وزیر اعظم کا دورہ کراچی، اعلانات، جائزہ


وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف اور زرداری قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کردیں تو انہیں چھوڑ دیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو بھی بد دیانت، گمراہ اور ڈاکو ہو اس کو اپنے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہیے لیکن جو بات سمجھ سے بالاتر ہے وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی محکمہ، فرد یا ادارہ کسی بھی قسم کے آئین و قانون کا پابند ہے یا سب کے سب بے نکیل اونٹ بنے ہوئے ہیں۔

باد شاہوں کے زمانے تک تو بے شک ایسا ہی ہوتا تھا کہ جو وہ چاہتے تھے ویسا ہی ہوجا یا کرتا تھا لیکن فی زمانہ، جہاں شہنشاہیت نہیں ہے، وہاں ہر ادارے، عہدیدار اورمحکمے کے لئے قانون سازی کرکے ان کے دائرہ اختیار کی حدود مقرر کردی گئی ہیں جن کی حدود و قیود کو نہ تو کوئی فرد یا ادارہ از خود توڑ سکتا ہے اور نہ ہی ان میں کوئی کمی بیشی اپنی مرضی و منشا کے مطابق کر سکتا ہے۔ بے شک پاکستان میں جو بھی اقتدار کی مسند پر براجمان ہوتا ہے وہ آئین و قانون کی پابندی کرنے کی بجائے آئین و قانون کو اپنا مطیع و فرمابردار بنانے کی سعی و جہد کرتا رہا ہے لیکن پھر اپنی ہی ترامیم کو باقاعدہ قانونی شکل دینے پر بھی مجبور رہا ہے تا کہ اقتدار پر گرفت کمزور ہونے کی صورت میں یا اقتدار سے محروم ہوجانے کے بعد قانون اس کے خلاف حرکت میں نہ آجائے جس کی ایک بہت بڑی مثال پاکستان کے سابق سپہ سالار اور سابق صدر، پرویز مشرف کی ہے جو دوران اقتدار اپنی ”مرضی“ کو قانونی شکل نہ دینے کی وجہ سے آج تک قانون کی گرفت سے اپنے آپ کو بچانے میں مصروف ہیں یہاں تک کہ ان کے اپنے ہی ملک کی سرزمین ان کے لئے تنگ ہو کر رہ گئی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی یہ بات لاکھ روہے کی ہی سہی کہ پاکستان میں کسی بھی کرپٹ اور قومی دولت پر ڈاکا ڈالنے والے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ایسے تمام افراد، بشمول شریف برادران اور زرداری، سب کے خلاف کڑا احتساب ہو لیکن ان کا بار بار یہ کہنا کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے اور ملک کی دولت لوٹنے والوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ لوٹی ہوئی دولت واپس کریں ورنہ اس کی رہائی ممکن نہیں۔

بات سوالاکھ ہی کی سہی لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ کون کرپٹ اور ملک کی دولت کو لوٹنے والا ہے، اس کا فیصلہ پاکستان کے حکمرانوں کو نہیں عدالت کو کرنا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے عدالتی نظام میں ایسی بہت سی کمزوریاں ہیں یا با الفاظ دیگر پیچیدگیاں ہیں کہ کسی کے خلاف کسی جرم کا ثابت ہونا کوئی آسان کام نہیں اسی لئے بہت سارے مجرم قانون کی گرفت سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس کا حل یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ کوئی فرد، ادارہ یا مسند اقتدار پر بیٹھا ہوا کوئی فرد اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنی مرضی و منشا کے مطابق کوئی فیصلہ سنائے۔

اس لئے وزیر اعظم پاکستان کا بار بار یہ کہنا کہ میں نہیں چھوڑوں گا یا سب کو رلاؤں گا کوئی بہت مناسب بات نہیں۔ ایسی باتیں کسی عام سے سیاسی رہنما کے منھ سے تو پھر بھی بھلی لگ سکتی ہے لیکن کسی ملک کے سربراہ کے لئے ایسا کہنا اور وہ بھی جمہوری حکمران کی زبان سے ”بادشاہوں“ والا انداز بیان بالکل بھی مناسب نہیں لہٰذا عمران خان کو کنٹینر سے بہر صورت نیچے اترنا ہو گا اور ہر بات کو قانون اور آئین پر چھوڑ دینا ہوگا۔

