کو اس کی غلطی کا احساس بھی دلا دیں گے اور آئیندہ کے لئے اسے اپنا گرویدہ بھی بنا لیں گے، لیکن اس کے لئے ایک ٹھنڈے دماغ اور بڑے دل کی ضرورت ہے۔

اساتذہ، سینئیر کولیگز اور مشہور شخصیات کی پوسٹس میں بے محل مخل اندازی سے گریز کیا کریں۔ بہت مجبوری کے عالم میں اگر ادھر جانا ہو تو اپنا مدعا بیان کر کے فوری ان کی وال، پوسٹ یا ٹویٹ سے نکل جائیں۔ دیکھا گیا ہے کہ اس کیٹیگری کے زیادہ تر لوگ جب کوئی سٹیٹس اپ لوڈ کرتے ہیں یا ٹویٹ کرتے ہیں تو وہ اس بات کو اپنے تئیں درست سمجھ رہے ہوتے ہیں اگر آپ اس سے اتفاق نہیں کرتے تو وہ بحث آپ کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

ایک اور بات جو مشاہدات میں آئی ہے کہ کچھ لوگ ہر قسم کا مواد شئیر کیے رکھتے ہیں۔ اس بات کا جائزہ لیں آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ اس ضمن میں تجویز کیا جاتا ہے کہ ہر طرح کی پوسٹ شئیر کرنے کی عادت کو کم سے کم بنائیں کیونکہ بعض اوقات شئیر کیے گئے موضوع پہ آپ کی گرفت نہیں ہوتی اور اگر اس موضوع پہ آپ کی بحث کسی تیسرے دوست سے ہوجائے تو آپ کم معلومات یا اس متعلقہ ایشو پہ دسترس نا ہونے کی وجہ سے آپ کو خواہ مخواہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مندرجہ بالا بیان کی گئیں یہ صرف چند گزارشات ہیں جبکہ اس حوالے سے حفاظتی تدابیر کتابوں کی صورت میں لکھی جا سکتی ہیں۔ حفاظتی تدابیر کے لفظ سے آپ کے ذہن میں یقینی طور پہ کوئی بیماری اور اس کا علاج معالجہ ذہن میں آیا ہوگا۔ دراصل سوشل میڈیا اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ ساتھ ایک بیماری بھی بنتا چلا جا رہا ہے اور آپ ہی کی طرف سے کی گئیں چند ایک حفاظتی تدابیر اس بیماری کی روک تھام کر سکتی ہیں۔

قارئین کرام آپ منصفانہ طریقے سے اپنی سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ بعض اوقات سوشل میڈیا پہ پڑھی جانے والی چند سطریں کس طرح آپ کے ایک دن کو غارت کرتیں ہیں اور آپ کی جانب سے لکھے جانے والے کمینٹس کس طرح آپ کے دوستوں کو آپ سے دور کرتے چلے جاتے ہیں۔ آپ کی زندگی کا وقت، رشتے ناتے، دوست اور آپ کے خیالات و احساسات بہت اہم ہیں کوشش کیجیئے یہ تمام خوبصورت چیزیں سماجی رابطوں میں بے احتیاطی کی بھینٹ نا چڑھ جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •