کھینواری: برٹش دور کی اجڑی ہوئی میراث
یہ اکتوبر کی کوئی درمیانی دوپہر تھی اور ہم چار دوستوں کا مختصر قافلہ سانگھڑ سے کچھ دور نارا کینال کے دائیں جانب برٹش دور کی اس یادگار کو دیکھنے چل پڑا تھا، جس یادگار کو آج ایک اجڑا ہوا دیار کہا جاتا ہے۔ سندھ کے انتہائی مشرق میں جو صحرا ہے اس کو ”اچھڑو تھر“ اس وجہ سے بولا جاتا ہے کہ وہاں کے جغرافیائی خد و خال اور لینڈ اسکیپنگ سندھ کے بالائی مشرقی صحرائے تھر سے بالکل مختلف ہے۔ وسیع و عریض ریتلے میدان، جن کو بہتا ہوا صحرائی سمندر بھی کہا جاتا ہے۔
اس ”اچھڑو تھر“ کی اسی جغرافیائی خصوصیت کی وجہ سے ہی انگریزوں کے خلاف لڑی جانے والی ”حر گوریلا موومینٹ“ نے اس کو اپنا مسکن بنایا تھا۔ ”مکھی بیلا“ جو ایک گھنا جنگل ہے، وہاں سب وہ لوگ اکٹھے ہو چکے تھے، جو پیر صبغت اللہ شاہ راشدی دوئم المعروف ”سورہیہ بادشاہ“ کے وہ غازی حر مجاہد تھے، جنہوں نے برٹش ایمپائر کو ”کوئیٹ سندھ“ اور ”وطن یا کفن، آزادی یا موت“ جیسے سنگین نعرے کی بناء پہ للکارا تھا۔ برٹش گورنمنٹ نے انہی شورشوں کا قلع قمع کرنے کے لئے 1942 ع میں ”حر مارشل لاء ایکٹ“ نافذ کیا۔
”سورہیہ بادشاہ“ کی گرفتاری کے بعد لاتعداد حر مجاہد پھانسی کے تختے پر جھول گئے۔ ایچ۔ ٹی لیمبرک حیدرآباد کا کمشنر تھا۔ جس کو حر تحریک کو کچلنے کا کام سونپا گیا تھا۔ برصغیرکی کسی جگہ پر اگر پہلا انتظامی مارشل لاء لگا تھا تو وہ سانگھڑ کا علاقہ ہی تھا اور پھر اسی ایکٹ کے ذریعے انگریز نے قانون سازی بھی کی اور حر لفظ کے معنی دہشت گرد قرار دیے گئے۔
ایک طرف سانگھڑ اور سندھ کے کچھ اور حصے میں یہ مارشل لاء نافذ رہا تو دوسری جانب حر مجاہدوں نے اپنی گوریلا کارروائیاں جاری رکھیں۔
20 اور 21 مئی 1942 ع کی درمیانی شب کو صحرائے تھر سے گزر کر ہندوستان جانے والی ریل گاڑی پر حملہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ”اچھڑو تھر“ میں ایچ۔ ثی لئمبرک پہ بھی حروں کی ایک بڑی جماعت نے حملہ کیا لیکن وہ بچ نکلا۔
کھینواری وہ جگہ ہے جہاں برٹش انتظامیہ نے اپنے مارشلا لاء ایڈمن کے لئے ایک مضبوط پناہ گاہ بنائی ہوئی تھی۔ جس کو اس وقت پولیس ناظم غلام رسول شاہ کی تحویل میں دیا ہوا تھا۔ غلام رسول شاہ پہ یہ بھی الزام تھا کہ اس نے ہی ”سورہیہ بادشاہ“ کو گرفتار کیا تھا۔
کھینواری کا معرکہ حر تحریک میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔
ابھی حال ہی میں ایک سو اکیس برس عمر پا کر وفات کر جانے والا ”میوو فقیر کارڑو“ نے بھی کھینواری کے معرکے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس نے بتاتے ہوئے کہا تھا کہ:
” 16 مارچ کو خیرپور ریاست کے پولیس ناظم غلام رسول شاہ نے حروں کو للکارا، کھینواری کے مقام پر مقابلہ ہوا۔ فجر کے وقت ہونے والی لڑائی میں 5 پولس والوں کے ساتھ ناظم بھی مارا گیا تو ہمارے 6 حر مجاہد بھی شہید ہوئے۔ ناظم کے مرنے کے بعد اس معرکے کے کمانڈر حر مجاہد سید مصری شاہ کو گرفتار کر کے سکھر جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ “
اس عظیم معرکے کے آثار کچھ سال پہلے تک مکمل صورت میں موجود تھے، لیکن افسوس کہ اب یہ آثار اپنی اصل حالت میں باقی نہیں رہے ہیں۔ وہاں سے دروازے اور کھڑکیاں اکھیڑی جا چکی ہیں۔ خالی اینٹوں کی دیواریں ایک عظیم معرکے کی یاد اب بھی سلامت رکھے ہوئی ہیں۔
وہاں تک پہنچنا بھی اس لئے دشوار ہے کہ سیم کے پانی میں اگنے والی گھاس اور ”پن“ نے اس یادگار جگہ کو چاروں اطراف سے گھیر کے رکھا ہوا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تاریخی عمارت کو بچانے کے لئے ہنگامی بنیاد پہ اقدام اٹھائے جائیں۔