کراچی کے لئے یہ اچھی خبر ہے کہ اس کے لئے 162 ارب مختص کیے جارہے ہیں۔ یہ 162 ارب روپے اگر دیانتداری سے خرچ کیے گئے تو کراچی کی شکل بدل سکتی ہے لیکن ماضی کا تجربہ اس کے برعکس ہی رہا ہے۔ تقریباً ہر حکومت کراچی کے لئے بڑے بڑے پیکجوں کا اعلان کرتی رہی ہے۔ اگر ان تمام پیکجوں کو سامنے رکھا جائے تو کراچی پیرس سے بھی کہیں حسین شہر میں تبدیل ہوچکا ہوتا۔ کراچی کی اگر آج کچھ شکل ہے تو وہ صرف اور صرف پرویز مشرف کے دیے ہوئے کھلے دل اور کھلے ہاتھوں کا فنڈ ہے جس کو مقامی گورمنٹ کے توسط سے خرچ کیا گیا اور دنیا کو لگا کہ وہ فنڈ واقعی کراچی پر خرچ ہوا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کراچی کی ترقی کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ بات پاکستان کی کون سی سیاسی جماعت یا پاکستان میں بننے والے وہ کون سی حکومت ہے جو نہیں کرتی آئی ہے۔ اس بری صورت حال کے باوجود کراچی شہر ہی وہ شہر ہے جو پاکستان کو پال رہا ہے۔ اگر کراچی کی جانب ہر حکومت کی توجہ بھر پور طرقے سے ہوتی تو آج اس کا فائدہ پورا پاکستان ہی اٹھا رہا ہوتا۔ اب بھی عالم یہ ہے کہ جوبھی پاکستان میں گرفتارِ روز و شب ہوتا ہے اور اس کے لئے اپنے خاندان کی پرورش مشکل ہوجاتی ہے، وہ کراچی ہی کی جانب رجوع کرتا ہے۔

اہل کراچی کا حوصلہ بھی دیدنی ہے کہ وہ کبھی کسی کے یہاں انے پر ناخوش نہیں ہوئے بلکہ وہ ہر آنے والے کے لئے سینہ و دل کشادہ ہی کرتے نظر آئے البتہ کراچی سے باہر سے آنے والوں نے کراچی کو آج تک اپنا نہیں سمجھا اور جہاں بھی خالی جگہ دیکھی اپنا پڑاؤ ڈال دیا جس کی وجہ سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی متاثر ہوئی بلکہ ہر قسم کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوا۔ اگر آج خود عمران خان یہ کہننے پر مجبور ہوئے کہ ”طیارے سے دیکھیں توکراچی کنکریٹ کا ڈھیر لگتاہے، شہر جتنا پھیلتا جاتا ہے اس میں سہولتیں دینا اتناہی مشکل تر ہوتا جاتا ہے، ہمارے لیے بہت زیادہ ضروری ہے کہ ماسٹرپلان شروع کریں۔

صرف پچھلی حکومت ہی پاکستان کے لئے قرض نہیں لیتی رہی ہے، ہر حکومت قرضوں کے سہارے ہی چلتی رہی ہے۔ ان ہی قرضوں کی مدد سے اپنے پچھلے والوں کے قرض بھی ادا کرتی رہی ہے۔ اسی قسم کی مشکل آپ کو بھی درپیش ہے۔ آپ کی حکومت بھی دعوؤں کے برعکس قرضوں پر قرضے لے رہی ہے اور آپ کو بھی ان ہی قرضوں میں سے پچھلے قرضے اتارنے بھی ہیں اور جو آپ کے بعد آئیں گے وہ موجودہ قرضے اتارنے پر مجبور ہوں گے۔

یہ ایک سلسلہ ہے جو اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک ہم اتنے زیادہ وسائل پیدا نہ کرلیں کہ اپنی ہر ضرورت خود پوری کر سکیں اس لئے بار بار ایک ہی بات کو دہرانے کی بجائے کمر ہمت کسیں اوراپنے ماضی کو بھلاکر آگے کی جانب بڑھیں۔ لکیروں کو پیٹنے سے کچھ کام نہیں چلے گا، سانپ کو مارنا پڑے گا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو محض وعدوں اور ماضی کو روتے رہنے سے ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہو سکے گا۔

Facebook Comments HS