جھونپڑیوں میں بسنے والا دل آج بھی بھٹو کے لئے دھڑکتا ہے


پاکستان پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت پر کرپشن، عوامی مسائل پر عدم توجہ اور بیڈ گورنس کے الزامات لگائے جاتے ہیں، لیکن سندھ کے عوام بھٹو خاندان سے لازوال محبت کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ کراچی سے لاڑکانو تک سفر کیا اور یہ سفر مکمل کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ لاڑکانو کا بھٹو خاندان آج بھی جھونپڑیوں میں بستے غریب عوام کے دل میں زندہ ہے، اس ٹرین مارچ کا مقصد عوامی مسائل، سندھ میں پانی کی کمی، سندھ کے وسائل پر قبضہ یا جمہوریت کی بحالی نہیں تھا، پر اس سفر میں بلاول بھٹو زرداری کا جس طرح استقبال ہوا، اس استقبال نے پیپلز پارٹی میں نئی روح پھونک دی ہے۔

جس طرح نیب کی کارروائیاں جاری ہیں اور جس طرح بلاول بھٹو زرداری سخت اور جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں اور سندھ اسمبلی میں ہونے والی پریس کانفرنس میں لانگ مارچ کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ میں لانگ مارچ کروں گا، ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اس مارچ کے حق میں نہیں تھی لیکن بلاول بھٹو زرداری نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ٹرین مارچ ضرور ہوگا، اس سے ثابت ہوا کہ بلاول بھٹو زرداری پارٹی کے فیصلے خود کرنے لگے ہیں، بلاول بھٹو زرداری پر تنقید ہوتی رہی ہے کہ وہ خود فیصلے نہیں کرتا اور اسے جو تقریر لکھ کر دی جاتی ہے وہ کرتے ہیں، لیکن دو گھنٹے ان کی ٹرین کی بوگی میں گزارنے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ نہ صرف وہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے بلکہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد بھی کرواتا ہے، پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کرتا ہے لیکن فیصلہ سازی میں اپنی منواتا ہے، میں نے سوال کیا کہ کب تک آپ سندھی سیکھیں گے؟ میرے اس سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا آپ نے دیکھا ہے کہ پہلے مجھے اردو نہیں آتی تھی، اردو سیکھ لی ہے اور اب میں سندھی بھی سیکھ رہا ہوں۔

بلاول بھٹو زرداری مسلسل جاگ رہا تھا، میں نے اس سے پہلے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ الیکشن کے وقت بھی سفر کیا تھا، کراچی سے اباڑو تک مسلسل پانچ دن سفر کیا تھا، آج کا بلاول بھٹو زرداری الیکشن والے بلاول بھٹو زرداری سے بالکل مختلف تھا، نہ صرف بلاول بھٹو زرداری بلکہ اُن کے ہونے والے استقبال بھی بالکل مختلف نظر آرہے تھے، الیکشن کے وقت نظر آرہا تھا کہ لوگ لائے گئے تھے لیکن اس بار نظر آرہا تھا کہ لوگ خود آئے تھے اور ان کی تعداد بھی زیادہ تھی، ان کا بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ محبت کا اظہار بھی پہلے سے زیادہ تھا۔

میں نے جہاں جنگ شاہی اسٹیشن پر پانی کے لئے روتی ہوئی خواتین کو جیئے بلاول، جیئے بلاول کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا وہیں حسین آباد اور حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر ننگے پاؤں خواتین اور بچوں کو ریلوے ٹریک کے دونوں اطراف دوڑتے دیکھا، ان کے پاؤں ننگے تھے اور ٹریک پر پڑے پتھروں کی پرواہ کیے بغیر دیوانہ وار دوڑ رہے تھے، ریلوے اسٹیشن پر رش کے باعث کئی بچے اور خواتین نیم بیہوش ہوتے دیکھے لیکن وہ بلاول بھٹو زرداری کو دیکھے بغیر واپس نہیں جانا چاہتے تھے۔

جب بلاول بھٹو زرداری کی ٹرین پلیجانی ریلوے اسٹیشن پر دوسری ٹرین کو راستہ دینے کے لئے رکی تو نزدیک والے گاؤں کے بچے بوڑھے اور خواتین ننگے پاؤں دوڑتے آرہے تھے، دور دور تک ٹرین کے پیچھے آتے دیکھ کر ساتھی صحافی نے پوچھا حالانکہ ان عورتوں اور بچوں کے پیر ننگے ہیں اور سندھ میں گزشتہ 11 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، ان بچوں اور خواتین کے پاؤں میں چپل نہیں ہے لیکن آدھی رات کو یہ بچے اور خواتین بلاول بھٹو زرداری کو دیکھنے کے لئے اتنے بیچین کیوں ہیں؟

