لوک سبھا الیکشن : مسلمانوں کے لیے آزمائش کی گھڑی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لمحہ بہ لمحہ بدلتے سیاسی منظر نامے اور اور بنتے بگڑتے سیاسی محاذ نے جہاں ایک طرف ملک کے سیکولر اور امن پسند طبقے کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے وہیں بڑے بڑے صحافی اور ماہر تجزیہ نگار بھی اب تک اس بات کا صحیح اندازہ لگا پانے سے قاصر ہیں کہ 2019 کے انتخابات کے نتیجے میں لوک سبھا کی شکل کیا ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2019 کا الیکشن گزشتہ تمام انتخابات سے مختلف یوں ہے کہ یہ کسی سیاسی جماعت کی اقتدار سے بے دخلی اور کسی جماعت کی حکومت سازی کا معاملہ محض نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کے آئین، جمہوری اقدار اور تکثیریت کی بقا اور اس کے تحفظ کی جنگ ہے۔

ہمیں اگران فسطائی اورآئین مخالف قوتوں کے بڑھتے قدموں کو لگام دینا ہے تو سنجیدگی، حکمت اور تدبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ عددی اعتبار سے ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت ہونے کے ناطے ہم ایک ایسی مضبوط حیثیت میں ہیں کہ اگر ہم نے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا تو ہم جہاں ایک طرف فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دے سکتے ہیں وہیں اُن نمائندوں کوبھی ایوان میں بھیجنے میں کامیا ب ہوسکتے ہیں جو حق کی آواز بن کر ایوان سے سڑک تک مظلوم اور کمزور مسلمانوں کی انصاف کی لڑائی لڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

2014 کے عام الیکشن کے نتائج کا منصفانہ تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ تمام حکومت مخالف لہر اور فرقہ پرستو ں کی نفرت کی سیاست کے باوجوداگر این ڈی اے مخالف جماعتوں میں انتشار کے نتیجے میں سیکولر ہندو ووٹ بالعموم اور مسلم ووٹ بالخصوص، مختلف پارٹیوں میں تقسیم نہ ہوئے ہوتے توبی جے پی کا اقتدار میں آنا بہت مشکل تھا۔ اپنے سابقہ تجربات سے حوصلہ پاکر بی جے پی اس بارکے الیکشن میں بھی سیکولر ووٹوں کے تقسیم ہونے کی آس لگائے بیٹھی ہے۔

اُتر پردیش میں ایس پی۔ بی۔ ایس پی اور آرایل ڈی کے مضبوط اتحاد کے باوجود کانگریس کا اُتر پردیش کی تمام نشستوں سے علیحدہ الیکشن لڑنا بی جے پی کے لیے نعمت ِ غیر مترقبہ ثابت ہوسکتی ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ مسلم اکثریت یا قابل اثر مسلم آبادی والے مغربی اُتر پردیش کی پارلیمانی نشستوں پر منڈلانے لگا ہے جہاں ایک سے زیادہ مسلمان اُمید وار بی جے پی کے تنہا غیر مسلم اُمیدوار کے مدمقابل ہیں۔ قابل تشویش بات یہ ہے کہ اُتر پردیش میں سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی کا ایک ایسا مسلم کیڈر تیار ہوچکا ہے جو حالات کے مطابق ٹیکٹیکل ووٹنگ کے بجائے ہر حال میں اپنی پارٹی کے اُمیدوار کو ووٹ ڈالنے کو ترجیح دیتا ہے، خوا ہ اس اُمیدوار کی کامیابی کے امکانات کتنے ہی معدوم کیوں نہ ہوں۔

جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمیں کسی پارٹی کا کیڈر یا ووٹ بینک ہونے کے بجائے حکمت عملی کے تحت بی جے پی اور اس کے اتحادی جماعتوں کے امیدواروں کے خلاف سب سے مضبوط اُمیدوار کو متحد ہوکر ووٹ ڈالنا چاہیے اور اس میں ہندو مسلم کی تفریق بالکل نہیں کی جانی چاہیے۔ اُتر پردیش میں اگر سماج وادی یا بہوجن سماج پارٹی کے کوئی نا اہل اور کمزور مسلم اُمیدوار کے مقابلے اگر کانگریس کا کوئی سیکولراورمضبوط غیر مسلم اُمیدوار بھی میدان میں ہے تو ہمیں اُسے ایک طرفہ حمایت سے کامیا ب بنانا چاہیے۔ ہمارا فارمولہ حلقہ specific ہونا چاہیے اور ہر پارلیمانی نشست کے مخصوص حالات کے پیش نظر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کرحکمت عملی تیار کی جانی چاہیے نہ کہ یک طرفہ کسی مخصوص پارٹی کے پلڑے میں اپنا سارا وزن ڈال دینا چاہیے۔

اُترپردیش کے مقابل بہار کی صورتحال نسبتاً مختلف ہے۔ یہاں کی 40 نشستوں میں کم وبیش تمام نشستوں پر سیدھا مقابلہ این ڈے بنام عظیم اتحاد کے ہونے کے آثار ہیں، جس میں مسلم ووٹوں کی تقسیم کا خدشہ تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ لیکن بعض اہم نشستیں ایسی بھی ہیں جس پر پورے ملک کی نظر ہے اور یہاں مسلمان ووٹروں کو آزمائش سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ ایسا ہی ایک پارلیمانی حلقہ بیگوسرائے بھی ہے جہاں سے نوجوان سوشلسٹ لیڈر کنہیا کمار سی پی آئی کے اُمیدوار ہیں جن کا مقابلہ بی جے کے متنازعہ اورشدت پسند اُمیدوار گری راج سنگھ سے ہے۔

توقع اس بات کی تھی کہ بی جے پی کے بدنام زمانہ وزیر اور صبح شام مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے گری راج سنگھ کے خلاف کنہیا کمار کو اپوزیشن کا مشترکہ اُمیدوار بنایا جاتا اور گری راج سنگھ کو بھاری ووٹوں سے شکست دے کر نشان ِ عبرت بنا دیا جاتا لیکن خود غرض اور موقع پرست سیاست نے ایسا نہ ہونے دیا اور آر جے ڈی نے ایک مسلم اُمیدوار کے نام کا اعلان کر گری راج سنگھ کے خلاف اپوزیشن کا ایک مضبوط مشترکہ اُمیدوار کھڑا کرنے کے منصوبے پر پانی پھیر دیا جس سے سیکولر اور مسلم ووٹوں کی تقسیم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

بیگوسرائے میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب اتنا تو نہیں کہ کوئی مسلم اُمیدوار محض مسلم ووٹوں کی بنیاد پر جیت کی توقع کرے لیکن اتنا ضرور ہے کہ 14 فیصد کا ایک مضبوط ووٹ بینک جو تقریباً ڈھائی لاکھ ووٹوں پر مشتمل ہے کسی بھی اُمیدوار کی ہار جیت میں فیصلہ کُن رول ادا کرسکتاہے۔ اگرچہ بیگوسرائے کے مسلمان ووٹروں کے درمیان کنہیا کمار کی زبردست مقبولیت ہے اور اُمید ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد اُن کی حمایت میں اپنی رائے دہی کا استعمال کرے گی۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2