یہ فیضِ مرشد تھا یا مرتبان کی کرامت تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راولپنڈی کے ایک بزرگ بیان کرتے ہیں کہ کسی علاقے میں ایک انتہائی غریب شخص رہتا تھا، جس کی غربت کی وجہ سے اُس کے سب عزیز، دوست اور رشتے دار اسے چھوڑ چکے تھے۔ مناسب خوراک اور علاج نہ ہونے کے سبب وہ کئی قسم کے امراض میں مبتلا ہو چکا تھا جن میں ٹی بی، کینسر، کوڑھ، ایڈز، بواسیر، جریان، سوزاک، مردانہ کمزوری، آتشک اور بدہضمی جیسے مرض بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ اس کے ہاتھ پاؤں کٹ چکے تھے، دماغ بھی آدھا کام کرتا تھا۔ گویا، اس کی زندگی جہنم بن چکی تھی۔ وہ ہر دم موت کی خواہش کرتا مگر موت بھی آ کر نہ دیتی۔

راولپنڈی کے بزرگ مزید بیان کرتے ہیں کہ اماوس کی ایک رات جب جوار بھاٹا اپنے عروج پر تھا، تاروں کی لو چراغوں کی جھلملاہٹ کو مات دے رہی تھی، بادِ نسیم، بادِ صرصر میں ڈھل چکی تھی۔ بادلوں کی رعد و برق سے مسافر کے دل دہل رہے تھے اور قطبی تارے سے اپنی منازل کے نشاں متعین کر رہے تھے، ایسے میں، میں ایک راہ گم کردہ راہرو کی طرح نیند کی وادیوں میں کھویا ہوا تھا، قریب تھا کہ میں راہبروں کے بھیس میں موجود راہزنوں کے ہتھے چڑھ کر اپنی دنیا و عاقبت گنوا بیٹھتا، میرے مرشد نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا، تم ذات کے لاک پُشت ہا کہاں خوابِ أرنب کے مزے اڑا رہے ہو، کیا تمہاری تربیت اس وقت کے لیے کی تھی کہ جب کوئی مجبور اور بے کس تمہاری مدد کا منتظر ہو تو عین اسی وقت تم گُلشنِ نوم کی بازدید میں مصروف ہو۔ راولپنڈی کے بزرگ فرماتے ہیں کہ میرے مرشد کا تشریف لانا تھا کہ گویا یوں سمجھیے کہ نصف النہار کے اوقات میں طلوع قمر ہو گیا ہو، میرے دہن سے فوراً یہ اشعار رواں ہو گئے۔

میرے رشکِ قمر، تُو نے پہلی نظر۔

مرشد نے فوراً مجھے روک دیا تو فرمانے لگے، میرا دل نیلم منیر کی طرف سے بھی خراب نہ کرو اور کام پر دھیان دو۔ مرشد کی بات سن کر میں نے فوراً توجہ کی تو مرشد نے اوپر بیان کیے گئے شخص کا حال مجھ پر ظاہر فرما دیا اور اپنی پوشاک سے گویا ایک مرتبان نکال کر مجھے تھمایا اور کہا کہ جاؤ، یہ اس شخص کو دے دو اور اسے کہو، اس پر یقین رکھنے سے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ میں مرتبان تھام کر مرشد کی خدمت میں عرض کی مرشد، آپ خواب میں تو چولیں مارنے سے گریز کریں۔ یہ سن کر مرشد کو جلال آ گیا اور انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر ہلکی سی پھونک مار دی۔ فوراً ہی میری آنکھ کھل گئی۔ سینے پر جہاں مرشد نے ہاتھ رکھا تھا، وہاں ہلکی سی لالی تھی اور سینے پر مرشد کی پھونک کی نمی بھی محسوس ہو رہی تھی۔

میری ہِک اُتے قطرہ کھلو گیا
واہ مرشد کی کرامتیں

مجھے بستر پر اپنے ساتھ کچھ سخت سا محسوس ہوا، بتی جلا کر دیکھا تو جو مرتبان مرشد نے مجھے تھمایا تھا، وہ میرے ساتھ رکھا تھا۔ فوراً مرتبان کو محفوظ جگہ پر رکھا۔ صبح ہوئی تو مرتبان اٹھایا اور مذکورہ شخص کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ بہت کھجل خرابی کے باوجود یہ ناہنجار نہ ملا، قریب تھا کہ میں مایوس ہو کر واپس لوٹنے کا قصد کرتا، آخری کوشش کے طور پر قریب سے گزرتے ایک نوجوان سے پوچھا، نشانیاں بتانے پر وہ ایک دم پرجوش ہو کر کہنے لگا، ”اچھا تو آپ The man who is a hospital کا پتہ پوچھ رہے ہیں۔ وہ اس علاقے میں نہیں رہتا، اس کا گھر سڑک کے دوسری طرف ہے، آپ کو کسی نے غلط پتہ بتایا ہے۔ “ دل ہی دل میں مرشد کو چند الفاظ سے یاد کیا اور ان کا ”درست“ شجرہ نسب دہرایا اور نوجوان کے بتلائے پتے پر جا پہنچا۔

