بہت جلد دنیا ”میر ا جسم میری مرضی“ کی منزل پہ ہوگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 یہ مسلمہ حقیقت ہے روٹی، کپڑا اور مکان ہی انسانی زندگی کا بنیادی محرک اور مقصد رہے ہیں۔ انسان اپنی ان بنیادی ضرورتوں کے حصول کے جو طریقہ کار اپنا تاہے اس کے مطابق اخلاقی قوائد وضع کرتا رہاہے۔ انسانی زندگی میں جیسے جیسے معاشی اور اقتصادی ذرائع تبدیل ہوتے رہے ویسے ویسے انسان کے اخلاق اور معاشرتی آداب بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ یعنی انسان جب کھانے، پہننے اور رہائش کے نت نئے طریقے ایجاد کرتا رہا ہے۔ تو پھر ا ن کے مطابق نت نئے آداب اور اخلاق بھی ترتیب دیتا رہاہے۔ انسان کی معاشی ضروریات کے لیے جدوجہد ہی اسے جنگلی سے خانہ بدوش، خانہ بدوش سے دیہاتی، دیہاتی سے شہری، اور پھر شہری سے گلوبل سیٹزن بنا تی آئی ہیں۔

انسان کی تما م تر اخلاقی اقدار دراصل اس کے اقتصادی معاملات کے زیر اثر ہیں۔ جب بھی انسان کی اقتصادیات تبدیل ہوتی ہیں اس کے ساتھ ہی اخلاقیات کے پیمانے بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب تک انسان نے کپڑا نہیں بنایا تھا تب تک فحاشی کا تصور بھی پیدا نہیں ہو ا تھا۔ جب تک انسان نے زمین سے اناج کاشت کرنا نہیں سیکھا تھا۔ تب تک زمین کی ملکیت اور تقسیم کا بھی کوئی قاعدہ نہیں تھا۔ جب انسان جنگلوں میں رہتا اور درختوں پر لگے پھلو ں پر گزر اوقات کرتاتھا۔

تب چوری کا تصور اور اخلاقی بندشیں بھی نہیں تھیں۔ انسان ایک جنگل کے سوکھنے کے بعد دوسرے جنگل کی طرف رخ کرنے لگا تو جنگلی سے خانہ بدوش بن گیا۔ اس خانہ بدوش نے جب مویشیوں سے دودھ اور گوشت حاصل کرنے کا طریقہ سیکھ لیا تو جانوروں پر ملکیت کے حقوق بھی وضع کرلیے۔ یہی خانہ بدوش جب زمین سے اناج اگانے لگا تو ایک جگہ بسنے لگا یوں گھر اور بستیاں بنانے لگا۔ یوں انسان نے اپنے پرانے جنگلی اور خانہ بدوش زندگی کے طریقے ختم کرکے نئے طور طریقے اپنا لیے۔

سو رہائش، ملکیت اور حد بندی کے احساس نے جنم لیا اور اب چادر اور چار دیواری کا تصور احترام بھی پیدا ہوگیا۔ اب اس جنگلی اور خانہ بدوش کے کھانے، پہننے اور رہنے کے طور یکسر تبدیل ہوئے۔ اور ایک نئی اخلاقیات نے جنم لیا۔ خاندان کی اہمیت اور قدر و منزلت میں اضافہ ہوا۔ چوری، زنا، لوٹ مار جیسے افعال قابل ِ مذمت قرار پانے لگے۔ یہاں سے آگے جب انسان نے صنعتی دور میں قدم رکھا تو ایک بار پھر اس کی اخلاقیات نے نئی کروٹ لی۔

وہ دیہاتی سے شہری بنا خاندان سے اداروں تک پہنچا تعلیم، تربیت، کھانے پینے، کپڑے بنانے تک ہر کام خاندانوں سے نکل کر اداروں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ ا ب صنعتی دور نے انسا ن کے رہائش، کھانے اور پہننے کے آداب پھر سے تبدیل کردیے۔ اناج اگانے کی بجائے اناج خریدنے والا بن گیا۔ اب تفریح طبع کے لیے شام کو چوپال کی جگہ کلب نے لے لی۔ بوڑھی خواتین کی کہانیوں کی جگہ ٹی وی نے لے لی۔ صنعتی دور میں خاندان کی حیثیت پہلے جیسی نہیں رہی اور خاندان کا بڑا ہونا کوئی تفاخر کی بات بھی نہیں رہی، دھوتی کرتے، شلوار اور لمبی پشواز کی جگہ جینز زیادہ موزوں ہوگئی، کڑاہی اور کباب کی بجائے برگر اور پیز ا زیاد ہ کھایا جانے لگا۔

