کیا آپ حجابی عورتوں سے ہاتھ ملاتے ہیں؟
کل شام جب میں مسی ساگا کے ایک رسٹورانٹ میں اپنی ایک ادیبہ دوست کے ساتھ ڈنر اور فلسفیانہ ڈائلاگ سے محظوظ ہو رہاتھا تو میں نے کیا دیکھا کہ ہماری ساتھ والی میز پر چند حجابی خواتین خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔ جب ہم گھرجانے لگے تو ان میں سے ایک حجابی دخترِ خوش گل بڑے تپاک سے میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں
’آپ ڈاکٹر سہیل ہیں‘
’جی ہاں‘ میں نے مختصر جواب دیا
”میں ’ہم سب‘ پر آپ کے کالم بڑے شوق سے پڑھتی ہوں اور اگلے کالم کا انتظار کرتی ہوں ’
’ یہ میری خوش بختی ہے۔ کیا آپ بھی ایک لکھاری ہیں؟ ‘
’جی ہاں۔ میں بھی کبھی کبھار کالم لکھتی ہوں‘
’ آپ اپنا نیا کالم مجھے بھیجیے گا۔ میں ضرور پڑھوں گا‘
’بہت بہت شکریہ‘
ڈنر کے بعد جب میں ہائی وے پر اپنے گھر کی طرف سفر کر رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ پچھلے چند برسوں میں میرا حجابی عورتوں کے بارے رویہ کس قدر بدلا ہے۔ آج میں آپ سے چند واقعات شیر کرنا چاہتا ہوں جو اس رویے کی تبدیلی کا سبب بنے۔
آج سے دس برس پیشتر میں ٹورانٹو کی ایک ادبی محفل کا میزبان تھا۔ جو بھی محفل میں آتا میں اس کا مسکرا کر اور تپاک سے ہاتھ ملا کر استقبال کرتا۔ پھر ایک حجابی خاتون آئیں۔ میں نے ہاتھ آگے بڑھایا تو کہنے لگیں ’میں آپ سے ہاتھ نہیں ملا سکتی‘
’وہ کیوں؟ ‘ میں متجسس تھا۔
’اسلام میں نامحرم سے ہاتھ ملانے کی اجازت نہیں‘
میں مسکرا کر علیحدہ ہو گیا۔
جب محفل ختم ہوئی اور سب دوست میرے ساتھ تصویریں اتروانے لگے تو وہ حجابی خاتون بھی آئیں پوچھنے لگیں
’کیا میں آپ کے ساتھ تصویر کھنچوا سکتی ہوں؟ ‘
’زہے نصیب‘ میں مسکرایا اور وہ میرے کافی قریب ہو کر کھڑی ہو گئیں۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کیا نامحرم کے ساتھ ہاتھ ملانا حرام لیکن تصویر کھنچوانا حلال ہے۔ لیکن خاموش رہا۔ میں انہیں شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس دن کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مغربی مردوں اور عورتوں کی طرح مشرقی مردوں اور عورتوں نے اپنے رشتوں میں اعتماد کی وہ فضا ابھی تخلیق نہیں کی جس میں ہاتھ ملانا مخلص دوستی کا آئینہ دار ہو سکے۔
اس واقعہ کے بعد میں نے خود حجابی عورتوں سے ایک جسمانی اور جذباتی فاصلہ رکھا تا کہ شرمندگی کی نوبت ہی نہ آئے۔ لیکن پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے مجھے اپنے موقف پر نطرِ ثانی کرنے پر مجبور کیا۔
پچھلے سال جب میں لاہور گیا تو ایک پروفیسر صاحب نے مجھے اپنے کالج میں لیکچر دینے کی دعوت دی
’کس موضوع پر؟ ‘ میں نے پوچھا
’مذہب اور جنس پر نہیں جدید ادب کے موضوع پر‘
میں جب لیکچر دینے کلاس روم میں پہنچا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ سب لڑکے دائیں طرف اور سب لڑکیاں بائیں طرف بیٹھی تھیں اور وہ سب برقعہ اوڑھے ہوئے تھیں۔ مجھے صرف ان کی آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔
لیکچر کے بعد سب لڑکیاں بڑی اپنائیت سے ایک غول بنا کر میرے قریب آ گئیں اور ایک برقعہ پوش لڑکی نے آگے بڑھ کر مجھ سے کچھ کہا۔ مجھے صرف دو الفاظ سنائی دیے ’سر‘ اور ’پک‘
میں نے وضاحت طلب کرتے ہوئے پوچھا
’کیا آپ مجھ سے کچھ کہنا چاپتی ہیں؟ ‘
کہنے لگیں ’سر! کیا میں آپ کے ساتھ ایک پکچر اتروا سکتی ہوں‘
