چل کرونا کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین سے نکلی اور یہاں تک پہنچی۔ ایک ننّھے منّے، آنکھ سے نظر نہ آنے والے وائرس کے ذریعے پھیلتی ہوئی اس ہلاکت خیز بیماری کا ساری دنیا میں غلغلہ ہے اور لوگ اس سے پناہ مانگ رہے ہیں__ ایک نہ ایک دن اسے کراچی پہنچنا تھا۔ سو اب یہ ہوگیا ہے اور شہر ایک نئی بیماری کے اندیشے میں صبح کرتا ہے۔ پھر رات تک سہمتا رہتا ہے کہ دیکھیے، اس سے آگے جانے کیا ہو۔

چین میں جو ہورہا ہے، سو ہورہا ہے۔ کراچی پہنچ کر یہ بیماری کراچی کے رنگ ڈھنگ اختیار کرلیتی ہے، اس کی کہانی کراچی بن جاتی ہے۔ اس میں سارے عناصر جانے پہچانے ہیں__ دہشت، سنسنی، ایک خوف ناک مخصوص مزاح__ جیسے مُردے کی کھوپڑی میں گوشت اور کھال سے عاری دانت ہمہ وقت طاری مسکراہٹ میں بھنچے نظر آتے ہیں۔

اخباروں میں اس بیماری کے پھیلنے اور سوشل میڈیا پر اس کا تذکرہ وائرل ہو جانے کے ساتھ ہی کراچی کی دیواروں پر لکھا نظر آنے لگا__ بابا اسد بنگالی، کرونا بخار کا شرطیہ علاج۔ پھر کسی ستم ظریف نے اس کی تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر ڈال دی کہ جس نے نوشتۂ دیوار نہ پڑھا ہو، اس کو دیکھ لے۔

جوں جوں دُنیا میں اس بیماری کے پھیلنے کی خبر پھیلی، ہمارے ہاں اس میں لطیفے، چُہل، جگت اور فقرے بازی کو فروغ ملا۔ میں اس مختصر ویڈیو کا ذکر اس سے زیادہ نہیں کروں گا جس میں خوش شکل نوجوان مُنھ بچکا کر اٹھلانے کی نقل کررہا ہے__ اور کرونا، بس کرونا، نہ کرونا!

ایسی باتوں سے نہ وائرس نے بس کیا نہ کراچی نے۔ لطیفوں کی کاٹیج انڈسٹری میں تیزی آگئی۔ ہر لحظہ نئی آن نئی شان۔ سوقیانہ مذاق کی نئی سطح۔

پھر اس میں ایک نیا رنگ شامل ہونے لگا۔ تشویش بڑھی ہوگی، اس لیے اپروچ بدلنے لگی۔ کسی نے کہا، یہ چین میں لوگ جانے کیا الابلا کھا جاتے ہیں، یہ اس کا نتیجہ ہے۔ خدا نے جس مخلوق کو حرام قرار دیا ہے، اس کے کھانے کی سزا ملی ہے۔ چھپکلی، سانپ اور مینڈک تو ہم سمجھتے ہیں کہ سارے چینیوں کا من بھاتا کھانا ہیں۔ کتّے بلّی چٹ کر جانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ چند لوگوں نے اس خاص مخلوق کو پہچان کر نام بھی بتا دیا__ چمگادڑ کا شوربہ اس بیماری کے فروغ کا ذریعہ بنا ہے۔ پھر بات کو اس رُخ پر بڑھنا تھا۔ کوئی سیانا آدمی دور کی کوڑی لایا__ چینی حکومت نے مسلمانوں پر ظلم کیا ہے، اسی کی سزا ملی ہے اور یہ دراصل عذاب الٰہی ہے۔

ایسی باتیں سبھی کے دل کو لگتی ہیں اور ہم اس پر یقین کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے کے یقین کامل ہوتا اور ہم اپنے خوف کی وجہ سے ایمان لے آتے ہیں، آہستہ آہستہ یہ خبریں آنے لگیں کہ چین کے بعد جس ملک میں بیماری سب سے زیادہ پھیل رہی ہے، وہ ایران ہے۔ ایران کا بھی متبرک شہر قم۔ عذاب والی تھیوری یہاں فیل ہوجاتی ہے__ مگر اس کے ساتھ ہی ایران کے راستے اس بیماری کے کیسز بھی سامنے آنے لگے۔ زائرین کی جماعت ایران سے واپسی پر آسانی کے ساتھ وائرس کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