یوں ہر دور میں انسان کی تما م تر اخلاقیات کا مرکز اس کی معیشت رہی ہے۔ ا ن تبدیلیوں کو کسی نے ترقی سمجھا اور کسی نے روایت سے انحراف، کسی نے بے راہ روی اور کسی نے بے شرمی و فحاشی ! دراصل ایک انسان جس دور میں رہ رہا ہے اسے اپنے سے پچھلے دور کے لوگ جاہل لگتے ہیں اپنے سے اگلے دور کے لوگ بے راہ رو۔ ایک خانہ بدوش کے لیے ایک جنگلی کی زندگی جہالت اور نادانی کا دور ہے، ایک دیہاتی کی نظر میں خانہ بدوش کی زندگی محض آوارگی اور بد اخلاقی ہے، ایک شہر ی کے لیے دیہاتی کی زندگی ایک محدود، سادہ اور کم عقلی کی زندگی ہے۔

اور اب ایک گلوبل سٹیزن کے لیے ایک صنعتی دور کے شہر ی کی زندگی کنویں کے مینڈ ک کی سی ہے جو ساری زندگی ایک ملک میں رہ کر گزار دیتاہے۔ ان حقائق کے پیش ِ نظر جب ہم اپنے معاشرتی اخلاقیات کا جائزہ لیں تو یہ صورتحال واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے نوے فیصد عوام زرعی معاشرے کے لوگ ہیں جن کی پچھلی کئی نسلیں زراعت سے جڑی ہیں۔ اس لیے پچھلی کئی نسلوں سے ہم زرعی معاشرے کے قوانین اور ضوابط کو ہی درست، اٹل اور بعض اوقات الہامی سمجھ رہے ہیں۔

ہمیں ایک ایسی دیہاتی زندگی بابرکت اور پرسکون محسوس ہو تی ہے۔ جس میں خاندانی زندگی، چوپال کی رونق، چادر اور چار دیواری کا تقدس، زمیندار اور غیر زمیندار کا طبقاتی فرق، بزرگوں کی نصیحتیں موجود ہوں۔ ہمیں وہی لباس وہی کھانے اور وہی انداز گفتار و اطوار نیک، مہذب اور شائسہ لگتے ہیں جو ایک زرعی معاشرے نے صدیوں سے ترتیب دے رکھے ہیں۔ اس زرعی زندگی سے پیچھے کی زندگی ہمیں دور جہالت لگتی ہے اور آگے کی صنعتی زندگی بے راہ روی اور بد تہذیبی !

مشہور زمانہ سکالر ایلو ن ٹوفلر اپنی کتاب موج ِ سوم میں اس تہذیبی سفرکو بہت تفصیل سے بیا ن کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انسا ن جو اپنے معاشی ارتقا ء کی منازل طے کرتا ہوا صنعتی دور تک پہنچا ہے اب بہت جلد ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گا جسے معلومات کے تبادلے کا دور کہا جائے گا۔ اور یہ دور اپنے ساتھ نئی اخلاقیات لے کر آئے گا جو یقینا صعنتی دور کے لوگوں کے لیے بے راہ روی قرار پائیں گی۔ تعلیم و تربیت جو خاندا ن سے نکل کر اداروں کے ہاتھ میں پہنچی تھی۔

اب اداروں سے نکل کر الیکڑونک گیجٹس کے ہاتھ میں چلے جائے گی۔ خاندا نی زندگی جو مختصر ہوکر ایک گھرانے تک آئی تھی اب بے گھر ہو جائے گی۔ تمام معمولات ِ زندگی مستقل نوعیت کی بجائے عارضی ہو جائیں گے۔ دوستیاں، نوکریاں، رہائش سب کچھ عارضی ہو جائے گا۔ لوگ جیسے ہی ایک نوکری سے دوسری نوکری تبدیل کریں گے، جیسے ایک شہر سے دوسرے شہر اپنے رہائش تبدیل کریں گے۔ ساتھ ہی تعلقا ت بھی تبدیل ہو جائیں گے جن شادی جیسے اہم تعلقات بھی شامل ہوں گے۔

لوگ نئی عارضی شادی کے لیے اپنے سی وی پہ پچھلی کامیاب عارضی شادیوں کا حوالہ درج کریں۔ یقینا اس پیشن گوئی کی ابتدائی جھلک ترقی یافتہ معاشروں میں ہمیں نظر آرہی ہے۔ ایلون ٹوفلر کی بات کو اگر آسان الفاظ میں سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ بہت جلد دنیا ”میر ا جسم میری مرضی“ کی منزل پہ ہوگی۔ یہ سب اس دور کے اقتصادی نظام کے عین مطابق ہوگا ہمارے اقتصادی اور اخلاقی معیار تک فرسودہ ہو چکے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •