مال روڈ کی خاک چھانتے اساتذہ


126 دن کا دھرنا پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہ بھولا جانا والا دھرنا ہوگا۔ اس تاریخی ریکارڈ کو شاید ہی کبھی ٹوٹنے کا موقع ملے۔ اس دھرنا کے بعد پورے پاکستا ن میں ایسی دھرنا سیاست کا آ غاز ہوا، کہ اب سندھ، بلوچستان، کے پی کے ہو یا پھر آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب کی بات ہو۔ غرض کہ پورا پاکستان ایسی سیاسی کی گرفت میں پھنسا ہواہے۔ کسی بھی مکتبہ فکر لوگوں کو جب اپنی بات منوانے کی ضرورت پڑی تو انہوں نے صوبائی دارلخلافہ کا رخ کیا۔

سندھ، بلوچستان یا کے پی کے میں دھرنہ دہو تو وزیر اعلی ہاوٗس کا رخ کیا جاتا ہے۔ اور پنجاب میں پنجاب اسمبلی کے ایوان کوراہ حق بنایا جاتا ہے۔ لاہور کی مشہور و معروف شاہرا ہ مال روڈ نہ جانے کتنے جلسے جلوسوں اور دھرنوں کے مناظر اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ ان دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے دوران اب تک لاکھوں چہروں پہ پھیلی مایوسی، تلخی اور کامیابی کی رودادیں دیکھ چکا ہے۔ کئی دکھوں، خوشیوں اور دل جوئیوں کے ہنگامے خود میں سمیٹے یہمال روڈ اب تک رواں دواں ہے۔ خدا اس شاہراہ کو ہمیشہ شاد اور آباد رکھے۔

جینا ہوگا مرنا ہوگا۔ حق لے کے اٹھیں گے۔ ہے حق ہمارا پے پروٹیکشن، ہے حق ہمارا پرموشن۔ ہے حق ہمارا پرموشن کا پانچ درجاتی فارمولا۔ اور استاد کو عزت دو کے نعروں سے مزین بینرز اور گونجتی آوازیں پنجاب اسمبلی ہاؤس کے سامنے گزشتہ پانچ دنوں سے دھرنا دیے بیٹھے پنجاب بھر سے آئے کالج اساتذہ اپنے حق کے لئے دن رات مال روڈ کی زینت بنے بیٹھے ہیں۔ علم بانٹنے والے اور پیغمبری پیشہ کو اپنائے یہ اساتذہ بھی دھرنا سیاست کو اوڑھے حکام بالا کو جگانے کی کوشش میں سرکردہ ہے۔

اس امید میں ہیں کہ گزشتہ کئی سالوں سے التوا کا شکار اساتذہ کے مسائل شاید اس طرح ہی حل ہو جائیں۔ لیکن مسائل سے دوچار انصاف کی حکومت ابھی تک ان قوم کے معماروں کے مسائل حل کرنے اورانصاف فراہم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ اتھارٹیز کی اس بے حسی کو دیکھتے ہوئے کالج اساتذہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کا یہ دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

دنیا کے مہذب ممالک میں استاد کو جو مقام حاصل ہے وہ شاید اس پاک سرزمین میں کبھی بھی میسر نہ آسکے۔ کیونکہ ہماری ترجیحات میں تعلیم سرے سے ہی نہیں ہے۔ معیاری تعلیم کسی بھی ملک کے لئے پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ جن قوموں نے تعلیم کو اپنا معیار اور اوڑھنا بچھونا بنایا، وہ آج اس دنیا میں اعلی مقام رکھتی ہیں۔ ایجادات، تخلیقات اور تعمیرات انہی قوموں کا خاصہ ہوتی ہیں، جنہوں نے معیاری اور ہر بچے کے لئے مفت تعلیم کو اپنا شعار بنایا ہے۔

جہاں معیاری تعلیم ترقی و کامرانی کی ضامن ہے۔ وہیں معاشرے کی تکمیل ایک استاد کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی حقیقت کو جاننے کے بعد مہذب ملکوں نے استا د کو عزت اور اعلی مقام دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑرکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اشفاق احمد اشفاق اٹلی کی عدالت میں اپنی گاڑی کے چا لان کی وجہ سے پیش ہوتے ہیں تو جج کو معلوم ہونے پہ کہ ایک استاد کورٹ میں داخل ہواہے۔ آواز لگاتا ہے کھڑے ہو جائیں۔ کورٹ میں استاد موجود ہے۔ اور جج سمیت تمام لوگ عزت واحترام کے ساتھ کھڑے ہوکے استاد کو جتاتے ہیں کہ آپ بہت بڑے انسان ہیں۔ پھر ایسی قومیں کیونکر نہ ترقی کریں۔ کیونکر نہ اس دنیا کو تسخیر کریں۔

لیکن یہاں حالات ہی کچھ اور ہیں۔ استادکو عزت اور اعلی مقام تو کیا، اسے اس کے جائز حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ اور اسے اپنا حق منوانے اور لینے کے لئے دار الحکومت کی سڑکوں کو بند کرنا پڑتا ہے۔ اپنے مرتبے کوکلاس رومز کی زینت بنانے کے ساتھ سڑکوں کی خاک بھی چھاننا پڑتی ہے۔ لیکن بھلا ہو پاکستانی معاشرے میں ان طبقات کا جو یہ سمجھتے ہیں کہ استاد کی عزت اور مقام بہت اعلی ہونا چاھئے۔ او ر ہر روز اپنے استاد کو عزت بخشنے اور دل جوئی کرنے مال روڈ پہنچتے ہیں۔

اور جتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ چاہے یہ اتھارٹیز استاد کے مقام کو نہیں سمجھتے لیکن ہم سمجھتے ہیں اور اس بات کو دل سے مانتے ہیں۔ ان میں سے جہاں کسی انفرادی شخص کی بات ہے وہیں عوامی ورکرز پارٹی، برابری پارٹی، رواداری تحریک پاکستان، وکلاء برادری، پراگریسو سٹوڈنٹس الائنس، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی نہ صرف ہمدردیاں شامل ہیں، بلکہ اس بات کو مانتے ہیں کہ معاشرے کی بہتری استاد کے بغیر ناممکن ہے۔ تخلیقی ذہن کی آبیاری تبھی ممکن ہے اگر اسے مسائل سے آزاد ماحول میسر ہو۔ اور ایساماحول پیدا کرنا اشد ضروری ہے۔ ورنہ تخلیقی ذہن یونہی سٹرکوں کی خاک چھانتے ہی نظر آئیں گے۔

Facebook Comments HS