افواہوں کے ساتھ ایک اور گھریلو صنعت کو فروغ ہوا__ کراچی میں مُنھ پر باندھے جانے والے ماسک مُنھ مانگے داموں پر بکنے لگے۔ سرجیکل سامان کراچی کے جن علاقوں میں ملتا ہے، وہاں سے سرجیکل ماسک بڑی تیزی سے غائب ہوگئے۔ سادہ کپڑے پر گھریلو طور پر بنائے جانے والے ماسک سڑک کے کنارے ٹھیلوں پر نظر آنے لگے۔ بعض لوگ ان سے بھی محتاط رہنے کا مشورہ سرعام دینے لگے کہ پرانے کپڑے چین سے بہت بڑی تعداد میں آتے ہیں، اور ان کے ذریعے سے وائرس حملہ آور ہوسکتا ہے۔ اس خوف پر کسی نے تبصرہ کردیا__ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی چین سے آتی ہے، اب موت بھی ’’میڈ ان چائنا‘‘ ہونے لگے تو ایسے ویسے پیغامات کی بھرمار میں ٹیلی فون پر سے نظر اٹھائی تو سڑک کے کنارے ایک لڑکی نظر آئی جس نے مُنھ پر ماسک باندھا ہوا تھا۔ وہ لڑکی بڑے اعتماد کے ساتھ قدم اٹھارہی تھی۔ اچھا، یہ پہلا پرندہ ہے جو موسم بہار کی آمد کی اطلاع دیتا ہے، مجھے انگریزی نظم کے ٹکڑے یاد آنے لگے۔ پھر لوگ بھی اور دکھائی دینے لگے جو ماسک باندھے ہوئے تھے۔ راہ چلتے ہوئے لوگ بھی، ہوٹل میں کام کرنے والے اور سُپرمارکیٹ میں کائونٹر پر بیٹھے نوجوان۔ ان سے زیادہ ہونے چاہیے تھے، میں نے سوچا، پھر ان کا حساب رکھنا چھوڑ دیا۔

ٹیلی فون کی اسکرین پر ایک اور پیغام کی اطلاع موصول ہوئی، ستارہ چمکا اور سازینہ ذرا سی دیر کے بعد بچ کر چُپ ہوگیا۔ یہی ایک ویڈیو لگاتار کئی ذرائع سے موصول ہوا۔ معزّز نظر آنے والی کئی شخصیات پینل کی شکل میں بیٹھی تھیں اور اپنی بات تحمّل سے کہہ رہی تھیں کہ ہمارے تمام چینلز پر ہمہ وقت کی چائوں چائوں سے یکسر مختلف، اور میں اسے دیکھنے پر مجبور ہوگیا۔ اسکرین کے نیچے والے حصّے میں اس گفتگو کا چینی، جاپانی ترجمہ تیزی سے رواں تھا جس سے مجھے یقین ہونے لگا کہ بہت اہم باتیں بیان کی جارہی ہوں گی۔

اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ صرف چین میں، جہاں سے اس نئی بیماری کا آغاز ہوا، ڈھائی ملین افراد میں وائرس کی موجودگی کی اطلاع ہے جب کہ حکومت سر توڑ کوشش کررہی ہے کہ یہ اعداد و شمار ملک سے باہر نہ جانے پائیں۔ اس شہر کے مُردہ خانے چوبیس گھنٹے کُھلے ہوئے ہیں۔

ان معزز سائنس دان نے صاف کہا کہ اصل اعداد و شمار نہ بتانے کی وجہ اس ملک کی ذمہ داری ہے اور اسی وجہ سے یہ بیماری ایک ملک سے دوسرے ملک میں اس تیزی سے پھیل رہی ہے کہ اگر روک تھام کا موثر طریقہ نہ ملا تو دنیا کی آبادی کا ساٹھ فی صد حصّہ اس کی لپیٹ میں آجائے گا، ناقابل یقین حد تک خوف ناک! اب یہ بیماری عالمگیر وبا بن گئی ہے۔

افواہوں سے بڑھ کر خوف گلی محلّے میں کیسے پھیلتا ہے، اس کا اندازہ پچھلے اتوار کی صبح کلفٹن سے زمزمہ جاتے وقت ہوا۔ سڑکیں سنسان پڑی تھیں۔ گاڑی بہت آگے لے جا کر موڑنے کے بجائے میں نے زمزمہ پر ایک طرف کھڑی کر دی اور اطمینان سے سڑک پار کرکے دوسری طرف چلا گیا جو عام دنوں میں ممکن ہی نہیں ہوتا۔ کیا لوگوں نے گھر سے نکلنا کم کر دیا؟ میں سوچنے لگا۔

مرے کو ماریں شاہ مدار، سب کے بعد ہماری حکومت بھی سرگرمی دکھانے لگی۔ اسکول بند کردیے گئے۔ پھر اس بندش کی مدّت بڑھا دی گئی۔ اعلان میں گرمی بھی تھی کہ اس اعلان کے باوجود جو اسکول پھر بھی کھلے رہیں گے ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہماری حکومت کو بیماری کی روک تھام کا طریقہ اسکولوں کی بندش نظر آتا ہے۔ کرکٹ میچ سے بھرے اسٹیڈیم کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا کہ یہ جراثیم کے لیے ہری بھری چراگاہ فراہم کررہے ہیں۔ ایران کے بارے میں کسی نے بتایا کہ اسکول بند کیے گئے تو حکومت نے ہر روز صبح ٹیلی ویژن پر اسکول کے اسباق نشر کرنا شروع کر دیے۔ ہماری حکومت نے اگلا قدم یہ اٹھایا کہ صوبوں بھر کی لائبریریوں کو بند کر دیا، حالاں کہ ان لائبریریوں میں اتنے کم لوگ جاتے ہیں کہ جہالت کے سوا کسی اور بیماری کو فروغ نہیں مل سکتا۔

