فرعون کا پاسپورٹ اور پھر ہوائی جہاز پر سفر
رعمسیس دوم مصر کے فرعونوں کے انیسویں خانوادے کا تیسرا فرعون تھا۔ اس کے دور میں مصر کو حاصل ہونے والے عروج کے سبب اسے رعمسیس دی گریٹ کہا جاتا ہے۔ وہ تقریباً تین ہزار دو سو برس قبل پیدا ہوا اور اس نے تقریباً 66 برس مصر پر حکومت کی۔ اس کے دور میں مصر، شام، فلسطین وغیرہ میں فتوحات ہوئیں۔ سلطنت میں خوشحالی آئی اور اس نے ان دونوں کے کمبینیشن سے خوب مال کمایا۔
اس کے والد سیتی اول نے اسے دس برس کی عمر میں ہی جرنیلی سونپ دی اور چودہ برس کی عمر میں شاہی اختیارات بھی سونپ دیے۔ تاریخ دانوں کا اندازہ ہے کہ تقریباً بائیس برس کی عمر میں رعمسیس دوم نے بطور بادشاہ تخت سنبھالا۔ نوے بانوے برس کی عمر میں وہ فوت ہو گیا۔ رعمسیس سے بارہ پندرہ سو برس پہلے ہی اہرام بنائے جا چکے تھے۔ فرعون عموماً اپنی زندگی میں ہی اپنا مقبرہ بنانا شروع کر دیتے تھے تاکہ بعد از وفات انہیں رہائش کا مسئلہ نہ پیش آئے۔
مصریوں کا عقیدہ تھا کہ مردے کی روح بھٹکتی رہتی ہے اور کچھ مدت بعد وہ واپس زندہ ہو گی۔ لیکن زندہ رہنے کے لئے اسے جسم کی ضرورت ہو گی۔ اس لئے وہ جسم کو محفوظ کرنے کے لئے اس کی ممی بنا دیتے تھے اور اس کے ساتھ خوب مال و دولت اور کھانے پینے کا سامان بھی دفن کرتے تھے تاکہ دوبارہ زندہ ہونے کے بعد روح کو کھانے پینے کی تنگی نہ اٹھانی پڑے۔
رعمسیس کے وقت تک فرعونوں کو یہ علم ہو چکا تھا کہ چوروں کو دور سے ہی صحرا میں کھڑا اہرام دکھائی دے جاتا ہے اور وہ اسے لوٹنے پہنچ جاتے ہیں۔ اس لئے فرعونوں کے مقبرے چھپانے کا رواج ہو چکا تھا۔ رعمسیس نے ایک بڑا سا اہرام بنانے کی بجائے مصر سے لے کر فلسطین تک مختلف بڑی عمارات بنائیں اور ان پر اپنا نام ویسے ہی کندہ کروا دیا جیسے شاہراہ قراقرم پر سینیٹر طلحہ محمود کا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے ساتھ اپنے مجسمے بھی بنوا کر لگا دیے۔ رعمسیس کی تعمیرات میں ابوسنبل کے مشہور مندر بھی شامل ہیں۔
ساری زندگی تو رعمسیس نے بہت رعب داب سے گزاری مگر فوت ہونے کے بعد اس کے شاہی دبدبے میں کچھ کمی آ گئی۔ نتیجہ یہ کہ چوروں کو جب بھی پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی تو رعمسیس کے مقبرے سے لے آتے تھے۔ پروہتوں نے فرعون کو ادھر ادھر کر دیا تاکہ چور رعمسیس دی گریٹ کی شان میں مزید گستاخی نہ کریں۔ پروہت رعمسیس کی ممی کی پٹیوں پر ہی اس شاہی نقل و حرکت کا ریکارڈ رکھتے رہے۔ آخر کار 1881 میں رعمسیس دوم کی ممی ایک پروہت پینیجم کے مقبرے سے دریافت ہوئی۔
اس کے بعد رعمسیس دوم کی خوب نمائش کی گئی۔ کبھی کھڑا کر کے دکھایا گیا کبھِی ممی کی پٹیاں اتار کر گھمایا گیا۔ بہرحال 1976 میں قاہرہ میوزیم والوں کو پتہ چلا کہ شاہ صاحب کے اوپر اب جراثیم، کیڑے مکوڑے اور پھپھوندی نے حملہ کر دیا ہے۔ ان امراض سے ممیوں کو بچانے والے ماہر صرف پیرس میں دستیاب تھے۔
فرعون کو پیرس بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ اب یہاں دو روایات ہیں۔ پہلی یہ کہ فرانس کا اس وقت قانون تھا کہ بندہ چاہے زندہ ہو یا مردہ، فرانس میں داخلے کے لئے اس کے پاس پاسپورٹ ہونا ضروری تھا۔ دوسری یہ کہ نپولین کی مصر میں لوٹ مار کے بعد سے مصریوں کی یہ رائے بن چکی تھی کہ فرانسیسی چور اچکے ہیں اور وہ ان کے سب سے بڑے فرعون کو دبا کر بیٹھ سکتے تھے۔ اس لئے انہوں نے باقاعدہ پاسپورٹ بنا کر رعمسیس کی ممی کو اس پر سفر کروایا تاکہ فرانسیسی ہیرا پھیری کرنے کی کوشش کریں تو مصری ان سے اپنا بادشاہ واپس مانگ سکیں۔
بہرحال جو بھی روایت درست ہے، رعمسیس دوم کا پاسپورٹ بنایا گیا جس پر پیشہ درج کیا گیا ”فرعون، آنجہانی“۔ رعمسیس دوم کا جہاز پیرس پہنچا۔ اب فرانس کا قانون کہتا تھا کہ بادشاہ خواہ زندہ ہو یا مردہ، اسے شاہی پروٹوکول ملنا لازم ہے۔ اس لئے پاسپورٹ پر سفر کرنے والے اس مردہ فرعون کو وہی پروٹوکول دیا گیا جو زندہ سربراہان مملکت کو دیا جاتا ہے۔ چند ماہ بعد فرعون کا خاطر خواہ علاج کر کے اسے واپس مصر بھیج دیا گیا۔ یوں تین ہزار برس قبل پیدا ہونے والے شخص کو آج کے زمانے کا پاسپورٹ بنا کر دیا گیا اور اس پر سفر کروایا گیا۔
ہمارا گمان ہے کہ جب فرعون رعمسیس دی گریٹ کو قاہرہ کے ائیرپورٹ سے پیرس بھیجا گیا ہو گا تو کارگو والے ٹرمینل سے بھِیجنے کی بجائے ائیر کنڈیشنڈ وی وی آئی پی لاؤنج سے ہی بھیجا گیا ہو گا اور جہاز کے انتظار میں ادھر رعمسیس دوم نے ویسے ہی لیٹ کر وقت گزارا ہو گا جیسے ہم عالمی ائیرپورٹس پر عام مسافروں اور بہت بڑے آدمیوں کو بھی کو گزارتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں جو تصویر آتی ہے وہ دکھا دیتے ہیں۔(ختم شد)۔





