اودھ کا بادشاہ ناصر الدین حیدر شاہ درد زہ میں مبتلا ہو کر بچے کو جنم دیا کرتا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ میں جہاں بر صغیر پاک وہند کے بادشاہوں کے عیش وعشرت کی داستانیں زبان زد عام ہیں وہاں لکھنو کے حکمران ناصر الدین حیدر شاہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے، یہ بادشاہ عیش عشرت اور رنگ رلیوں میں اس قدر آگے نکل چکا تھا کہ اکثر زنانہ لباس زیب تن کیا کرتا تھا اور جنسی کجروی میں اس قدر مبتلا تھا کہ خود بچہ جنا کرتا تھا ۔

1803 میں پیدا ہونے والے ناصر الدین حیدر شاہ اودھ کے دوسرے بادشاہ تھے جن کا دور حکومت 19 اکتوبر 1827ء سے 7 جولائی 1837ء تک رہا

اردو ادب کے نامور محقق و نقاد پروفیسر ڈاکٹر سلیم اختر نے اپنی کتاب اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ میں یہ واقعہ کچھ اس طرح درج کیا ہے کہ لکھنو کا حکمران ناصر الدین حیدر شاہ زنانہ لباس پہن کر درد زہ میں مبتلا ہوکر بچے کوجنم دیا کرتا تھا۔ اس موقع پر اس کے پہلو میں بچے کے طور پر ایک مرصع گڑیا لٹا دی جاتی تھی اور وضع حمل کے بعد وہ زچہ کی مخصوص غذائیں چوہانی وغیرہ بھی کھایا کرتا تھا۔ اس کے بعد ایام زچگی کے تمام غسل کرتا اور زنانہ پوشاک پہن کر زچہ خانہ سے باہر آتا، اس موقع پر بچے کی منہ دکھائی ہوتی اور نذریں بھی پیش کی جاتی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •