سوچ کے زاویے
ہم آج اس جدید دور سے گزر رہے ہیں ویسے ہی ہماری سوچ بھی اس دور سے گزر کے جدت پسند ہو گئی ہے۔ہر انسان دوسرے انسان کو اپنی سوچ کے مطابق دیکھنا چاہتا جو کہ نا ممکن ہے اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک خود کو پرفیکٹ سمجھتا ہے اور دوسرے میں موجود خوبیوں کو چھوڑ کے بس خامیاں تلاشتا ہے اور پھر ان کو خامیوں کو اپنے نظریے اور سوچ کے مطابق بدلنا چاہتا کہ دوسرا انسان میری سوچ کے مطابق بن جائے۔
” جبکہ ہر انسان کا سوچ کا زاویہ مختلف ہے تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا“
اس کے پیچھے ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے پرفیکٹ انسان ہونے کے خود کے ہی اصول بنائے ہوے ہیں اور ان اصولوں پہ اگر کہیں کوئی چلتا نظر آ جائے تو ہم اسے اچھا تصور کرتے ہیں اور اگر کوئی ہمارے ان اصولوں پہ نا چلے تو خواہ وہ انسان کتنا ہی اچھا کیوں نا ہو لیکن ہماری نظر میں وہ برا ہی ہوتا ہے
اور تو اور کچھ اس طرح کے لوگ بھی ہیں جو کہ ایک کام دوسروں کو کرتا دیکھ لیں تو فوراً وہ مفسر مفکر بن جاتے اور ان پہ فتوے لگانا شروع کر دیتے پر جب وہی کام یہ لوگ کریں تو خود کو مطمئن کرنے کے لئے اور پارسا ثابت کرنے کے لئے اس کام کو جائز قرار دے دیتے یا یہ کہہ کر ٹال مٹول سے کام لیتے کہ ہم تو بس انٹرٹینمنٹ کر رہے تھے۔
اصل میں ہر انسان کی سوچ خیالات دوسرے انسان سے مختلف ہوتے اور اگر مل بھی جائیں تو ان میں کہیں نہ کہیں تضاد ضرور ہوتا۔
آپ خود اپنی مثال لے لیں آپ کسی کو کوئی کام کرتا دیکھ لیں خواہ وہ اچھا ہو یا برا آپ ضرور اس کے بارے میں سوچتے اور خاص رائے رکھتے ہیں یہ ایک قدرتی امر ہے کہ جو چیز ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی ہوتی ہمارے دماغ میں اس کے حوالے سے مختلف خیالات جنم لے رہے ہوتے اور اسی طرح سے ہم اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنا شروع کر دیتے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی سوچ بدلنا ہو گی اس سوچ کو مثبت کرنا ہو گا اور جب تک ہم خود میں موجود خامیاں اور دوسروں میں موجود خوبیاں نہیں دیکھ پاتے تب تک ہم ایک پرفیکٹ انسان بن ہی نہیں سکتے اور تب تک یونہی ہماری سوچوں میں خیالات میں اور نظریات میں تضاد رہے گا اور یونہی ہم ایک دوسرے کو اچھے یا برے ہونے کا خطاب دیتے رہیں گے۔


