ملتان اس بار …
میں سوچ رہا تھا کہ وقت بہت بیت گیا۔ نوجوان بھی استراحت کرنا چاہتے ہوں گے اگرچہ وہ کہہ رہے تھے کہ آپ چاہیں تو لیٹ رہیں، آرام کر لیں۔ میں نے جانا چاہا۔ پہلے یوسف مرزا کو فون کیا مگر وہ شہر سے باہر تھا۔ اس نے ڈینٹل ڈاکٹر فضل کا فون نمبر بھیج دیا کہ آپ خود طے کر لیں اور جا کر دانت دکھا دیں۔ میں اتنا مستعد کہاں ہوں۔ اعجاز کو فون کیا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ آپریشن تھیٹر میں تھا۔ شکر ہے خیال آ گیا کہ میرے ہم جماعت اور دوست ڈاکٹر اقبال کا گھر نزدیک ہے جسے میں بالا کینٹ والا کہتا ہوں کیونکہ زمانہ طالبعلمی میں ان کا گھر ملتان کینٹ کے علاقے میں تھا۔ اسے فون کیا تو اس نے کہا آ جاؤ۔ میں کاشف کو ہمراہ لے کر اقبال کے ہاں پہنچا۔ اقبال کی اہلیہ اور ہماری پیاری بھابی دو سال پہلے یہ دنیا چھوڑ چکی ہیں، وہ اکیلا ہی رہتا ہے۔
اقبال کو میں ولی کہتا ہوں۔ اس نے باوجود آرتھو پیڈک سرجن ہونے کے کبھی پرائیویٹ ہسپتالوں میں جا کے کام نہیں کیا۔ ملازمت کے دوران بس ملازمت کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک نجی میڈیکل کالج میں وائس پرنسپل رہا۔ وہاں سے بھی اصولوں کی بنیاد پر چھوڑ دیا کیونکہ نہ تو وہ بددیانتی کرتا ہے اور نہ برداشت کرتا ہے۔ آج کل سٹی ہسپتال ملتان میں ایم ایس ہے۔ اپنی ڈیوٹی کرتا ہے اور دو بجے گھر آ جاتا ہے۔ کتابیں پڑھتا ہے اور بس۔
میں اسے ولی اللہ کہتا ہوں، وہ ہنس کے کہتا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں، میں عام انسان ہوں۔ کاشف کو اقبال کے کتابی خزانے سے ناول ”اداس نسلیں“ مستعار دلوا کر اسے رخصت کیا اور ہم باتیں کرنے بیٹھ گئے۔ چونکہ وہ طب سے وابستہ ہے اس لیے اس میدان میں بددیانتی سے متعلق باتیں ہوئیں تو انہوں نے اپنے استاد آرتھوپیڈک سرجن پروفیسر ڈاکٹر سلیم کا حوالہ دے کر بتایا کہ میڈیکل پریکٹس میں پیشہ ورانہ اخلاقیات کے مطابق اگر کوئی مریض آپ کی سپیشلٹی کا نہیں ہے تو آپ اسے دیکھ لیں، فیس لے لیں اور تشخیص کرکے اسے متعلقہ ڈاکٹر کے پاس بھجوا دیں، باقاعدہ اخلاقیات کے مطابق اسے دیکھے بغیر فیس وصول کیے بغیر متعلقہ ڈاکٹر کو ریفر کر دیں، اگر آپ اس کا علاج خود کرنے لگ جاتے ہیں تو یہ ہر دو طرح کی اخلاقیات کے خلاف ہوگا اور اگر آپ اس کا علاج ہی غلط کرتے ہیں تو یہ جرم ہوگا۔ مگر ایسی باتیں کون سنتا ہے اور کون ان پر عمل کرتا ہے۔ اگلے روز ڈاکٹر اعجاز نے بتایا کہ ملتان میں ایسا ایک ہی ڈاکٹر ہے، نوجوان ہے اور غیر متعلقہ مریض کو فیس لیے بنا متعلقہ ڈاکٹر کو ریفر کر دیتا ہے۔