دستک دینے کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ دروازہ خود بخود کھلتا چلا گیا، صحن میں پہنچ کر کیا دیکھتا ہوں کہ ٹوٹی ہوئی بان کی ایک چارپائی پر، خس کی دیوار اٹھائے ایک مفلوک الحال، بیمار اور کمزور شخص پڑا ہے، اس کی حالت دیکھ کر فوراً میرے اندر کا چی گویرا بیدار ہو گیا اور یہ انقلابی رجز میری زبان پر جاری ہو گیا۔

مجھے نسوانیت کا درد بھی بخشا ہے قسمت نے
میرا مقصد فقط پونڈی لگاؤ ہو نہیں سکتا

​جواں ہوں میں جوانی لغزشوں کا ایک طوفاں ‌ہے ​
مری باتوں میں رنگِ پارسائی ہو نہیں سکتا

​مرے دلکش ترانوں کی حقیقت ہے تو اتنی ہے ​
کہ جب بھی دیکھتا ہوں ہوس کے مارے انسانوں کو​

‌ذلیلوں کمینوں کو، دوستوں کو، یاروں کو​
سسکتی نازنینوں کو، ترستے نوجوانوں کو​

تو دل تابِ نشاطِ بزمِ عشرت لا نہیں ‌سکتا​
میں ‌چاہوں بھی رابی پیرزادہ کے گانے گا نہیں سکتا​

قریب تھا کہ میں بیگانۂ غمِ دہر ہو کر انقلاب لانے نکل پڑتا کہ دفعتاً مجھے مرشد کا ہاتھ اپنے کندھے پر محسوس ہوا اور ان کی سرگوشی سنائی دی، ”کاکا! حکومت ہماری ہی لگائی ہوئی ہے۔ “ یہ سن کر حواس بجا ہوئے، میں اس بیمار شخص کی طرف بڑھا اور مرتبان اسے تھما کر کہا، اے شخص! اسے رکھ لو اور اس پر یقین کر لو، یہ تمہارے تمام مسائل کا حل ہے اور پھر جیسا کہ قصے کہانیوں میں ہوتا ہے، اُس شخص نے اس بات پر یقین کرنے سے انکار کر دیا اور مرتبان کا کافر ہو گیا۔ فوری طور پر مرشد سے روحانی رابطہ کیا، مرشد پر پہلے ہی سب حال منکشف تھا، مرشد نے کہا ہم ابھی اپنا فیض بھیجتے ہیں، یہ شخص مانے گا کہ یہی اس کے تمام مسائل کا حل ہے۔

رابطہ ختم ہوا ہی تھا کہ اچانک ایک زوردار ٹھوکر سے دروازہ کھلا، چند بانکے سجیلے نوجوان، جدید تراش کے لباسوں میں ملبوس، اندر داخل ہوئے اور اس شخص کو کہا کہ آپ پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے، ہم آپ کو گرفتار کرنے آئے ہیں اور اس کے کٹے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگا کر اس کے غیر موجود پیر بیڑیوں میں جکڑ دیے۔ قریب تھا کہ اس بدنصیب کا طائر روح، قفسِ عنصری سے ہمیشہ کے لیے پرواز کر جاتا، مرشد کی آواز سنائی دی کہ اسے ایک بار پھر، آفر دو۔

میں دوبارہ اسے کہا کہ مرتبان پر یقین کر لو، تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ تنگ آمد، بجنگ آمد کے مصداق اس نے فوراً میری ہاں میں ہاں ملائی اور اپنا جسم مرتبان سے مس کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے، وہاں صورتحال بدلنے لگی، ہتھکڑیاں کھل گئیں، بیڑیاں ٹوٹ گئیں، اس کے ہاتھ پاؤں نمودار ہو گئے، جسم پر موجود زخم بھر گئے، تمام بیماریوں کی لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹس بھی آ گئیں، جن کے مطابق اس کو اب کسی بھی قسم کی کوئی بیماری نہ تھی۔ ڈاک سے اس کی بینک سٹیٹمنٹ بھی وصول ہو گئی، جس کے مطابق اس کا اکاؤنٹ بیلینس پانچ ارب روپے تھا۔ شئیر مارکیٹ میں اس کی کمپنیوں کے شئیر اوپر جانے لگے، حالانکہ باقی تمام مارکیٹ کا رحجان منفی تھا۔ غرض، اس کا ہر دن عید اور ہر شب، شب برأت ہو گئی۔

یہ فیضِ مرشد تھا یا مرتبان کی کرامت تھی
راولپنڈی کے بزرگ بیان فرماتے ہیں کہ یہ تبدیلی دیکھ کر میں نے مرشد سے عرض کہ مرشد یہ سب کیا ہے؟ مرشد بولے، ”یہ مرتبان، بانوے کے ورلڈکپ کی شبیہ ہے۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
جواد مقصود کی دیگر تحریریں
جواد مقصود کی دیگر تحریریں