کرسکتے ہو تو کر گزرو


آج کی تازہ خبروں کے مطابق بنگلادیش میں جماعت اسلامی کے مزید 4 اور ایک اپوزیشن رہنما کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلا دیش کی ایک خصوصی عدالت نے پاکستان کی حامی تنظیم جماعت اسلامی کے 4 رہنماؤں اور ایک اپوزیشن رہنما کو قتل، اغوا، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور زیادتی کے الزام میں سزائے موت سنادی ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے 1971 کی جنگ کے حوالے سے بنائے گئے متنازع ٹریبونل کی جانب سے جماعت اسلامی کے 6 سرکردہ رہنماؤں کو پہلے ہی پھانسی دی جاچکی ہے جبکہ جماعت اسلامی پر پاکستان کی حمایت کا الزام لگا کر پابندی بھی عائد کی جاچکی ہے۔

اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ 1971 کی جنگ اور مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی سے قبل جماعت اسلامی کسی طور یہ نہیں چاہتی تھی کہ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) سے جدا ہو جائے۔ پاکستان کیونکہ ایک نظریہ کی وجہ سے وجود میں آیا تھا جو نظریہ اسلام تھا۔ اسی نظریے کی خاطر انڈو پاک کے مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی تھیں اس لئے ہر مسلمان یہ خیال کرتا تھا کہ پاکستان کے خلاف جو بھی آواز ہے وہ ریاست کے خلاف تو ہے ہی لیکن وہ نظریہ اسلام کے خلاف بھی ہے لہٰذا ایسے وقت جب پاکستان کی نظریاتی اساس ہی کو برباد کیا جارہا ہو تو لازم ہے کہ ایسی آوازوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا جائے جس میں پاکستان کی دولختگی کا اندیشہ ہو چنانچہ پاکستان کو ایک ریاست سے بڑھ کر ایک نظریہ سمجھنے والی جماعت نے نہایت قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود بھی اس قوت کا ساتھ دینا بہتر سمجھا جو پاکستان کی حامی تھی۔

دنیا جانتی ہے کہ اس وقت پاکستان پر حکمرانی پاک افواج کی ہی تھی اور وہ پاکستان کا دفاع کرنے کا عزم لے کر مشرقی پاکستان پر لنگر انداز ہوئی تھی اور اس کی پوری کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو دولخت ہونے سے بچالیا جائے۔ جماعت اسلامی کے پاس پاک فوج کا ساتھ دینے کے علاوہ شاید کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ اس وقت مشرقی پاکستان میں اس نے پاک فوج کا دست و بازو بننا پسند کیا۔ پاک فوج کے ساتھ دینے والوں میں جماعت اسلامی کے بنگالی مسلمان تو تھے ہی لیکن ایک بہت بڑی اور واضح تعداد ان مسلمانوں کی بھی تھی جن کو عرف عام میں آج بھی پاکستانی کی بجائے ”بہاری“ کہا جاتا ہے۔ وہ تما مسلمان جن کی عرفیت بہاری کہلائی جاتی تھی وہ سب کے سب بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ پاکستان بچانے میں شریک ہوئے، ہتھیار بھی اٹھائے اور شہادتیں بھی دیں لیکن تمام تر جدوجہد کے باوجود مشرقی پاکستان کے حالات علیحدگی کی جانب مڑ گئے اور پاکستان کو دولختگی سے نہیں بچایا جاسکا۔

جماعت اسلامی ہو یا وہ کمیونٹی جو بہایوں کے نام سے پہچانی جاتی ہے، ان کا پاک فوج کا ساتھ دینا ان کے لئے آج تک عذاب بنا ہوا ہے۔ وہ تمام بہاری جو آج بھی اپنے آپ کو پاکستانی ہی سمجھتے ہیں اور بنگلہ ڈیش کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں وہ جس کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں وہ تاریخ کا ایک بھیانک ترین باب ہے اور وہ افراد جو جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے وہ اپنے ہی ملک میں نہ صرف غدار تصور کیے جارہے ہیں بلکہ ان پر مقدمات چلا کر سولی پر بھی لٹکایا جارہا ہے۔ جرم بہاریوں اور بنگالیوں کا ایک ہی ہے، وہ ہے پاکستان کی حمایت اور اپنے مؤقف پر مسلسل ڈٹے رہنا۔

یہاں کچھ غور طلب امور بھی ہیں۔ بہاریوں اور جماعت کے حامیوں کا اس دور میں پاکستان کی حمایت میں کھڑا ہوجانا ایک الگ بات تھی لیکن کسی قوم کے خلاف مسلسل امتیازی سلوک روا رکھنا دوسری بات تھی۔ پاکستان، جو کہ اسلام کا نام لے کر بنایا گیا تھا، اس ناتے اس کی مخالفت کرنے والوں سے لاتعلقی کا اظہار اور اس کی مخالفت میں کھڑا ہوجانا ایک الگ بات تھی لیکن کسی طاقت کو سہارا بنانا ایک الگ بات تھی۔ یہ سارے پہلو وہ تھے جن پر بہت دیانتداری کے ساتھ غور کرنا ضروری تھا لیکن ان امور پر شاید گہرائی سے نہیں سوچا گیا بلکہ (میرے خیال کے مطابق) جذباتی فیصلے کیے گئے۔