اتنے میں مرزا یوسف کا فون آ گیا کہ وہ جہاں گیا تھا وہاں سے لوٹ آیا ہے اور اگر میں چاہوں تو وہ مجھے ڈاکٹر فضل کے پاس لے جا سکتا ہے۔ میں نے اسے کہا کہ آ جائے۔ اعجاز کا فون کر دیا کہ وہ مجھے لینے اقبال کی طرف نہ آئے، میں خود گھر پہنچ جاؤں گا۔ یوسف مرزا بھی میرے فیس بک کے دوست ہیں۔ وہ مجھے ملنے اپنے دوست ڈینٹل سرجن ڈاکٹر فضل کے ہمراہ میرے گھر علی پور آئے تھے اور پیشکش کر گئے تھے کہ آپ ملتان آئیں تو ڈاکٹر فضل آپ کے دانت چیک کر لیں گے۔
میں نے ملتان پہنچنے سے پہلے اس نوجوان کو فون کر دیا تھا اور وہ اپنی بائیک پر آکر مجھے ساتھ لے گئے اور بعد میں ڈاکٹر فضل کی گاڑی میں شاہد مبشر کے ہاں چھوڑ گئے تھے۔ مرزا یوسف کا آٹھ کمروں کا گھر تعمیر کی تکمیل کے نزدیک ہے، پہلے ہی روز شاہد مبشر کے ہاں سے لے کر مجھے زیر تعمیر گھر دکھایا تھا اور کمرہ دکھایا تھا کہ آئندہ جب آپ آئیں گے تو یہاں رہیں گے۔ ویسے بھی وہ میری رہائش کا بندوبست کرنے کو تیار تھا مگر مجھے رانا محبوب صاحب نے پناہ دے دی تھی۔
مرزا یوسف کے ساتھ دولت گیٹ کے نزدیک موجود ڈینٹل کلینک گئے۔ اب یہ پرانا ملتان لگ ہی نہیں رہا تھا۔ نہ تانگے تھے نہ ہجوم۔ تجاوزات نہ ہونے کے سبب کھلی سڑک تھی۔ ڈاکٹر فضل نے اپنا کام بہت پیشہ ورانہ انداز میں بلا معاوضہ سرانجام دیا۔ ہم گھر کی جانب چل پڑے مگر آگے جا کر یوسف مرزا گلگشت کے اندر ہو لیے تھے۔ میں نے استفسار کیا کہ کہاں جا رہے ہو تو اس نے کہا کہ ایسی بھی کیا جلدی ہے، آپ کو میں گھرپہنچا دوں گا۔ یوسف مرزا کے دوست ایک ریستوران میں اس کا انتظار کر رہے تھے۔ میں نے دعا سلام کے بعد کھانے سے معذرت کر لی کیونکہ میں اعجاز سے کہہ چکا تھا کہ کھانا گھر پر اکٹھے کھائیں گے۔
راستے میں بائیک کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ یوسف مرزا کہنے لگا کہ آپ رکشے پر چلے جائیں کہاں میرے ساتھ خوار ہوں گے کہ ایک موٹر سائیکل سوار پولیس والا آ کے رکا اور اس نے بتایا کہ ٹائر پنکچر والا زیادہ دور نہیں۔ ایسا پولیس والا پہلی بار دیکھا۔ مرزا تیزی سے موٹر سائیکل لے کر آگے نکل لیا۔ جب تک میں چوراہے تک پہنچا وہ دوسری جانب سے آوازیں دیتا مجھ تک پہنچا۔ ابھی پنکچر لگ رہا تھا کہ اعجاز کا فون آ گیا۔ میں نے اسے بتا دیا کہ بڑا مسئلہ نہیں میں پہنچتا ہوں۔
مجھے اس کے گھر کا نمبر معلوم نہیں تھا۔ 448 پر پہنچ کر اسے فون کیا۔ اس نے رہنمائی کی اور نمبر بتایا اور ساتھ ہی کہا کہ آپریشن کے بعد کمپلیکیشن ہو گئی ہے۔ جا کے فون کر دوں محسن دروازہ کھول دے گا۔ محسن نے دروازہ کھول کر بتایا کہ ابو تو دیر سے آئیں گے۔ مرزا یوسف کہنے لگا کہ آپ یونہی جلدی کر رہے تھے۔ چلیے کھانا کھاتے ہیں اور میں آپ کو چھوڑ جاؤں گا۔ میں نے معذرت کر لی۔