حسین آباد سے حیدرآباد اسٹیشن تک بلاول بھٹو زرداری کی ٹرین کے پیچھے دوڑتے خواتین اور بچوں کی اکثریت ننگے پاؤں تھے، وہ ریلوے ٹریک پر پتھروں کی پرواہ کیے بغیر دوڑتے جارہے تھے، پلیجانی، اڈیرو لال، ٹنڈو آدم پر شاندار استقبال ہوا، پر نوابشاہ میں رات کے دو بج گئے تھے اس کے باوجود خواتین اور بچوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی، اسی طرح محراب پور سے خیرپور اور پھر روہڑی تک بزرگ مرد، خواتین اور بچوں کی بہت بڑی تعداد بلاول بھٹو زرداری کے استقبال اور بلاول بھٹو زرداری کی ایک جھلک دیکھنے کو موجود تھے، میں پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کا بہت بڑا نقاد رہا ہوں، میں نے الیکشن مہم کے دوران جو کالم لکھے اس پر پیپلز پارٹی ک قائدین مجھ پر کافی نالاں بھی دکھائی دیے، لیکن اس بار اس مارچ کو اگر کامیاب ترین مارچ نہ کہنا پیشے سے بددیانتی ہوگی، خاص طور پر خواتین اور نوجوان بہت بڑی تعداد میں بلاول بھٹو زرداری کے استقبال کے لئے نکلے یہ پیپلزپارٹی کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

پڈیدن ریلوے اسٹیشن پر بلاول بھٹو زرداری نے مجھ پوچھا ”کیسا محسوس ہورہا ہے“؟ میں نے کہا آپ کے الیکشن قافلے سے یہ ٹرین مارچ دس گنا بڑا ہے، عوام کی طرف سے زیادہ مثبت پذیرائی ملی ہے، میرے یہ کمینٹس سن کر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کو بلایا اور مجھے کہا اپنے کمینٹس دہرائیں، میں نے محسوس کیا بلاول بھٹو زرداری زیادہ پرجوش اور خوش نظر آرہے تھے، وزیراعلیٰ سندھ نے بھی میری اس بات کی تائید کی، میں نے کراچی سے لاڑکانو تک کے سفر میں دیکھا ہر دوسرے گھر میں سے خواتین کو بلاول بھٹو زرداری کا استقبال کرتے دیکھا اور ہاتھ ہلاتے دیکھا، گاؤں کی خواتین نے بھی ہجوم کا خیال نہیں کیا بلکہ بلاول بھٹو زرداری کے دیکھتے ہوئے پیپلزپارٹی کے ترانوں پر رقص کرنا شروع کردیا۔

اس پورے ٹرین مارچ کے دوران میں نے محسوس کیا کہ سندھ کا عوام بھٹو خاندان سے لازوال محبت کرتا ہے، سندھ کے عوام کے دلوں سے بھٹو خاندان کی محبت کو نہیں نکالا جاسکا ہے، استقبال کے لئے آیا یہ تیسرا نسل تھا جو بھٹو خاندان کے تیسرے نسل کے استقبال کے لئے موجود تھا۔

اب بلاول بھٹو زرداری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سندھ میں طرز حکمرانی کو بہتر بنائیں، پیپلز پارٹی سندھ میں 11 سال سے حکومت میں ہے، کسی بھی حکومت کو اپنی طرز حکمرانی بہتر بنانے اور۔ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لئے اتنا وقت کافی ہوتا ہے، اگر سندھ حکومت کے وزراء اپنی کی کارکردگی بہتر بناتے تو سندھ کے عوام جو بلاول بھٹو زرداری کے استقبال آئے تھے کے آنکھوں میں آنسو نہ ہوتے، ان کے پاؤں میں چپل ہوتی، جتنی سندھ کے لوگ بھٹو خاندان سے بے لوث محبت کرتے ہیں، سندھ حکومت کو بدلے میں ان کی صحت تعلیم روزگار کے لئے بھی اتنی ہی محنت کرنا ہوگی۔

(یہ کالم سینئر صحافی دودو چانڈیو نے سندھی زبان میں تحریر کیا ہے جو روزنامہ پنھنجی اخبار میں شائع ہوچکا ہے )

Facebook Comments HS

رب نواز بلوچ

رب نواز بلوچ سماجی کارکن اور سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں، عوامی مسائل کو مسلسل اٹھاتے رہتے ہیں، پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔ ٹویٹر پر @RabnBaloch اور فیس بک پر www.facebook/RabDino اور واٹس ایپ نمبر 03006316499 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

rab-nawaz-baloch has 30 posts and counting.See all posts by rab-nawaz-baloch