’ ضرور‘ لیکن میں نے دل میں سوچا کہ تصویر آپ کی نہیں آپ کے برقعے کی آئے گی۔ تصویر کے بعد اس لڑکی نے برقعے کے اندر سے ایک ڈائری نکالی اور مجھ سے آٹوگراف مانگا۔ میں نے اپنا ایک شعر لکھ دیا
پھر اس کی سہیلی آگے بڑھی تصویر بنائی اور مجھے آٹوگراف کے لیے ایک کاپی دی۔ میں نے اس پر اپنا ایک اور شعر لکھ دیا
وقت اک بحرِ بیکراں خالدؔ
ہر ملاقات اک جزیرہ ہے
اس کے بعد باری باری باقی سب لڑکیوں نے نہ صرف میرے ساتھ تصویر اتروائی بلکہ آٹوگراف بھی لی۔ میں نے دل میں سوچا کہ اگر ایک تصویر کی ہی بہت سی فوٹوکاپیاں بنوا لیتیں تو اچھا ہوتا۔
مجھے یہ جان کر بھی حیرت ہوئی کہ برقعہ ان کا یونیفارم بن چکا تھا۔ مجھے اس دن احساس ہوا کہ پاکستان پچھلے پندرہ برس میں کتنا بدل چکا ہے۔
کالج کے اس تجرنے اور مشاہدے سے مجھے اندازہ ہوا کہ اس برقعے میں چھپی ہوئی نوجوان لڑکیاں نارمل تھیں جو شوخ بھی تھیں چنچل بھی۔ ادب دوست بھی تھیں اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کی خواہشمند بھی۔ برقعے سے ان کی معصوم خواہشات پسِ پردہ چلی گئی تھیں۔
پھر ایک اور واقعہ ہوا اور یہ واقعہ پاکستان میں نہیں کینیڈا میں ظہور پزیر ہوا۔ مجھے McMaster University کی ایک میڈیسن کی سٹوڈنٹ ماریا کا ای میل آیا کہ وہ میرے کلینک میں سائیکو تھیریپی کی ٹریننگ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ میں نے اس کی حجابی تصویر دیکھی تو ہچکچایا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے انسان دوستی کے فلسفے سے اس کی دل آزاری ہو۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ مجھے اس لڑکی کو موقع دینا چاہیے۔ چنانچہ میں نے اسے لنچ کی دعوت دی۔ وہ مجھے بڑے تپاک سے ملی مجھ سے ہاتھ ملایا اور میرے کلینک میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ میں اس طالبہ کے ذوق و شوق سے بہت متاثر ہوا اور میں نے اسے قبول کر لیا۔
ماریا نے اپنی ٹریننگ کے بعد اپنی سہیلی رافعہ کو مشورہ دیا اور اس سال رافعہ نے میرے ساتھ ٹریننگ کی اور اب انہوں نے میک ماسٹر کے ایک سیمینار میں مجھے دعوت دی ہے کہ میں گرین زون فلسفے سے باقی طلبہ و طالبات کو متعارف کرواؤں۔
پچھلے چند سالوں میں میں نے مغرب میں بسی بہت سی حجابی خواتین سے اس موضوع پر تبادلہِ خیال کیا ہے۔ اس مکالمے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مختلف ممالک اور معاشروں میں حجاب کی اہمیت اور معنویت مختلف ہے۔ وہی حجاب جو مشرق میں مذہب اور روایت کا آئینہ دار تھا وہ کئی مہاجر عورتوں اور ان کی بیٹیوں کے لیے مسلم شناخت اور مغرب کی ثقافت کے خلاف ایک بغاوت کا علمبردار بھی بن چکا ہے۔
اسی لیے اب میں حجابی عورت کو دیکھتا ہوں تو تصور کرتا ہوں کہ عین ممکن ہے کہ یہ خاتون ایک وکیل ’ڈاکٹر‘ انجینیر اور پروفیسر ہو۔ انگریزی کا قول ہے
NEVER JUDGE A BOOK BY ITS COVER
عورت تو ایک سراپا راز ہے چاہے اس نے حجاب پہنا ہو یا نہ پہنا ہو۔ ہم مردوں نے یہ سیکھنا کہ ہم ایسی فضا تخلیق کریں کہ عورتیں ہم پر اعتماد کریں اور فخر سے ہمیں اپنا ہمدرد دوست بنائیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ حجابی خاتون جنہوں نے دس برس پیشتر مجھ سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تھا اب میری دوست بن گئی ہیں۔ میری نگاہ میں وہ دوستی سپیشل ہے کیونکہ وہ دوستی ایک خدا کو ماننے والی اور ایک خدا کو نہ ماننے والے کی مخلص انسان دوستی ہے۔