پاکستان 1947 میں اسلام نام پر ہی بنایا گیا تھا لیکن کیا 1971 تک کوئی ایک دن بھی ایسا ہے جو اللہ کے نظام کے تحت گزرا ہو؟ 1971 کو تو بھول جائیں کیا آج تک ( 2019 ) کوئی ایک دن بھی اس نظام کے تحت گزارا گیا ہے؟ جب پاکستان میں ایک دن کے لئے بھی اس نظام کو نافذ نہیں کیا گیا تھا تو کوئی ایسی آواز جو پاکستان کے خلاف اٹھ بھی رہی تھی تو وہ اتنا جذباتی مسئلہ کیوں بنا دی گئی۔ اس سے ہٹ کر یہ بات بھی بہت سنجیدگی کے ساتھ سوچنی چاہیے تھی کہ الیکشن کے نتیجے میں شیخ مجیب کی پارٹی عوامی لیگ بہت واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

اس لحاظ سے بہر صورت اقتدار فوری طور پر اس کے حوالے کردینا چاہیے تھا۔ جب واضح طور پر یہ بات اظہرمن الشمس تھی کہ اس میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے تو اس نا انصافی کے خلاف عوامی لیگ کے ہم آواز بننے کی بجائے مخالفت کا کیا جواز تھا؟ رہی یہ بات کہ عوامی لیگ کا ساتھ دینے میں پاکستان ٹوٹ جانے کا خدشہ تھا تو پاکستان تو پھر بھی نہ بچ سکا۔

پاکستان ٹوٹ گیا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ ڈیش بن گیا اور پوری دنیا نے اسے تسلیم بھی کر لیا تو اس کے بعد ہر گروپ کو اس حقیقت کو قبول کر لینا چاہیے تھا بالکل ایسے ہی جیسے پاکستان بننے سے پہلے بر صغیر انڈ و پاک کی بیشمار جماعتیں پاکستان بننے کی مخالف تھیں لیکن پاکستان بن جانے کے بعد ان سب نے پاکستان کی حقیقت کو تسلیم کر لیا تھا اور آج تک وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہیں۔

ایک پہلو یہ بھی غور طلب ہے کہ جماعت اسلامی جس کی بنیاد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (رح) نے مشترکہ ہندوستان میں رکھی تھی وہ پاکستان اور پھر بنگلہ ڈیش بن جانے کی وجہ سے تین حصوں میں تقسیم ہوئی لیکن ان کے جد وہی ہیں اور تحریک کا مقصد بھی ایک ہی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو کیا جماعت اسلامی ہند اور جماعت اسلامی پاکستان بنگلہ ڈیش میں ڈھائے جانے والے اس ظلم کے خلاف کوئی مؤثر آواز اٹھانے میں کیوں ناکام ہے؟

ان سب سے بڑھ کر وہ قوت جس کا ساتھ دینے کے جرم پر آج بھی لاکھوں بہاری اور سیکڑوں جماعت اسلامی کے کارکنان سزائیں بھگت رہے ہیں وہ اپنے منھ میں الفی ڈالے کیوں بیٹھے ہیں۔ وہ حکومت وقت پر اس بات کا زور کیوں نہیں دیتی کہ حکومت پاکستان مشرقی پاکستان کے بہاریوں اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم پر دنیا کے ہر فورم پر آواز اٹھائے اور بنگلہ ڈیش کو اس کے مذموم مقاصد سے باز رکھے۔ جب تک ان تمام امور کا از سر نو جائزہ نہیں لیا جائے گا اور جب تک جماعت اسلامی ہند اور جماعت اسلامی پاکستان جراتوں کا مظاہرہ نہیں کریں گی اس وقت تک اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ بنگلہ ڈیش کی حکومت اپنی ظالمانہ کارروائیوں سے باز آجائے گی ایک فریب کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

اس وقت تک یہ کہنا بھی کہ یہ نام نہاد ٹریبونل عالمی قوانین سے متصادم ہے جس میں شفافیت کو برقرار نہیں رکھا گیا اور اب تک سنائے گئے فیصلوں میں ملزمان کو دفاع کا مکمل موقع فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی ٹھوس شواہد پیش کیے گئے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹریبونل آئینی ادارہ نہیں بلکہ سیاسی مخالفین کو کچلنے کا ذریعہ ہے، بالکل بے اثر اور فضول ہی ہوگا۔ کچھ کرنا ہے تو کر گزرنا ہوگا ورنہ بہتر ہے کہ ایک طاقتور ادارے کی پیروی کرتے ہوئے جماعت اسلامی کو بھی الفی کا ہی سہارا لینا زیادہ مناسب ہوگا۔

Facebook Comments HS