ہر صبح اعجاز کو فون کرتا تو وہ چائے کے دوکپ لے کر پہلی منزل سے اوپر آ جاتا۔ آج میں نے اسے کہا کہ میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ مغرب کے وقت تمہارے ساتھ چلوں گا۔ تم مجھے قیصر نقوی کے ہاں چھوڑ دینا۔ دس بجے پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کی دی دعوت پر چلے چلیں گے۔ مگر بعد میں سوچ کر میں نے پروگرام تبدیل کر دیا کیونکہ قیصر نے کھانا کھلانے پر مصر ہونا تھا۔ اس لیے میں نے اعجاز سے کہا کہ وہ مجھے ایک بجے ہی قیصر نقوی کے ہاں چھوڑ دے۔ قیصر نقوی نے تھوڑی دیر بعد فون کرکے پوچھا کہ کیا کھاؤگے؟ پھر پوچھا سہانجنا کھالو گے۔ میں بولا ہاں۔
جب اس کے گھر کے نزدیک پہنچے تو میرے دوست حسن کاظمی کا فون آ گیا۔ قیصر فرنچ کٹ داڑھی کے ساتھ باہر نکلا اور مجھے گھر کے اندر لے گیا۔ بیٹھے ہی تھے کہ میرے مہربان زاہد کاظمی کا فون آ گیا۔ میں نے قیصر سے کہا کہ بھائی آج تو سیدوں کے نرغے میں ہوں۔ اس نے شاہد مبشر کو فون کرکے بلا لیا۔ یہ تو میں بھول ہی گیا تھا کہ خیر سے شاہد مبشر بھی سید شاہد مبشر جعفری ہیں۔ شاہد وعدے کے مطابق عین تین بجے سہ پہر پہنچا۔ تب تک ہم دونوں خوب گپ لگا چکے تھے۔
قیصر نے بتایا کہ وہ ایک سیریل کے لیے داڑھی بڑھائے ہوئے ہے۔ تھوڑی دیر شاہد سے بات چیت رہی پھر ہم نے سہانجنا گوشت، مٹر قیمہ، بھنڈیاں اڑائے۔ سویٹ میں میرے پسندیدہ ٹھنڈے رس گلے تھے۔ قیصر نے بتایا کہ اس کا بیٹا چینیوں کے ساتھ کام کرتا ہے۔ ایک روز دو چینی مہمانوں کو لے کے آیا تھا۔ اس روز بھی سویٹ میں رس گلے تھے تو ایک چینی نے پوچھا کہ ”کین آئی ہیو مور“۔ میں نے چھوٹتے ہی کہا، ”یار کین آئی ہیو مور“ اور اجازت سنے بغیر جو قیصر نے دی بھی نہیں، ایک اور رس گلا بمعہ دودھ اور پستے بادام کے لے لیا۔
گپ کا ایک اور دور چلا۔ چائے پی گئی پھر مجھے کچھ تکان محسوس ہوئی تو میں نے قیصر سے کہا کہ چھوڑ آئے۔ میں نے غلطی سے ایم ڈی اے کالونی بتا دی تو وہ اسی راہ پر گاڑی لے گیا۔ میں نے کہا یہ تو راستہ نہیں۔ جب میں نے تفصیل سے ایم ڈی اے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی بتائی تو دونوں میرا مذاق اڑاتے ہوئے، اعجاز سے فون پر پوچھ کر مجھے اعجاز کے گھر پر چھوڑ گئے۔ میں نے اتر کر کہا کہ واپسی کا راستہ نہیں آتا تو بتا دوں۔ قیصر نے ہنس کے کہا کہ ہم کھو جائیں گے مگر تم سے راستہ نہیں پوچھیں گے۔