ہمیشہ کی طرح حکومتی عمل گیڈر بھبھکیوں تک رہتا ہے۔ یہ توقع کرنا بے کار ہے کہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے کام لے کر عوام میں صحت کی تعلیم کا کوئی بہتر طریقہ سامنے لایا جائے گا۔ اسکولوں کی بندش تو بہرحال ایک محدود مدّت کے لیے ہوتی ہے، شہروں میں گندے پانی کی نکاسی اور صفائی کا کوئی ذکر کیوں نہیں ہوگا۔ کوڑے کے انبار کراچی میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور اب لوگوں نے اس پر احتجاج کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ناک دبا کر دوسری طرف سے گزر جاتے ہیں۔ کافی عرصے تک صفائی کا خالی ڈھول پیٹنے کے بعد حکومت نے جھوٹے وعدے کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔

تاریخ کے رواں تسلسل میں وبائی بیماریاں سیاست دانوں کے لیے امتحان ثابت ہوئی ہیں کہ وہ کس حد تک حقائق پر انحصار کرتے ہیں، یہ امتحان کسی کو نہیں بخشتا۔ یہ نکتہ ’’نیویورکر‘‘ کے بے حد دل چسپ حالیہ مضمون میں اٹھایا گیا ہے جو صاف کہتا ہے کہ ’’سیاسی چکّر‘‘ (political spin) وبائی مرض کو پھیلائو کو بگاڑدیتا ہے۔ اسی جریدے کے ایک اور مضمون میں یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے کہ یہ وائرس خوف اور انتشار کو جنم دے رہا ہے لیکن لاقانونیت کو نہیں۔ شہری انتظام بگڑنے کی خبر کہیں سے نہیں آئی ہے کہ اس وجہ سے لوٹ مار یا قتل، غارت گری بڑھ جائے۔ یہ مضمون بھی ہمارے سیاست دانوں کو پڑھنا چاہیے۔ مگر وہ کہہ دیں گے کہ لوٹ مار کے لیے ہماری اپنی وجوہات کافی ہیں۔

اس حوالے سے ایک سے ایک برمحل تجزیے سامنے آتے جارہے ہیں مگر مجھے سب سے عمدہ مضمون معلوم ہوا وہ سنگاپور شہر کی صورت حال کا نقشہ کھینچ رہا ہے۔ اس پریشانی کے ساتھ اس شہر میں کیسے زندہ رہا جائے، میگان اسٹاک نے اس مضمون کا عنوان قائم کیا ہے۔

’’وائرس ایک پوری کمیونٹی پر قبضہ کیسے جما لیتا ہے؟ آہستہ سے۔ مُہلک طور پر۔ غیرنتیجہ خیز طور پر۔ حملے کی پہلی سطح، کوئی ایک بیمار، دکھتا بدن یا بہتی ہوئی ناک نہیں ہوتی بلکہ وہ تشویش جو زندگی کے ہر کونے میں درانداز ہوجاتی ہے اور جس کو دلائل، مباحث سے دور کرنا ناممکن ہے اس لیے کہ یہ مدلل ہے اور کسی حد تک ضروری بھی۔ آپ کو اس خوف کی آواز پر دھیان دینا ہوگا۔ ورنہ آپ خود ذمہ دار ٹھہریں گے، آپ لاپرواہ، ایک کمیونٹی کے بدن میں آپ وہ عضو ہیں جو معطل ہوا جا رہا ہے۔۔۔‘‘ بحران کے خطّے میں بے تکی جگہ پر واقع اس شہر میں خوف بھی ایک وائرس _ مضمون میں ایک جگہ یہ فقرہ بھی آتا۔

اس پر مجھے کامیو کا شاندار ناول ’’طاعون‘‘ یاد آتا ہے جس کے اندر بیماری میں مبتلا شہر اخلاقی، سیاسی بحران کا شکار ہے۔ میں اس ناول کے صفحات الٹ پلٹ کر دیکھتا ہوں، پھر الماری میں واپس رکھ دیتا ہوں۔ کہیں اس کے صفحات وائرس سے آلودہ تو نہیں؟ صفحات نہیں، ناول کے بیانیے میں موجود شہر آلودہ ہے جو میرے چاروں طرف عفریت کی طرح زہریلی پھنکار ماررہا ہے، ہنس ہنس کے مجھ سے کہہ رہا ہے__ سنو کراچی، ایک وائرس نے تو قدم جما لیے ہیں، دوسرا جانے کیا کر ڈالے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *