تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بین الاقوامی سازشیں

جب سے پاکستان تحریک انصاف کے وزیراعظم عمران خان نے عنان اقتدار سنبھالی ہے، اس وقت سے بلاشبہ وطن عزیز ترقی کی وہ بے مثال منازل طے کر رہا ہے جس کے خواب دیکھتے دیکھتے کئی قومیں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں کیونکہ ان کو عمران خان جیسی بے لوث قیادت میسر نہ ہو سکی۔ عمران خان ہی وہ دیدہ ور ہیں جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہ نرگس کے ہزاروں سال رونے کے بعد بڑی مشکل

Read more

تعمیراتی شعبے کے کارکنان پر رحم کریں

بخدمت جناب حاکمان اسلامی جمہوریہ پاکستان! آپ کی خدمت میں دستہ بدستہ عرض ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پوری دنیا جس صورتحال سے گزر رہی ہے، اس میں کسی بھی قسم کی عدم یقینی کی کیفیت ہزاروں افراد کی زندگی کو داؤ پر لگا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے وطنِ عزیز پچھلے ایک ماہ سے اسی گومگو کی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ کرونا کا ہلاکو خان پاکستان پر حملہ آور ہے اور ہمارے بظاہر مقتدر چہرے اس

Read more

یہ فیضِ مرشد تھا یا مرتبان کی کرامت تھی

راولپنڈی کے ایک بزرگ بیان کرتے ہیں کہ کسی علاقے میں ایک انتہائی غریب شخص رہتا تھا، جس کی غربت کی وجہ سے اُس کے سب عزیز، دوست اور رشتے دار اسے چھوڑ چکے تھے۔ مناسب خوراک اور علاج نہ ہونے کے سبب وہ کئی قسم کے امراض میں مبتلا ہو چکا تھا جن میں ٹی بی، کینسر، کوڑھ، ایڈز، بواسیر، جریان، سوزاک، مردانہ کمزوری، آتشک اور بدہضمی جیسے مرض بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ اس کے ہاتھ پاؤں کٹ چکے تھے، دماغ بھی آدھا کام کرتا تھا۔ گویا، اس کی زندگی جہنم بن چکی تھی۔ وہ ہر دم موت کی خواہش کرتا مگر موت بھی آ کر نہ دیتی۔

راولپنڈی کے بزرگ مزید بیان کرتے ہیں کہ اماوس کی ایک رات جب جوار بھاٹا اپنے عروج پر تھا، تاروں کی لو چراغوں کی جھلملاہٹ کو مات دے رہی تھی، بادِ نسیم، بادِ صرصر میں ڈھل چکی تھی۔ بادلوں کی رعد و برق سے مسافر کے دل دہل رہے تھے اور قطبی تارے سے اپنی منازل کے نشاں متعین کر رہے تھے، ایسے میں، میں ایک راہ گم کردہ راہرو کی طرح نیند کی وادیوں میں کھویا ہوا تھا، قریب تھا کہ میں راہبروں کے بھیس میں موجود راہزنوں کے ہتھے چڑھ کر اپنی دنیا و عاقبت گنوا بیٹھتا، میرے مرشد نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا، تم ذات کے لاک پُشت ہا کہاں خوابِ أرنب کے مزے اڑا رہے ہو، کیا تمہاری تربیت اس وقت کے لیے کی تھی کہ جب کوئی مجبور اور بے کس تمہاری مدد کا منتظر ہو تو عین اسی وقت تم گُلشنِ نوم کی بازدید میں مصروف ہو۔ راولپنڈی کے بزرگ فرماتے ہیں کہ میرے مرشد کا تشریف لانا تھا کہ گویا یوں سمجھیے کہ نصف النہار کے اوقات میں طلوع قمر ہو گیا ہو، میرے دہن سے فوراً یہ اشعار رواں ہو گئے۔

Read more