کچھ استراحت کی۔ چائے پی۔ اعجاز سے فون پر پروگرام پوچھا تو اس نے کہا کہ پونے دس بجے محسن تمہارے لیے کریم ٹیکسی بلا لے گا، تم سٹی ہسپتال پہنچ جانا وہاں سے دونوں جہاں علی نے بلایا ہے چلے جائیں گے۔ ٹیکسی والا رنگ پور کھیڑا کا تھا۔ میں نے ایک پرانے دوست پروفیسر نشاط کا ذکر کیا تو وہ اسے جانتا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ ایمرسن کالج ملتان سے ریٹائر ہوئے اور اب اپنے شکار کے شوق کے ساتھ اپنے آبائی گھر میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔
جب نشاط کوٹ ادو میں لیکچرر تھے تو وہ کچھ خرگوش شکار کرکے لائے تھے۔ تب میری بیٹی جو اب بیاہتا ہے چھوٹی تھی اور یہ کہتے ہوئے رونے لگی تھی کہ میں بلی نہیں کھاؤں گی۔ میں نے ڈرائیور کے توسط سے نشاط کو سلام بھجوایا۔ گاڑی سے اتر کر سٹی ہسپتال میں دوسری منزل پر گیا تو مریضوں کا ہجوم تھا اور اعجاز دفتر میں نہیں تھے۔ وہ نیچے میرا انتظار کر رہے تھے۔ ہم دونوں ریستوران زنجبار پہنچے جہاں علی ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ڈاکٹر آفتاب بھی آ گئے۔ علی ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ دانشور بھی ہے۔ اس کے ساتھ وہی پرانی باتیں ہوتی رہیں۔ اچھا کھانا کھایا اور رات بارہ بجے گھر لوٹے۔
جمعہ کے روز میں گھر پر ہی رہا۔ پھر اعجاز دفتر سے لوٹ آیا۔ میں، اس کے اور اس کی اہلیہ کے ساتھ جمعہ پڑھنے گیا۔ اعجاز کے گھر کے عقب میں بہت اچھا پارک ہے جس میں جاگنگ ٹریک بھی ہے اور اس کے ایک سرے پر بہت بڑی صاف شفاف مسجد۔ اس مسجد میں تعمیر کے کام کے باوجود قالین صاف تھے جنہیں ویکیوم کلین کیا گیا تھا۔ گھر پہنچ کر بیٹھے ہی تھے کہ معارز انصاری نام کے ایک اور فیس بک فرینڈ ملنے پہنچ گئے۔ یہ نوجوان این جی او چلاتے ہیں۔
کچھ موڈ میں تھے۔ ان کی ڈکشنری کے مطابق باذوق کا مطلب بدکردار اور خر دماغ کا مطلب ایسا شخص تھا جو درست موقف پر ڈٹ جائے۔ اپنے پیشے کے بارے میں جانتا تھا مگر لگتا تھا جیسے وہ ملاقات سے زیادہ موڈ بنا کے گٹار بجانے میں مگن تھا۔ بہر حال اللہ انہیں خوش رکھے۔ ہم نے گھر کا خوش ذائقہ کھانا مل کر کھایا۔ پھر مجھے استراحت کی ضرورت محسوس ہوئی تو معارز نکل گئے۔ 6 بجے اعجاز کو اوپر بلایا۔ تھوڑی گپ لگائی اور علی پور جانے کے لیے ڈیرہ اڈہ جانے کو نکل لیے۔
خبیب نے ٹکٹ لی ہوئی تھی مگر اس وین میں رش زیادہ تھا۔ ہم نے دوسری وین میں سفر کرنے کو ترجیح دی جو اگرچہ 8 بجے جانی تھی مگر اس کی نشستیں نسبتاً بہتر تھیں۔ راستے میں گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا، اس کے علاوہ سفر مناسب رہا اور ہم خیر خیریت سے ساڑھے دس بجے رات گھر پہنچے۔ اگرچہ اعجاز ڈراتا رہا تھا کہ ویگن کی نشستوں کی دوقطاریں چھوڑ کر پیچھے بیٹھنا۔ اعجاز کے مجہز گھر میں رہنے کے باوجود اپنے پرانے گھر میں آ کر ایسے لگا کہ گھر پہنچ گیا ہوں۔ پھر وہی چارپائی۔ باہر وہی مکھیاں اور وہی ماحول جو ہے۔


