کرتار پور کے بعد شاردا مندر راہ داری مطالبہ
گزشتہ سال نومبر میں حکومت پاکستان کی طرف سے جذبہ خیر سگالی کے تحت سکھوں کی سب سے بڑی عقیدت گاہ گوردوارہ کرتارپور صاحب راہداری کھولنے کے اقدام کو پوری دنیا نے سراہا۔ خیرسگالی کے اس اقدام کے بعد بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو ویزے کے بغیر کرتارپور گردوارے میں رسومات ادا کرنے کی سہولت میسر ہوگی۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت میں بسنے والے لاکھوں سکھوں کو ویزے کے انتظار، سیکیورٹی اور اسکروٹنی کے بعد واہگہ کے راستے سفر اور بھاری بھر کم اخراجات کے بعد گردوارہ کا درشن نصیب ہوا کرتا ہے۔
کرتار پور راہداری کے بعد بھارت میں سرگرم کشمیری پنڈتوں کی سب سے بڑی تنظیم ”پنڈت پریم ناتھ بٹ میموریل“ اور دلی میں متحرک گروپ ”سیو شاردا پیٹھ کمیونٹی“ نے آزاد کشمیر میں واقع ہندووں کے سب سے قدیم مندر شاردا تک ہندووں کی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آزاد کشمیر کے صدر مقام مظفر آباد سمیت نیلم اور میرپور میں ہندووں اور سکھوں کے کئی مذہبی مقامات موجود ہیں جو 1947 کے بعد مسلسل بند رہنے کی وجہ سے خستہ حالی کے شکار ہیں۔
گو کہ شاردا مندر راہداری بارے بھارت او پاکستان کے بیچ کوئی ٹھوس بات چیت کا عندیہ نہیں ملا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت کی طرف سے حکومت پاکستان کو شاردا مندر راہداری کھولنے کی باضابطہ تجویز بھیجی جا چکی ہے۔ شاردا مندر آزاد کشمیر کے خوبصورت تفریحی مقام نیلم ویلی میں واقع ہے۔ یہ مندر ہندووں کا قدیم ترین مندر ہے جو علم و دانش کی دیوی شاردا سے منسوب ہے۔ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے شمال میں قریباً 136 کلومیٹر کی دوری پر ہندو مت، بدھ مت، اور شیو مت کی مقدس ترین جگہ شاردا صدیوں سے اباد ہے۔
یہ خوبصورت وادی قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ سیاح جب مطفرآباد سے ہوتے ہوئے دریائے نیلم کے ساتھ سفر طے کر کے شاردا وادی پہنچتے ہیں تو شاردا وادی کی خوبصورتی اور دلکش نظاروں کے سحر میں کھو جاتے ہیں۔ ہندو دھرم کی مقدس عمارت شاردا وادی کے وسط میں واقع ہے جہاں تین مقدس ندیاں کشن گنگا ”دریائے نیلم“ سرسوتی ”سرگن نالہ“ اور مدھومتی ”شاردا نالہ“ آپس میں بغلگیر ہوتے ہیں۔
دنیا کی کوئی بھی تہذیب اٹھا کر دیکھ لی جائے تو ہر تہذیب کے ارتقاء میں ہمیں آب وہوا اور علاقائی ساخت جیسی چیزوں کا کلیدی کردار نظر آتا ہے۔ صدیوں کے تغیر و تبدیلیوں کے نتیجے میں تہذیبیں جنم لیتی ہیں۔ تاریخی اعتبار سے 3058 قبل مسیح وسطی ایشیا میں آنے والے سرسوات برہمن جو علم و عمل سے مکمل آشنا اور مہذب لوگ تھے اس خطے میں آکر آباد ہوئے۔ مورخین کے مطابق شاردا دیوی کا تعلق بھی انہی قبائل سے تھا جن کے نام پر شاردا گاؤں آج بھی زمانہ قدیم کے اُجڑے کھنڈر لئے موجود ہے۔
