عوام کے پیسوں کی لوٹ کھسوٹ: احمد شاہ ابدالی سے آغا سراج درانی تک


سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی ان دنوں آمدن سے زائد اثاثوں بنانے کے مقدمے میں زیر حراست ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے سراج درانی پر جو الزامات عائد کیے ہیں ان میں حکومتی خزانے میں غبن کر کے جائیدادیں اور اثاثے بنانے شامل ہیں۔ حکومتی خزانہ محصولات کے ذریعے بھرا جاتا ہے جو عوام سے وصول کیے جاتے ہیں۔ مختلف ٹیکسوں کی مد میں حکومتی خزانے میں شامل ہونے والی رقوم کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جانا چاہیے کیونکہ آئین کے مطابق یہ دراصل عوام کا اپنا پیسہ ہے جو ان پر ہی خرچ ہونا چاہیے۔

سراج درانی نے عوام کے پیسے میں غبن کیا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔ تاہم عدالت میں سراج درانی کے وکیل نے اپنے موکل کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے دلائل کے انبار لگا دیے ہیں۔ گزشتہ سماعت میں سراج درانی کے وکیل نے اپنے موکل کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے سراج درانی کا شجرہ نسب بھی عدالت کے سامنے گوش گزار کیا۔

یاد رہے کہ سراج درانی سندھ کے ضلع شکار پور سے صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ہیں۔  سراج درانی نسلاً پٹھان ہیں اور درانی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سراج درانی کے وکیل نے اسی خاندانی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کے گوش گزار کیا کہ وہ وہ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور نیب ان کے موکل کی شہرت کو داغدار کرنے کے درپے ہے۔ سراج درانی کے وکیل نے کہا کہ ملزم کے آباء و اجداد افغانستان کے اٹھارویں صدی عیسوی کے حکمران احمد شاہ درانی المعروف احمد شاہ ابدالی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو 1747 سے 1772 تک افغانستان کے حکمران رہے۔

 احمد شاہ ابدالی تاریخ کا معروف کردار ہے۔ جب بھی احمد شاہ ابدالی کا نام آتا ہے تو ذہن میں ہندوستان پر ان کے حملے تازہ ہو جاتے ہیں۔ احمد شاہ ابدالی کے ہندوستان پر حملوں کے بارے میں موضوع کو فقط عوام کے پیسے تک کی محدود رکھتے ہیں۔ مشہور وکیل اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن کی تصنیف ”Indus Saga“ وادی سندھ کی تہذیب پر ایک باکمال تاریخی دستاویز یے۔ اعتزاز احسن جب وادی سندھ کی تہذیب پر لکھتے ہیں تو اس سے مراد آج کے سندھ کی صوبائی جغرافیائی حد بندی نہیں ہے یہ تہذیب سندھ دریا کے ساتھ پھلنے پھولنے والی وہ تہذیب تھی جو موجودہ خیبرپختونخوا سے لے کر پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے خطوں پر مشتمل تھی۔

اعتزاز احسن لکھتے ہیں ”وادی سندھ کے باشندوں میں دنیا کے دوسرے خطوں کے برعکس بچت کی عادت ناپید ہے۔ اس عادت کے پنپنے میں یہاں کے باشندوں کے تاریخ شعور میں رچی ہوئی تلخ یادیں ہیں“۔ تیمور، بابر، نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی جب جب اس علاقے پر حملہ اور ہوئے انہوں نے وادی سندھ کے باشندوں کی نفسیات میں گہرے نقوش ثبت کیے۔ یہاں کے باشندوں کی نفسیات میں یہ خوف بیٹھ گیا کہ اپنی جمع پونچی بچانے کی بجائے اسے خرچ کر دینا ہی بہتر ہے کیونکہ حملہ اور فوجیں وادی سندھ کو روندنے کے علاوہ یہاں کے باشندوں کی فصلوں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ڈھورڈنگر اور مال و زیورات بھی لوٹ کر لے جائیں گے۔

جب حملہ آوروں نے ہر شے کو لوٹ کر لے ہی جانا ہے تو پھر اپنی خون پسینے کی کمائی بچا کر کیا کرنا ہے۔ وادی سندھ کے باشندوں کی نفسیات میں موجود یہ خوف ہی تھا کہ جس نے یہاں مقامی زبان میں شعری سخن میں ڈھلے محاورے کو جنم دیا کہ کھادا پیتا لاہے دا تے باقی احمد شاہے دا یعنی جو کچھ کھا پی لو گے وہ تمھارا ہے جو باقی بچا کر رکھو گے وہ احمد شاہ (ابدالی) کا ہے آج سندھ کے اسپیکر سراج درانی کے خلاف جب نیب نے انہیں سندھ کے عوام کے پیسوں کی لوٹ کھسوٹ پر مورد الزام ٹھہرایا تو ان کے وکیل نے انہیں احمد شاہ ابدالی کے خاندان کا فرد ہونے پر ایک معزز فرد قرار دیا۔ احمد شاہ ابدالی کے کردار کو ذکر آیا تو پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اعتزاز احسن یاد آئے جن کے بقول احمد شاہ ابدالی وادی سندھ کے باشندوں کی جمع پونچی پر ہاتھ صاف کرتا تھا۔

Facebook Comments HS