شاردا دیوی کو علم و حکمت کی دیوی سمجھ کر لوگ صدیوں پوجتے رہے۔ آج بھی ہندوستان، نیپال، سری لنکا سمیت متعدد ممالک میں شاردا دیوی کے پیروکار موجود ہیں۔ شاردا مندر کو ہندو دھرم میں اتنا متبرک مقام حاصل ہے کہ جنوبی ہند کے باشندے صبح اشنان (غسل) کرنے کے بعد شاردا مندر کی طرف منہ کرکے شاردا دیوی کی مالا جپتے ہیں۔ شاردا وادی میں قدیم تعمیرات کو دیکھ کر لوگ آج بھی حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔ مورخین کے مطابق دنیا بھر سے علم، گیان اور روحانیت کے حصول کے لئے لوگ شاردا آتے تھے۔ کشان سلطنت بادشاہ ’کنشک اول ”78 عیسوی کے دور میں شاردا ایشیا کی سب سے اہم ترین درسگاہ کہلاتی تھی۔ یہاں بدھ مت کی تعلیم کے ساتھ منطق، فلسفہ، جغرافیہ، تاریخ، معاشرت، روحانیت کی دیوناگری رسم الخط کے ذریعے تعلیم دی جاتی تھی۔
شاردا میں شاردا دیوی کا مندر آج بھی دیو قامت چٹانوں کے کھنڈر کی صورت موجود ہے۔ آزاد کشمیر میں برسر اقتدار گزشتہ حکومتیں اور محکمہ آثار قدیمہ نہ تو شاردہ کی باقیات سے تاریخ کا تعین کرسکا اور نہ ہی وہاں سے دریافت ہونے والے نوادرات سمبھال سکا جن سے ماضی کی تہذیبوں اور مذاہب کے بارے میں آگاہی ممکن تھی اور یہ جاننا انتہائی آسان تھا کہ ماضی کی ان تہذیبوں سے آج وابستہ تہذیبیں اور افراد کہاں کہاں آباد ہیں۔
بھارت سے آخری بار 1947 میں سوامی نند لال جی اپنے ایک وفد کے ہمراہ شاردا مندر کا دورہ کرچکے ہیں۔ 1300 سال پرانی ہندووں کی مقدس جگہ شاردا دیوی مندر پر ستر سال سے کوئی بھارتی شہری یا پنڈت نہیں آسکا۔ کیونکہ کشمیر کے دونوں اطراف کا یہ علاقہ اب فوجی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں لائن آف کنٹرول واقع ہے۔ حساس علاقہ قرار دیے جانے کے بعد یہاں غیرملکی سیاحوں کو این او سی لینا پڑتی ہے۔ کرتارپور راہداری کھولے جانے کے بعد کشمیری پنڈتوں میں یہ امید جاگی ہے کہ سکھوں کی طرح کشمیری پنڈتوں کو بھی شاردا رمندر اہداری کا موقع شاید میسر آئے۔ اس سلسلے میں آزاد کشمیر میں برسراقتدار موجودہ حکومت نے شاردا مندر سمیت اقلیتوں کی دیگر عبادت گاہوں کی بحالی کا کام شروع کیا ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں خصوصاً ہندووں کی قدیم عبادت گاہ شاردا مندر کی تعمیر و بھالی کے باضابطہ احکامات جاری کیے ہیں۔
تحریک انصاف حکومت کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی اور ’پاکستان ہندو کونسل ”کے سربراہ ڈاکٹر رمیش کمار نے ایک بین الاقوامی جریدے کو انترویو کے دوران بتایا کہ پاکستان نے شاردا مندرکی بحالی اور راہداری کھولنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے اور وہ وزیر اعظم پاکستان کی ہدایات پر بہت جلد نیلم ویلی میں واقع شاردا وادی کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے اپنے انترویو میں مزید گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عنقریب شاردا مندر بارے کوئی اہم پیش رفت ہوسکتی ہے کیونکہ پاکستانی ہندو بھی شاردا دیوی مندر جانے کی خواہش رکھتے ہیں رواں سال ہی یہاں بحالی کا کام شروع کروادیا جائے گا۔






